ارمان صابر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | ’پاکستان کے غریب عوام کی حقیقی عید اٹھارہ اکتوبر کو ہوگی |
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو اپنے شیڈول کے مطابق ملک واپس آئیں گی اور اگر انہیں گرفتار کیا گا تو ہزاروں کارکن گرفتاریاں پیش کریں گے اور ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ یہ بات سنیچر کو کراچی پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی سندھ کے سیکرٹری جنرل نفیس صدیقی اور پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس نے کی۔ نفیس صدیقی نے کہا کہ سرکاری حلقے ’ڈس انفارمیشن‘ پھیلا رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو واپسی کے اپنے شیڈول کو حتمی شکل سولہ اکتوبر کو دیں گی اور حکومتی نمائندے کہہ رہے ہیں کہ ان سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ اپنی واپسی مؤخر کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ وثوق سے اعلان کرتے ہے کہ درخواستیں ہوں، مقدمات ہوں، گرفتاریاں ہو یا کچھ بھی ہو، محترمہ بینظیر بھٹو اپنے پروگرام کے مطابق اٹھارہ اکتوبر کو کراچی ضرور پہنچیں گی۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو پپپلز پارٹی کا کیا ردعمل ہوگا، انہوں نے کہا پپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے، ہم قانون کے مطابق تمام ممکنہ راستے اختیار کریں گے اور پورے ملک میں احتجاج کریں گے جو کہ ایک جمہوری طریقہ ہے۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی کے سلسلے سکیورٹی کے حوالے سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جارہا ہے تاکہ ان کے استقبال کے لیے آنے والوں کی تعداد میں کمی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے سکیورٹی کا مکمل بندوبست کیا ہے جبکہ حکومت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ بینظیر بھٹو کو سابق وزیرِاعظم کی حیثیت سے سکیورٹی فراہم کی جائے۔ بے نظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پورے ملک سے لوگ قافلوں کی صورت میں کراچی پہنچیں گے اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی رہنماء کا استقبال کرے گی۔ چودھری غلام عباس نے کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے غریب عوام کی حقیقی عید اٹھارہ اکتوبر کو ہوگی۔ پنجاب سے لوگ کراچی آنا شروع ہوگئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت بینظیر بھٹو کوگرفتار نہیں کر سکتی، لیکن اگر ایسا ہوا تو پنجاب میں بھرپور مظاہرے کیے جائیں گے۔ ’اگر ہم اپنے گھر میں نہیں رہ سکتے تو پھر حکمران بھی اپنے گھروں میں نہیں رہ سکتے۔‘
|