BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفرٹرک پر،حفاظت جانثار فورس کا ذمہ

بینظیر بھٹو کے ٹرک کو بلٹ اور راکٹ پروف بنایا گیاہے
بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آمد کے موقع پر ان کی حفاظت کے لیے تشکیل دی جانے والی پیپلز پارٹی کی خصوصی سکیورٹی ٹیم کے رکن آغا سراج درانی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ ایک بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہو کر استقبالی جلوس کی قیادت کریں گی اور اس ٹرک کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار رضاکار اور سینکڑوں پولیس اہلکار مقرر کیے جائیں گے۔

بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک خصوصی سیکیورٹی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ذولفقار مرزا، جنرل ریٹائرڈ احسان احمد، آغا سراج درانی اور عامر مگسی شامل ہیں۔

آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو ایک بڑے ٹرک پر سوار ہوں گی جسے بلٹ اور راکٹ پروف بنایا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر کی سواری کے لیے ٹرک کو خصوصی طریقے سے تیار کیا گیا ہے اور ان کے شیشوں کی دیواروں پر رائفل کی گولیاں، راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز مواد تجرباتی بنیادوں پر استعمال کیا گیا ہے۔

بینظیر بھٹو کی سکیورٹی ٹیم اور حکومت سندھ کے حکام کے درمیان اٹھارہ اکتوبر کے جلوس کو محفوظ بنانے کے حوالے سے پانچ مشترکہ اجلاس کراچی میں ہو چکے ہیں۔ بینظیر کی سکیورٹی ٹیم نے کراچی ایئرپورٹ سے براستہ شاہراہ فیصل مزار قائد تک پندرہ مقامات کی نشاندہی کی ہے جو اٹھارہ اکتوبر کو سیکورٹی رسک بن سکتے ہیں۔

آغا سراج درانی کے مطابق انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کے جلوس کی نگرانی کے لیے پولیس فورس کی ہیلی کاپٹر پٹرولنگ کا مطالبہ بھی کیا ہے اور شاہراہ فیصل کے بعض اپارٹمنٹس کی چھتوں پر پولیس اور جانثار فورس کے مشترکہ جتھے مقرر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

پی پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے حفاظتی انتظامات کی نگرانی ان کے شوہر آصف زرداری خود کر رہے ہیں اور اسی مقصد کے لیے وہ نیویارک سے دبئی پہنچ چکے ہیں۔

 بینظیر کی سکیورٹی ٹیم نے کراچی ایئرپورٹ سے براستہ شاہراہ فیصل مزار قائد تک پندرہ مقامات کی نشاندہی کی ہے جو اٹھارہ اکتوبر کو سیکورٹی رسک بن سکتے ہیں۔

اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کا منظر پیش کرتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ بینظیر اور چند پارٹی رہنماؤں کا بلٹ پروف ٹرک جانثار فورس کے گھیرے میں ہوگا اور ائیرپورٹ سے بلاول ہاؤس تک اندرو نی حفاظتی دیوار پارٹی جانثاروں پر مشتمل ہوگی۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی نے سندھ بھر سے پیپلز یوتھ ونگ اور سندھ پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن یعنی سپاف کے کارکنان کو کراچی طلب کر لیا ہے اور انہیں حفاظتی راستوں اور ان کے فرائض سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے لیے تشکیل دی گئی جانثار فورس کے جوان اٹھارہ اکتوبر کو مخصوص یونیفارم میں ہوں گے اور ان کے پاس جماعت کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ بھی ہوگا۔

آغا سراج درانی نے کہا کہ’انہوں نے اور ان کی پوری ٹیم نے بینظیر کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے دن رات محنت کی ہے، انہوں نے کئی مشقیں کی ہیں اور وہ ذہنی و جسمانی طور پر ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں‘۔آغا سراج نے کہا کہ وہ اٹھارہ اکتوبر کے دن پرامن حالات کی توقع رکھتے ہیں مگر انہوں نے اپنی طرف سے ہر طرح کے برے حالات کا سامنا کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارہ مئی کے واقعات نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے زیادہ چوکنا کر دیا ہے اور وہ اپنی طرف سے سکیورٹی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنا چاہتے۔

یاد رہے کہ بینظیر بھٹو نے حال ہی میں اپنی آٹھ سال بعد وطن واپسی کو اپنے لیے سیکیورٹی رسک قرار دیا تھا اور ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’پاکستانی سیاست میں اس طرح کے رسک آپ کو اٹھانے پڑتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد