مریم کی ڈائری: دو دن کی یادداشتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم میں سے جو لڑکیاں اندر رہ گئی تھیں ان کے والدین انہیں لینے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچیوں کو لینے کے لیے جانا چاہتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ انہیں پولیس والوں نے کہا کہ وہ اندر نہیں جاسکتے لیکن ایک کے والد نے کہا کہ وہ جائیں گے۔ جب وہ (مدرسے کی طرف) آگے آئے تو پولیس والوں نے گولی مار دی انہیں۔ ہمیں تب پتہ چلا جب فون آیا کسی کے گھر سے، باجی کے موبائل پر، کہ کس طرح ان کے والد انہیں لینے کے لیے آئے تھے اور کیا ہوا۔ پھر ہمیں پتہ چلا کہ باہر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ تبھی ہم نے سوچنا شروع کیا کہ بس اب ہم لوگ شہید ہوں گے۔ ہمارا آخری ٹائم ہے۔ ہم معافیاں مانگ رہے تھے۔ اللہ کو یاد کر رہے تھے۔ ہمیں باہر کے بارے میں باجی بہت کم باتیں بتاتی تھیں۔ وہ ہمیں زیادہ نہیں بتاتی تھیں اور باجیوں (معلمات) کو آپی جان (مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ، امِ حسان) بتاتی تھیں اور آپی جان کو استاد جی (مولانا عبدالعزیز) بتاتے تھے اور استاد جی کو پھر باہر سے خبریں ملتی تھیں۔جو انہیں زیادہ تر مجاہدین بھائی بتاتے تھے۔ جب آپریشن شروع ہوا تو باجیاں اپنی ٹینشن میں تھیں۔ باجیوں سے ہماری ملاقات زیادہ نہیں ہوتی تھی، زیادہ باتیں لڑکیوں سے ہی سنیں۔ جو ان کے گھر والے انہیں موبائل پر بتاتے۔
اپنےگھر سےتو میرا رابطہ تھا ہی نہیں۔ مجھے بس صرف جمعہ کو گھر سے فون آیا تھا اور بھائی نے کہا کہ واپس گھر آ جائیں تو میں نے کہا مجھے واپس گھر نہیں آنا، یہیں شہید ہو کر آؤں گی۔ بھائی نے ضد کی کہ میں لینے آ رہا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ اگر آئے تو وہاں سے ڈنڈے کھا کے واپس چلے جانا۔ بس اس دن بھائی سے بات کر کے کچھ خبریں پتہ چلیں ہمیں۔ ہاں اس دن یہ بھی سنا تھا کہ لڑکیاں کہہ رہی تھیں کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ آپ لوگ نکل آئیں باہر تو آپ کو کچھ نہیں کہا جائےگا تو اگر آپ نہ نکلے تو یہاں آپ کو مار دیا جائے گا تو ہم نے کہاں ٹھیک ہے مار دیا جائے۔ ہمارے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ وہ گھر والوں کی وجہ سے گئی۔ وہ گھر والوں کی وجہ سےزبردستی گئی۔ اس کے گھر کے لوگ اسے لینے کے لیے آ گئے تھے۔ اس کی امّی نے بہت زیادہ باتیں سنائیں۔ اس کا دل بالکل نہیں کر رہا تھا۔ وہ رونے لگی۔ اس نے آپی جان سے کہا ہے کہ ’آپی جان میں نہیں جاتی‘۔ آپی جان نے کہا ہے ’بیٹا آپ کے گھر والے آ گئے ہیں لینے کے لیے تو آپ لوگ چلے جائیں‘۔ تو اس وجہ سے وہ چلی گئی ہے۔
ہمیں بہت دکھ ہو رہا ہے کہ ہم دین کو پھیلانے کے لیے یہاں آئے تھے۔ جہاد کا جذبہ لے کر آئے تھے لیکن جب ایسی بات ہوئی ہے اور دین پر یہ مسئلہ آیا ہے تو یہ لڑکیاں جا رہی ہیں۔ ہمیں دکھ ہو رہا تھا اس بات پر۔ والدین نے زبردستی کی ہے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ لڑکیاں چھپ رہی ہیں۔ ان کے والدین زبردستی کر رہے ہیں۔ ہاتھ جـوڑ رہے ہیں۔ اپنے آپ پیٹ رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ ہماری بیٹیوں کو بھیجیں باہر۔ آپی جان نے کہا کہ ہم زبردستی نہیں کر رہے۔ آپ کی بیٹیاں جہاں ہیں انہیں ڈھونڈ لیں اور لے جائیں۔ اس بات پر ہمیں دکھ ہوتا ہے کہ والدین انہیں زبردستی لے گئے ہیں۔ کچھ لڑکیاں تو ڈر کی وجہ سے گئیں۔ لیکن وہ زیادہ ترچھوٹی تھیں لیکن جو بڑی طالبات تھیں ان کے گھر والے تو انہیں زبردستی لے کرگئے ہیں۔ ہم اپنی کلاس میں تھے جب ہیلی کاپٹر وغیرہ کی آوازیں آئیں۔ ہم نے کہا کہ شاید یہ اوپر سے بم وغیرہ پھینک دیں تو بس ہم لوگوں نے اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ نفل وغیرہ پڑھنے شروع کر دیے کہ بس اب ہمارا آخری ٹائم ہے۔ ہمیں بس یہی فکر تھی کہ زخمی نہ ہوں اور گرفتار نہ ہو جائیں۔ بس اس بات کا ہمیں خوف تھا۔ ہم بدھ کی شام سے اپنے کمروں سے منتقل ہوئے ہیں۔ بدھ کی ہی شام کو ایک جاسوس اندر آئی۔ اس نے کچھ ایسی باتیں کیں ہیں کہ بہت سی لڑکیاں مدرسہ چھوڑ کر باہر چلی گئیں۔ پھر مدرسے میں لڑکیاں کم رہ گئی تھیں۔ پھر ہم لوگ دائرہ عائشہ (مدرسے کے ایک حصے کا نام) میں گئے۔ وہاں دو کمرے تھے ہم اس میں منتقل ہو گئے۔ بمباری بہت زیادہ ہوتی رہی۔ صحن میں دو کمرے ہیں، مستشفیٰ ہے اور اس کے ساتھ والا کمرہ۔ انہی دو کمروں میں ہم رہے، پھر بہت زیادہ بمباری ہو رہی ہے، بہت زیادہ آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے۔
ہمیں باجی نے بتایا کہ والدین کی بھیس میں ایک جاسوس اندر آئی ہیں۔ انہوں نے طالبات سے کہا ہے کہ انہیں دوسری جامعہ میں لے جایا جائے گا، آپ یہاں سے منتقل ہو جائیں۔ بہت سی باجیاں بھی چلی گئی ہیں ان کے دھوکہ میں آ کر، اور طالبات بھی چلی گئی ہیں۔ وہ لوگ والدین بن کے آئے کہ ہم لوگ بچیوں کو لینے کے لیے آئے ہیں۔ پھر اس کے بعد جامعہ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اب والدین کو اندر نہیں آنے دیا جائے گا۔ جالیوں والا دروازہ جسے گرل کہتے تھے وہ دروازہ بند کیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ اب آپ میں سے جس کے گھر والے بھی آئیں گےتو جہاں پر مائیک لگا ہوا ہے، انہیں وہاں کھڑا کیا جائے، پھر ان سے پوچھا جائے گا ان کی بیٹی کون ہے۔ کس درجے میں پڑھتی ہے۔ سب پوچھ کے، پرچی بنا کر اندر بھیجی جائے پھر بچیوں کو باہر بھیجا جائے گا۔ اندر یہ بات ہوئی لیکن باہر انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بچیوں کو زبردستی روک لیا ہے، باہر آنے نہیں دے رہے۔ یرغمال بنا لیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ والدین کے بھیس میں جاسوس کو اندر آنے سے روکا جائے۔ پھر اس کے بعد جو بڑی انتظامیہ ہے انہوں نے کہا ہے کہ والدین کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ نہیں اب والدین کو اندر نہیں آنے دینا۔ باہر کھڑا کیا جائے۔ وہاں سے عورتوں کو پوچھا جائے کس حلقے میں آپ کی بیٹی ہے، کس درجے میں ہے تو پھر وہاں سے طالبات کو باہر بھیجا جائے والدین کو اندر نہ لایا جائے۔ ہمیں مغرب کے بعد پتہ چلا ہے کہ ہمارے استاد مولانا عبدالعزیز صاحب گرفتار ہو گئے ہیں، برقعے میں گئے تھے، اتنا پتہ چلا ہے کہ برقعے میں گئے تھے۔ استاد
|
اسی بارے میں لال مسجد: طاقتور دھماکوں، فائرنگ کی آوازیں04 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک اور مہلت03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: ایک صحافی ہلاک03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: طلباء نے چینی اغوا کر لیے23 June, 2007 | پاکستان ’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘27 May, 2007 | پاکستان لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا20 May, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||