ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | بےنظیر کے استقبال کے لیے تیاریاں زوروں پر ہیں |
پاکستان کی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کو آگاہ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر تخریبکاری کے خدشات ہیں۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کو بتایا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خودکش اور راکٹ سے حملے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت کے مطابق بےنظیر کو ہائی رینج رائفل سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جلوس کے روٹ میں کار بم دھماکہ ہوسکتا ہے اور ایئرپورٹ پر دھماکے کا خدشہ ہے۔ ان خدشات کا اظہار کراچی میں جمعہ کو محکمۂ داخلہ میں بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں پولیس، ایئرپورٹ کے اعلیٰ حکام سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں ذوالفقار مرزا، آغا سراج درانی، میجر جنرل احسان احمد، راشد ربانی اور دیگر نے شرکت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پولیس حکام کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے لیے ایک بلٹ پروف کنٹینر تیار کیا جارہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے نجی محافظ بھی موجود ہوں گے جنہیں مخصوص لباس فراہم کیا جائیگا اور محمد علی جناح کی مزار پر جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے لیکر قائد اعظم محمد علی جناح کی مزار تک تمام بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے میجر جنرل ریٹائرڈ احسان احمد سیکیورٹی انچارج مقرر کیے گئے ہیں۔ احسان احمد نے اجلاس کے بعد بتایا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے ہیں انتظامات تسلی بخش ہیں، پاکستان پارٹی اور حکومت کی جانب سے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک بلٹ پروف کاریں نہیں پہنچی ہیں، بے نظیر کے لیے خصوصی بلٹ پروف کنٹینر تیار کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں شریک پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے اور تجاویز پیش کی ہیں، سب سے زیادہ خطرہ خودکش بم حملے اور فائرنگ کا ہے، مگر پولیس کے اپنے معاملات ہیں ہم اپنے طور پر خدشات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو فول پروف حفاظتی انتظام فراہم کیے جائیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ حکم سید شفقت حسین معصومی کی درخواست پر جاری کیا تھا جن کا موقف تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ القاعدہ ان پر حملہ کرواسکتی ہے کیونکہ اسامہ بن لادن عورت کی حکمرانی اور جمہوریت کے مخالف ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ اٹھارہ اکتوبر کو ان کی آمد کے موقع پر کراچی میں بارہ مئی جیسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ |