مریم کی ڈائری: پِھر آپی کے ساتھ ہم تیس رہ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریم ان طالبات میں سے ایک ہیں جو جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کررہی تھیں اور لال مسجد آپریشن کے دوران وہاں تھیں۔ انہوں نے ان دنوں کی کہانی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد کی رفیعہ ریاض کو سنائی۔
جب مولانا عبدالعزیز صاحب گرفتار ہوئے تو ہم نے سوچا کہ ان کا مقصد ان کو گرفتار کرنا تھا، اب ہمیں وہ کچھ نہیں کہیں گے۔ مقصد پورا ہو گیا تو ہمیں کیا کہیں گے لیکن پھر جب رات کو فائرنگ ہوئی تو ہم نے کہا کہ ابھی ان کا کچھ اور مقصد ہے، کچھ کریں گے۔ بس ان کے لیے ہم دعائیں کر رہے تھے کہ اللہ ان کو کچھ بھی نہ کہا جائے وہاں پر۔
جب جمعرات کی صبح، ان لوگوں نے بم پھینکے توہمارے مدرسے میں جہاں پرمفتیہ کورس کرایا جاتا تھا، آگ لگ گئی۔ ہمارے بھائیوں نے ہمیں آ کر کہا کہ مدرسے کو آگ لگ چکی ہے اس لیے آپ یہاں سے منتقل ہو جائیں۔ جل کے مرنے سے بہتر ہے گولی کھا کے مریں۔ ہم دوسری طرف منتقل ہو گئے تھے۔ اس وقت تک ہم پچاس لڑکیاں تھیں۔ ہم لوگ پھر گھوم نہیں سکتے تھے کہ وہاں باقی لڑکیوں کو ڈھونڈتے۔ جو لوگ آپی جان کے ساتھ تھیں وہ اس وقت پچاس لڑکیاں تھیں۔ وہاں پر کوئی تہہ خانے نہیں تھے، جن کمروں کو ہم کلاس کے کمرے کہتے ان کو وہ (حکومتی اہلکار) تہہ خانے کہہ رہے ہیں اور جن کووہ سرنگیں کہہ رہے ہیں وہ ہمارے استاد جی کے کمرے ہیں۔ بدھ تک لائٹ رہی۔ ہمیں بس عجیب لگا کہ لائٹ لے گئے ہیں، انہوں نے تو یزید والے کام کیے، پانی پیچھے بند کر دیا اور لائٹ بھی بند کر دی۔ بس ہم لوگدعا ہی کر سکتے تھے۔ بس ایک ٹارچ ملی تھی، وہ لائٹر جسے کہتے ہیں۔ اس پر ہم لوگ گزارا کرتے رہے۔ بس جب رات کو نماز پڑھتے تھے تواس کو لگا کے پڑھتے۔ وضو تو کرتے نہیں تھے، تیمم کر کے نماز پڑھتے تھے تاکہ پانی کی بچت ہو۔
آپی جان نے ہمیں مذاکرات کا نہیں بتایا، مذاکرات کا اس وقت پتہ چلا جب انہوں نے وہاں پر آپریشن کرنا تھا منگل کو۔ پیر کی ساری رات کو مذاکرات ہوتے رہے۔ اس بات کا ہمیں پتہ چلا لیکن بعد میں۔ کھانے کے لیے ہمارے پاس جوس اور سلانٹی تھے۔ جمعرات کی رات کو ہم لوگوں نے وہ کھائیں۔ پھر اس کے بعد تو انہوں نے ان سٹورز پر بھی بم پھینک دیئے جہاں ہم لوگ کھانا وغیرہ بناتے تھے۔ پھر ہم لوگ اس کے بعد بھوکے رہے ہیں۔ جمعرات کو بیس لڑکیاں گھر چلی گئیں، ہم صرف تیس لڑکیاں رہ گئی تھیں۔ ان کےگھر سے لوگ آتے رہے ہیں، اور زبردستی لے کر جاتے رہے ہیں۔ وہ بس رو رو کر گئیں کہ ہم لوگوں نے تو شہید ہونا ہے لیکن ان کے والدین زبردستی کر رہے تھے۔ آپی جان کے موبائل پر وہ فون کرتے اور کہتے کہ ہم لوگ بیٹی کو لینے کے لیے آئے ہیں تو بھیج دیں ہماری بیٹی کو باہر۔ آپی جان نےان کو زبردستی بھیجا ہے کہ آپ کے والدین باہر کھڑے ہیں، اتنی دور سے آئے ہیں تو آپ لوگ چلے جائیں۔ بہت خوفناک آوازیں آ رہی تھیں، آنسو گیس تو انہوں نے جمعرات کو بہت زیادہ پھینکی، ہم لوگ پانی اپنے اوپر ڈالتے اور اپنے حجاب گیلے کر کے آنکھوں پر رکھتے اور نمک ڈالتے منہ میں۔
تیس لڑکیاں جو آخر میں رہ گئیں ان سب نے آپی جان سے کہا کہ ہم بھی خودکش حملے کرنا چاہتی ہیں۔ ہم نے اسلحہ بھی مانگا ان سے۔ آپی جان کہتی ہیں ’بیٹا اتنا اسلحہ، اتنے بم نہیں ہیں کہ ہمارے بھائی لڑ لیں، تو میں آپ کو کہاں سے لا کر دوں؟‘ اس وجہ سے ہم بیٹھ گئے۔ ہم نے کہا چلو اس سے بھی ہمیں اجر ملے گا، ہماری نیت تو ہے ناں۔ گھر، ماں باپ بالکل یاد نہیں آئے۔ سات دن ہم لوگ کمرے میں بند رہے ہیں، ہمیں نہ کسی کا گھر میں خیال آیا، چلی جاتی اچھا ہوتا۔ میرے ذہن میں گھر کے بارے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ میں شہید ہو جاؤں، یااللہ مجھے ایک گولی لگے شہید ہو جاؤں، زخمی نہ ہوں، زخمی ہو گئی تو میں کہاں جاؤں گی؟
گیس کی سپلائی جمعہ کے دن منقطع ہوئی۔ بہت بڑے بم پھینک رہے تھے وہ، آپی جان نے ہمیں بتایا کہ صرف چھت گری ہے۔ شیشے ٹوٹ رہے تھے ان کی آواز آ رہی تھی، دروازے ٹوٹ رہے تھے ان کی آواز آ رہی تھی۔ ہم لوگ جہاں پر تھے اس کا انہیں پتہ چل گیا تھا کہ اس کمرے میں ہیں۔ انہوں نے چاروں طرف سےفائرنگ کی، شیشے توڑ دیئے، روشندان، دروازے اور کنڈیاں توڑ دیں، لیکن اللہ نے حفاظت کی، لگی کسی کو نہیں۔ دروازے جو ہیں ان کی کنڈیاں اکھڑ گئیں۔ دو لڑکیاں دروازے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں، اسے بند کرنے کے لیے کہ کھل نہ جائے، کیونکہ ٹوٹ چکا تھا، بند نہیں ہو رہا تھا۔ دونوں سائیڈ پر ایک ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی پکڑ کے۔ رات کو بھی وہ پکڑ کے رکھتیں۔ پھر ان میں سے ایک تھک جاتی تو دوسری آتی، بیٹھتی دروازے کے قریب۔
سوتے تو تھے نہیں ہم لوگ جاگتے ہی رہے ہیں لیکن ایک لڑکی نیچے سر کرکے جائے نماز پر بیٹھی ہوتی، نیچے سر کر کے سجدے میں سو جاتی تو پھر تھوڑی دیر بعد دوسری لڑکی اسے اٹھا دیتی۔ پھر وہ سو جاتی سجدے میں سر رکھ کر، بس اسی طرح ہم سوئے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے آدھا گھنٹہ، پونا گھنٹہ۔ بہت زیادہ شور تھا، بہت تھکاوٹ اور یوں طبیعت خراب ہوتی رہی۔ بس اللہ کو یاد کرنے میں وقت گزر جاتا۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ جمعہ کے دن بس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہےکہ ہمیں مدد بھیج دے غیب سے، تھوڑی سی بھوک لگی ہے لیکن ہم لوگ پانی پی لیتے تھے۔ بھوک لگتی تو دو گلاس پانی پی لیتے ہماری بھوک ختم ہو جاتی۔ پانی کا یہ تھا کہ بھائیوں نے بالٹی بھر کر پہلے سے لا کر دی تھی، بارش سے پہلے، یہ نہیں پتہ وہ کہاں سے لے کر آئے ہیں، ہمیں لا کر دی ہم وہ استعمال کرتے رہے ہیں جمعہ تک۔ (جـاری ہے۔۔۔) |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||