BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 September, 2007, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قیدی تخت لاہور کے‘

قوم پرست ’لاپتہ‘ فرد کی ڈائری
نواز خان زؤر آجکل حیدرآباد میں اپنے ساتھیوں کےساتھ قید ہیں
پاکستان میں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت اب بھی سپریم کورٹ میں جاری ہے اور عدالت نے ان تمام افراد کی رہائی کا حکم دیا ہے جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کی غیر قانونی حراست میں ہیں۔

دوسری جانب لاپتہ افراد کے سلسلے میں صدر مشرف کا ایک ایسا بیان بھی جاری ہوا جس میں لاپتہ افراد کا تعلق مذہبی شدت پسند تنظیموں سے بتایا گیا۔صدر کا کہنا تھا کہ وہ لوگ افغانستان میں جہاد کرنے گئے تھے، لیکن سندھ اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے ورثاء کا کہنا تھا کہ وہ قوم پرست سیاسی کارکن ہیں جنہیں خفیہ ایجنسیوں نے اپنی غیر قانونی حراست میں رکھا ہے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنیسوں کے ان خفیہ تفتیشی مراکز میں قیدیوں کو کن حالات میں رکھا جاتا ہے اس کی ایک جھلک سندھی زبان میں شائع ہو نے والی ایک کتاب میں ملتی ہے۔

ٹارچر سیل کی کتھا ایک ایسے سندھی قوم پرست کارکن نواز خان زؤر نےلکھی ہے جو اکتیس دسمبر دو ہزار پانچ سے ’لاپتہ‘ بن گیا۔

نواز خان زؤر کا تعلق ’جئے سندھ متحدہ محاذ‘ نامی ایک قوم پرست جماعت سے ہے اور وہ شاعر اور صحافی بھی ہیں۔

انہیں دو ہزار پانچ میں کراچی سےجامشورو بذریعہ بولان میل ٹرین آتے ہوئے ایک ویران مقام پر ٹرین روک کر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دس ماہ تک پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے مبینہ طور پر خفیہ تفتیشی مرکز یا ٹارچر سیل میں زیر حراست رہے۔

مقامی گوانتانامو
 ایک سو تیرہ صفحات پر مشتمل نواز خان زؤر کی روداد پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں مقامی گوانتانامو کا تذکرہ ملتا ہے

ایک سو تیرہ صفحات پر مشتمل ان کی روداد پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں مقامی گوانتانامو کا تذکرہ ملتا ہے۔انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان ’قیدی تخت لاہور کے‘ رکھا ہے۔

نواز خان نے اپنی ڈائری وقت، دن اور تاریخ کےلوازمات سے بری ہو کر لکھی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو دس ماہ کی پوری داستان سمجھا جائے کیونکہ حراست کے دنوں میں انہیں کاغذ اور قلم میسر نہیں تھا۔

کتاب میں انہوں نے حراست کے دنوں میں ہو نے والے تشدد کو تفصیل سے لکھا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ تفیشی مرکز پہنچانے سے قبل ان کی آنکھوں پر کالے رنگ کے کپڑے کی تین پٹیاں کس کے باندھ دی جاتی ہیں۔پٹیوں کے اوپر پھانسی کے قیدیوں جیسی کالی ٹوپی پہنائی جاتی ہے تا کہ کوئی نقل و حرکت دیکھنے کا موقع نہ ملے۔

کتاب میں خفیہ ایجنیسوں کے افسران کا تفتیشی انداز فاتحانہ حاکم جیسا بتایا گیا ہے۔ نواز نے لکھا ہے کہ انہیں اپنی کھولی سے دو اہلکار سہارا دے کر تفیشی کمرے میں لے جاتے، ان کی آنکھوں پر تین کالے کپڑوں کی پٹیاں ہوتیں اور انہیں زمین پر افسران کے قدموں نیں بٹھا دیا جاتا۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ نواز کو اپنی کھولی کے اندر بھی آنکھوں سے پٹیاں ہٹانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ ’ کالی پٹیاں میرے اعصابوں پر بدتر اثرات مرتب کر رہی ہیں، یہ پٹیاں مجھے چوبیسوں گھنٹوں پریشان کرتی رہتی ہیں۔‘

یہ کفر نہیں ہے؟
 تم سندھی سارے کافر ہو، تمہاری شاعری میں بھی کفر ہے۔ تمہارے شاعر لکھتےہیں اے خدا تو نیچے اتر کر آ اور اپنا بنایا دیس دیکھ ، یہ کفر نہیں ہے؟ تم کافر حکمران راجہ ڈاہر کو شہید اور محمد بن قاسم کو غاصب سمجھتے ہو
تفتیشی افسران

انہوں نے خفیہ ایجنسیوں کے افسران کا تفتیشی انداز بھی لکھا ہے جو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پائے جانے والے تعصبات کی عکاسی کرتا ہے۔کتاب میں چند مکالمات کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے۔

’تم سندھی سارے کافر ہو، تمہاری شاعری میں بھی کفر ہے۔ تمہارے شاعر لکھتےہیں اے خدا تو نیچے اتر کر آ اور اپنا بنایا دیس دیکھ ، یہ کفر نہیں ہے؟‘

’تم کافر حکمران راجہ ڈاہر کو شہید اور محمد بن قاسم کو غاصب سمجھتے ہو۔‘

’تم سندھی نا اہل ہو اپنے گاؤں سے باہر نکل کر نوکری نہیں کرسکتے ہم سے آزادی کیا لوگے ؟‘

ان جیسے کئی مکالمے ہیں جو نواز خان کی ڈائری میں درج ہیں۔اور قومپرست کارکن ہونے کی وجہ سے ان باتوں کا تذکرہ ان کی ڈائری میں شدت سے ملتا ہے۔

تفتیش کے دوران شاعری اور عشق کا بھی تذکرہ نواز کی ڈائری میں ملتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ تفتشی افسران ’مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ صنم کون ہے جو تجھے فون کرتی رہتی ہے؟ تیری معشوقہ ہے۔‘ جب انہیں بتاتا کہ وہ میری دوست ہے تو وہ قہقہ لگا کر کہتے ’عورت اور مرد کی دوستی؟ کیا کوئی بلا گوشت کا رکھوالا بن سکتا ہے۔‘ میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ اپنی اپنی سوچ کا فرق ہے۔

انہوں لکھا ہے کہ کھانے اور پیشاب کے مقرر وقت ہوتے ہیں۔اگر اس وقت سے ہٹ کر پیشاب آگیا تو کھولی نہیں کھل سکتی اور آپ کو مقرر وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

نواز نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ان کے مانگنے کےبعد انہیں دو ماہ کے بعد قرآن کی تلاوت اور نماز کی اجازت دی جاتی ہے۔تلاوت اور نماز مکمل کرنے بعد قرآن اور جاء نماز کھولی میں نہیں رہنے دیے جاتے۔

نواز کے بقول دوران قید انہوں نے آوازوں کی مدد سے اندازہ لگایا کہ جہاں وہ مقید تھے وہاں پانچ اور افراد بھی زیر حراست تھے مگر انہیں آپس میں بات کرنے یا اونچی آواز میں بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ کھاتے وقت سالن کی پلیٹوں کی تعداد سے اندازہ کرتا تھے کیونکہ کھانےکے وقت پلیٹوں کو مخصوص انداز سے کھولی کے اندر پھینکا جاتا تھا۔

بات کرنے کی اجازت نہیں
 نواز کے بقول دوران قید انہوں نے آوازوں کی مدد سے اندازہ لگایا کہ جہاں وہ مقید تھے وہاں پانچ اور افراد بھی زیر حراست تھے مگر انہیں آپس میں بات کرنے یا اونچی آواز میں بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ کھاتے وقت سالن کی پلیٹوں کی تعداد سے اندازہ کرتا تھے

نواز نے لکھا ہے کہ پندرہ بیس دنوں کے بعد نہانے کی اجازت دی جاتی۔ ہر ایک قیدی کو اپنے میلے کپڑے آپ دھونے کو کہا جاتا۔ ’کھانا وقت پر کھانے کا حکم ہوتا اگر کوئی دو وقت تک کھانا کھانے سے انکار کرتا تو اسے دوڑایا جاتا اور ان کے اوپر بد ترین تشدد کیا جاتا۔‘

نواز خان زؤر کی اس کتاب میں شاعری کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔وہ جب ٹرین میں سوار ہو رہے تھے تو لانڈھی اسٹیشن کے قریب ریل کی پٹڑیاں دیکھ کر انہوں نے شاعرہ سارا شگفتہ کو یاد کیا۔جیل میں انہوں نے نظم لکھی جو کچھ یوں ہے:

جو نظریں اٹھیں تمہاری طر ف محبت بن کر
بند ہیں وہ آج کالی پٹی کے اندر

نواز خان زؤر کو دس ماہ خفیہ تفیشی مرکز میں رکھنے کے بعد ان کے آبائی ضلع بدین کی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ بدین پولیس نے اپنے ریکارڈ میں ان کی گرفتاری دھماکہ خیز مواد کے ساتھ دکھائی اور مقدمہ حیدرآباد کی خصوصی عدالت میں چلنے لگا۔

نواز زؤر آج کل حیدرآباد سینٹرل جیل میں اپنی جماعت کےدوسرے رہنماؤں کےساتھ قید ہیں۔

سندھی قوم پرست رہنماء نواز اور سکندر’لاپتہ رہنماء برآمد‘
دس ماہ سے لاپتہ سندھی رہنماء پولیس تحویل میں
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
احمد خان تینولاپتہ رہنما ظاہر
دو اور لاپتہ رہنما پولیس کی حراست میں ہیں
جنگ آزادی کی فائل فوٹوسندھ: فراموش سورما
اس فراموشی کے اب ڈیڑھ سو سال ہو رہے ہیں
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
مریم کی ڈائری’حفصہ کی مریم‘
’دب کے مرنے سے بہتر ہے، سرنڈر کر لیں۔۔۔‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد