حفصہ کی مریم: ڈائری چار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریم ان طالبات میں سے ایک ہیں جو جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کررہی تھیں اور لال مسجد آپریشن کے دوران وہاں تھیں۔ انہوں نے ان دنوں کی کہانی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد کی رفیعہ ریاض کو سنائی۔
ہم جب صبح اٹھے ہیں تو شہد کا ہمیں پتہ چلا ہے۔ آپی جان نے ہمیں بتایا ہے کہ بیٹا خوشخبری ہے آپ کے لیے کہ دو گیلن شہد آپ کو ملے ہیں۔ ان کا شربت بنایا ہم لوگوں نے۔ پھر بھائیوں نے پتے لا کر دیئے، شہد کے ساتھ پتے کھائے ہم لوگوں نے اور وہ جوس پیا۔ پتے آپی جان نےلاکر دئیے، یہ نہیں پتہ کہاں سے لائے، یہ پتہ تھا کہ انگور کے پتے تھے۔ بس ہم نے کہا کہ صحابہ کرام کی سنت ہے، انہوں نے بھی تو پتے کھائے تھے ناں۔ بہت زیادہ بھوک لگ رہی تھی اس وقت۔ یہ جب آنسو گیس پھینکتے ہیں تو اس کے بعد بھوک لگتی ہے۔ ایک ایک چمچ شہد چاٹ لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ اسی میں (ہے) برکت۔ بارش ہوئی تو بارش کا پانی بھرا ہوا تھا۔ مجاہدین ہمیں لا کر دیتے ، بالٹی اندر رکھتے تھے تو ہم لوگ دیکھتے کہ پانی رکھ کے چلے گئے ہیں واپس۔
ام حسان (آپی جان ) ہمارے ساتھ رہتی تھیں، تھوڑی دیر کے لیے اپنی امی جی کے کمرے میں جاتی تھیں جو ان کی ساس تھیں، پھر واپس۔ آپی جان ویسے بہت صبر والی ہیں۔ تھوڑا سا دکھ ہوا تھا انہیں جب مولانا عبدالعزیز پکڑے گئے تھے، اس رات کو روئی تھیں لیکن پھر اس کے بعد نہیں۔ پریشانی تو ہوتی ہے، ظاہر نہیں ہونے دیتی تھیں، دل کے تو حالات نہیں جان سکتے، ہمارے ساتھ صحیح بات کرتی رہیں۔ باہر پولیس والوں نے چاروں طرف مدرسے اور لال مسجد کے پٹرول چھڑک دیا آگ لگانے کے لیے۔ اللہ کا ایسا کرنا ہوا کہ جب بارش ہوئی تو پٹرول کا اثر ختم ہو گیا اور جو آگ انہوں نے لگائی تھی وہ آگ بھی بجھ گئی ہے۔ آگ وہ جو ہمارا سب سے نیچے کمرہ ہے اس کو لگی ہوئی تھی، وہاں بم پھینکا آگ والا۔ دھواں دیکھا، تب ہم لوگ باہر نکلے، دھواں پورے مدرسے میں پھیل گیا۔ آنکھوں پر ہم نے کپڑا رکھا، نیچے ہو کر بیٹھ گئے، ہمارے بھائیوں نے کہا کہ دھواں نقصان نہیں پہنچاتا، آنسو گیس نقصان پہنچاتی ہے، آپ لوگ کپڑا منہ پر رکھ لو۔ ایک گھنٹہ رہا ہے کمرے کے اندر دھواں اس کے بعد نکل گیا۔ ہم نے طالبات کے دفن کرنے کے بارے میں کچھ نہیں سنا، پتہ چلا تھا کہ تین لڑکیاں شہید ہو چکی ہیں، ایک کو دیکھا تھا، وہ چھت پر جا رہی تھی کپڑے لینے کے لیے تو وہاں سے اسے گولی لگی۔ تین گولیاں، دو پیٹ پر اور ایک بازو پر، وہ وہاں پر شہید ہو گئی تھی۔ ہم لوگوں کو خوشی ہوئی کہ ہماری طالبات شہید ہو گئی، اس نے شہادت پا لی۔
ہمارے ساتھ دوچھوٹی بچیاں تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ میرے ابو نشہ کرتے ہیں اور امی آنٹی کے پاس ہوتی ہیں، کپڑے وغیرہ سیتی ہیں۔ فارغ ہونے کے باوجود وہ لڑ رہی ہوتی تھیں دونوں بہنیں۔ کچھ فکر نہ انہیں بھوک کا پتہ چلے۔ آنسو گیس پھینکتے وہ سوئی ہوتیں سوئی رہتیں۔ انہیں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آنسو گیس پھینکی ہے یا کیا ہو رہا ہے، ہم لوگ بے ہوش ہو جاتے تھے، انہیں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ نہ انہوں نے بھوک کا کبھی کہا کہ ہمیں بھوک لگی ہے ہمیں کچھ کھانے کو لا کر دیں۔ وہ اس بارے میں کبھی کچھ نہیں بولیں۔ ہمیں تو جو آپی جان بتاتی تھیں وہ پتہ تھا مگر جب فائرنگ بند ہوتی تھی تو ہم لوگ کہتے، شاید اب ہمیں فتح ہو گئی ہے، ہم باہر نکلیں گے، مدرسے جائیں گے۔ فائرنگ پھر شروع ہو جاتی تو ہم لوگ کہتے کہ نہیں ابھی آپریشن ختم نہیں ہوا۔ آپی جان آ کر بتاتیں کہ مذاکرات ہوئے ہیں۔ کچھ لڑکیوں کو خوف محسوس ہوتا تھا۔ ڈر جاتی تھیں۔ جب دو لڑکیاں تھوڑی گبھرائیں تو ہم نےکہا آپ پھر آئے کیوں ہو؟ جب آپ کو ڈر لگ رہا تو آپ لوگ واپس گھر چلے جاتے۔ شہادت کا جذبہ لے کر آئے ہو تو شہید ہو کے جاؤ، پھر وہ چپ ہو گئیں۔
ہم لوگ بہت زیادہ تنگ آ گئے تھے۔ ہم نے کہا تھوڑی دیر کے لیے باہر چلتے ہیں، باہر نکلے، ہیلی کاپٹر آیا تو ہم اندر آ گئے کمرے میں۔ پھر فائرنگ شروع ہو گئی لیکن گولی نہیں لگی ہمیں۔ (جـاری ہے۔۔۔)
عمران بھٹا، پاکستان شان رحمان، راولپنڈی، پاکستان بدر، دبئی ساجد، پاکستان فوزیہ لطیف، لاہور، پاکستان س خان، پاکستان: نادیہ خان، کراچی: فیضان رضا، کراچی: ساجد صدیقی، دبئی: محبوب الہی بٹ، ہری پور: ریاض اے خان، سرائے نورنگ: رمضان مندازی، پاکستان: عباس، لندن: عامر مغل، پاکستان: حافظ سکندر کانجو، رحیم یار خان: حفصہ نور، بورے والہ: محمد عدیل صدیقی، پشاور: سائلینٹ صوفی، اسلام آباد: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||