ایمرجنسی، صدر نے تردید کر دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں ایمرجنسی کی خبروں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد صدر کے ترجمان میجر جنرل راشد قریشی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔ بی بی سی اردو سروس سے جمعرات کی شام کو بات کرتے ہوئے صدارتی ترجمان نے کہا کہ ایوان صدر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے ہونے والے اعلی سطحی اجلاس کی خبریں بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔ میجر جنرل راشد قریشی نے مزید کہا کہ بدھ کی شام صدر مشرف کے ملٹری سیکرٹری جاگنگ کے لیے گئے ہوئے تھے، چیف آف سٹاف اپنے گھر میں موجود تھے اور خود صدر مشرف بھی اپنی رہائش گاہ پر تھے۔ ایمرجنسی کی خبروں کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ افواہیں ایک نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے خبروں سے پیدا ہوئیں۔ اس سے قبل ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے بھی کہا کہ صدر مشرف سمجھتے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے ایک اعلی حکومتی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ صدر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں یقین رکھتے ہیں اور وہ ایسا کوئی اقدام کرنے کے خلاف ہیں جس سے یہ عمل متاثر ہو سکتا ہو۔‘ حکومتی اہلکار نے صدر کے حوالے سے کہا کہ ان حالات کی روشنی میں ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کیے جانے کی افواہیں صدر جنرل مشرف کی طرف سے کابل میں ہونے والے امن جرگے میں آخری وقت پر شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد سے گردش کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی طور پر لاحق خطرات کے پیش نظر ایمرجنسی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریں اثنا وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بھی ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چند سیاسی قوتوں کی خواہش کے باوجود صدر مملکت نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ انکی صدر جنرل پرویز مشرف سے جمعرات کی صبح بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے اور وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جو انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ حزب اختلاف کے راہناؤں کے ملک میں امن و امان کی صورتحال اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سخت بیانات کے بعد کچھ سیاسی قوتوں نے صدر سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لئے کہا تھا لیکن صدر نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شفاف انتخابات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اسکی راہ میں رکوٹ بننے والی کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی نے ایک انٹرویو میں ایمرجنسی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنرل مشرف سے ان کی جمعرات کی صبح بات ہوئی ہے جس میں صدر نے کہا کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے جو انتخابات پر اثر انداز ہو۔ تاہم وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات طارق عظیم نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو اس حوالے سے پاکستانی ذرائع ابلاغ نے افواہوں کو کچھ زیادہ ہی اچھالا۔ جمعرات کو دوپہر ایک بجکر پچیس منٹ پر جب وزیرِ مملکت طارق عظیم سے پوچھا گیا کہ کیا صدر جنرل پرویز مشرف آج ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کسی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں تو انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اس قسم کے کسی اجلاس کی اطلاع نہیں۔ ’بہتر ہو گا کہ ایوانِ صدر سے معلومات کی جائیں۔‘ ایمرجنسی کی صورت میں ملک میں ناصرف عدالتوں کا کردار محدود ہو جائے گا بلکہ شہری آزادی اور آزادئِ اظہار بھی متاثر ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایمرجنسی کی افواہوں کے بعد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کونڈولیزا رائس نے جمعرات کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف سے فون پر دیر تک بات کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||