حفصہ کی مریم: ڈائری پانچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریم ان طالبات میں سے ایک ہیں جو جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کررہی تھیں اور لال مسجد آپریشن کے دوران اندر موجود تھیں۔ انہوں نے ان دنوں کی کہانی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد کی رفیعہ ریاض کو سنائی۔
پیر کو ہمیں آواز آ رہی تھی، غازی صاحب مذاکرات کر رہے تھے۔ آپی جان (ام حسان) نے بتایا کہ ساری رات مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ آپی جان نے کہا آج رات کو آپ لوگوں نے بالکل کسی سے بات نہیں کرنی، توجہ سے، دھیان سے اللہ کو یاد کرنا ہے۔ اس رات کو فائرنگ وغیرہ نہیں ہوئی۔ ہم لوگوں نے کہا کہ آج مذاکرات ہوئے ہیں تو شاید آپریشن ختم ہو رہا ہے اور آج ہم باہر نکلیں گے۔ اگلی صبح جب فائرنگ شروع ہوئی تو ہمیں پتہ چلا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ آپریشن ہوا۔ اس دن چھًرے (لگے)۔ مجھے ایک بازو پر لگا ہے، ادھر سینے پر لگا ہے۔ ایک اور لڑکی کو بازو پر لگا ہے اور ایک کے ادھر ہاتھ پر لگا ہے۔ وہاں پر گولیاں تھیں درد کی، وہ گولیاں لیتے رہے۔
پونے چار بجے شروع ہوئی تھی فائرنگ، ہم لوگوں نے فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی۔ تیس لڑکیوں میں سے دو لڑکیوں نے نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے آگ والا دھماکہ پھینکا ہے۔ اتنا دھواں اندر ہو گیا۔ آپی جان نے کہا کہ بیٹا اگر آگ لگا دی، دم گھٹ کے نہیں مرنا، آپ لوگ باہر نکل جانا، سینے پر گولی کھا لینا، دم گھٹ کے نہیں مرنا۔ پھر جب اندر بہت دھواں ہوگیا تو پھر ہم لوگوں نے کہا ’ہائے ہم لوگ باہر جائیں، یہ نہ ہو ہم لوگ یہاں دم گھٹ کر مر جائیں‘۔۔۔ پھر ہماری جو ایک باجی تھی ادھر، انہوں نے کہا نہیں دم گھٹ کے نہیں مرتے، یہ دھواں، اس دھوئیں سے کچھ بھی نہیں ہوتا، آپ لوگ اندر ہی بیٹھے رہو، اگر کسی کا حکم ہوا کسی نے کہا باہر نکل آؤ تو تب ہم باہر نکلیں گے۔ لیکن ہمارے بڑوں کا حکم نہیں (آیا) تو ہم لوگ باہر نہیں نکلے اندر ہی بیٹھے رہے۔ دھوئیں کا اثر بھی ختم ہو گیا تھا تھوڑی دیر بعد۔
تھوڑی دیر فائرنگ ہوتی کلاشنکوف سے، پھر وہ بم پھینکتے۔ پورا کمرہ ہمارا ہل جاتا تھا، دو بجے فائرنگ ختم ہوئی ہے۔ سرنڈر جب ہم لوگوں نے کیا ہے تو تب ان لوگوں نے فائرنگ بند کی ہے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم لوگ بارود لگا دیں (گے) عمارت کو، تو دب کے مرو گے۔ آپی جان نے کہا کہ بیٹا نہیں دب کے مرنے سے بہتر ہے کہ ہم لوگ سرنڈر کر لیتے ہیں۔ ہم لوگ گولی کھائیں گے لیکن دب کے نہیں مریں گے؟ ہمیں پولیس والوں کی آواز آئی کہ پوری عمارت میں بارود لگا دیا (گیا) ہے، لہٰذا جتنے حضرات اندر موجود ہیں باہر نکل آئیں۔ اس سے پہلے صبح (تک) مسجد (سے) آواز آ رہی تھی مجاہدین کی کہ آپ شہادت کا جذبہ لے کر آئے ہیں، جنہوں نے جانا ہے وہ جائیں لیکن جو شہادت کا جذبہ رکھتے ہیں وہ ادھر اندر ہی رکیں باہر کسی نے نہیں نکلنا۔ (جب) انہوں مسجد میں آگ لگائی تو مجاہدین سارے باہر نکل آئے۔ مجاہدین اور طلبہ، وہ مدرسے کے طلبہ بھی تھے مجاہدین بھی تھے۔ آگ کو بجھاتے رہے ۔ ان کو بالکل ڈر نہیں لگا۔ اتنی فائرنگ میں وہ آگ کو بجھاتے رہے، نعرے لگاتے رہے۔ تقریباً گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک مجاہدین کی آواز بھی بند ہو گئی۔ شاید کچھ گرفتار کر لیے، کچھ شہید ہو گئے ہیں۔ پھر ہم لوگ ڈر گئے کہ سارے مجاہدین کہاں چلے گئے، اب ہم کو کہیں گرفتار نہ کر لیں۔ پولیس اندر آ چکی تھی، لگتا ہے، ہمارے کمرے کے قریب ہی تھی، کوئی قریب کھڑا ہے، دروازے کے باہر۔ آواز آئی کہ جلدی سے باہر نکل آئیں، مدرسے میں موجود حضرات سارے باہر نکل آئیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ہم نے کہا فوج اندر آ چکی ہے لیکن پھر ہمارے ذہن نے کہا کہ شاید ابھی اندر نہ آئی ہو۔ ابھی باہر روڈ پر ہو لیکن جب باہر نکلیں تو دیکھا کہ چاروں طرف فوج ہماری چھتوں پر چڑھی ہوئی تھی اور مجاہدین ہمیں کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہم لوگ تو بس نکل آئے ہاتھ اوپر کرکے، فوجی اوپر چھت پر کھڑے تھے ہمارے دروازے بند تھے، کہیں نکلنے کا راستہ بھی نہیں تھا، دیوار ٹوٹی ہوئی تھی تھوڑی سی، دروازہ جو تھا، وہ گرا ہوا تھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ فائرنگ نہیں کرنی، ہم (نے) سرنڈر کر دیا ہے راستہ بنا کر دیں۔ پھر ایک پولیس والا آیا تو اس نے کہا ’یہاں سے یہ راستہ ہے آپ کا، یہ دروازہ اٹھائیں یہاں سے نکل آئیں۔‘ پھر ہمارے ساتھ ایک مجاہدین باہر نکلا ہے۔ وہ راستہ خالی کرکے دے رہا تھا تو اسے گرفتار کر لیا۔ پھر راستہ بنا کر دیا (اور) ہم لوگ باہر آ گئے۔
انہوں نے کہا ’نقاب اٹھائیں، ہم آپ کے بھائی ہیں، آپ بہنوں کی طرح ہیں، آپ نقاب اٹھائیں۔‘ ہم نے کہا ’کیوں بھائی ایسے ہوتے ہیں، بہنوں کی عزت لوٹتے ہیں‘، ہماری ایک باجی نے صحیح ان کو سنائیں۔ پھر دوسرا بولا ہے ٹھیک ہے رہنے دیں نہیں اٹھائیں۔ پھر ہم آگے آئے ہیں تو انہوں نے کہا یہاں بیٹھ جائیں۔ لیڈیز پولیس وغیرہ آئی، چیکنگ کی۔ نماز ظہر کی ہم نے پڑھی وہاں۔ انہوں نے کھانا وغیرہ لا کر دیا، پھر نام وغیرہ لکھے (اور) ہمیں بھیج دیا۔ ہماری آپی جان (ام حسان) کو انہوں نے الگ کر دیا۔ ایک لڑکی نے لیڈیز کو بہت ڈانٹا، بہت باتیں سنائیں۔ پھر ہم لوگوں نے دھکے دے کر (انہیں) پیچھے کیا (اور) آپی جان سے ملیں۔ پھر اس کے بعد ہم لوگ آ گئے، پتہ نہیں آپی جان کو کہاں لے گئے ہیں۔ پھر لیڈیز نے برقعے وغیرہ اتروا کر چیکنگ کی۔ بعد (میں) ہمیں دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا۔ وہاں پر کھانا وغیرہ لا کر دیا۔ ہم لوگ بہت روئے (کہ) جب ہم لوگ باہر نکلے۔ ہم نے ان کو واسطے دیئے، لال مسجد جل رہی تھی جب ہم لوگوں نے دیکھی۔ ہم نے کہا ’بھائیو، قرآن پاک تو نکال لیں‘، انہوں نے کہا ’آپ لوگ آگے جائیں ہم قرآن پاک نکال لیں گے‘۔ وہاں پر جو ہماری خدمت کو آئی، اس نے کہا کہ ہم اتنی دور سے آپ کی خدمت کے لیے آئے ہیں، آپ لوگ نہیں روئیں، بس حوصلہ کریں۔ اس کے بعد نام وغیرہ لکھے، فون نمبر لکھے کہ آپ کو گھر بھیجا جائے گا فون کرکے۔ پھر انہوں نے رات کو شاید فون کیے۔
پھر بدھ کی صبح ہی ظہر کے بعد والدین وغیرہ آگئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ان کے جو چیئرمین ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ نہیں، دو دن بھی لگ سکتے ہیں، ایک گھنٹہ بھی لگ سکتا ہے گھر بھیجنے کے لیے۔ سب کے گھر سے آئیں گے (تو) اکٹھے بھیجیں گے۔ پھر کہا ٹھیک ہے، جن کے گھر (والے) آئے ہیں ان کو ہم واپس بھیج دیں گے گھر۔ مغرب کے ٹائم کی بات ہوئی۔ انہوں نے نام وغیرہ لکھے دوبارہ، کارڈ وغیرہ لیے، پھر ہم لوگ عشاء کے بعد وہاں سے باہر نکل آئے تھے۔ ابو لینے آئے تھے، ابو سے ملی۔ پہلے تو ابو سے مل کے دکھ ہوا کہ جہاد کا جذبہ، شہادت کا جذبہ لے گئی تھی اور بس آپ کے پاس صحیح سلامت آ گئی۔ ہم لوگ پونے بارہ ساڑھے بارہ گھر پہنچے رات کو، گھر پہنچے ہیں تو امی سے ملی۔ بس رونا آ رہا تھا، اس بات پر کہ گھر (آیا کرتے) تھے، کہتے تھے کہ فلاں تاریخ، فلاں دن مدرسے واپس جانا ہے، تیاری کریں، امی کپڑے دھو کے دیں، استری کرکے دیں، بیگ تیار کریں، ہم نے واپس جانا ہے۔ اب ہم کیا کہیں گے (کہ) ہم نے کب جانا ہے، کہاں کیا کریں گے۔
ہمیں اس بات پر دکھ تھا کہ بھائی (جو) مدد کے لیے تیار کیے گئے، اب ہمارے دشمن بن گئے ہیں۔ اس بات کا ہمیں دکھ ہو رہا تھا کہ یہ ساتھی جو ہمارے بننے تھے، ہمارے دشمن بن گئے ہیں۔ اب انہوں نے ایک لال مسجد، (ایک) جامعہ حفصہ کو شہید کیا ہے۔ میری اب خواہش یہ ہے کہ انشاء اللہ پورے ملک میں جامعہ حفصہ، لال مسجد اور بنیں۔ خواہش تو اب بھی ہے کہ انشاء اللہ جہاں بھی کام کیا، جہادی جذبہ سے کام کروں گی۔ اگر نہیں تو انشاء اللہ میں اپنا مدرسہ جہاد کے بارے میں کھولوں گی اور وہاں جہاد کا کام کرواؤں گی اور جہاد کی ٹریننگ دوں گی انہیں۔
فواد کمال، پاکستان محمد عابدی، ہوسٹن، امریکہ سہیل جان، بلوچستان، پاکستان شکیل خان، پشاور، پاکستان خلیل لغاری، حیدر آباد، پاکستان علی، کراچی، پاکستان تنزیل احمد، پشاور، پاکستان محسن خان، سڈنی، آسٹریلیا امتیاز حیدر، دبئی، متحدہ عرب امارات اسلم پرویز عبدل، راولپنڈی، پاکستان |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||