’میڈیا پر پابندی کالا قانون ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں، اخبار مالکان، اور نشریاتی اداروں کے سربراہوں کی تنظیموں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان پابندیوں کے خلاف اپنا لائحہ عمل طے کررہے ہیں۔ حکومت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے متعلق ایک آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے ذرائع ابلاغ پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کردی ہیں جن پر صحافیوں کی نتظیم پاکستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری مظہر عباس نے اتوار کو تبصرہ کرتے ہوئے انہیں’ کالا قانون‘ قرار دیا۔ انہوں نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو چینلز کے خلاف بالکل اسی طرح استعمال کیا جائے گا جس طرح پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کو اخبارات کے خلاف اس کے خاتمہ تک استعمال کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو کون طے کرے گا کہ کیا ملکی مفاد کے خلاف ہے اور کیا نہیں، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حکومت کسی بھی خبر کو قومی مفاد کے خلاف قرار دے کر میڈیا کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ایف یو جے کی ذیلی تنظیموں کے اجلاس ہورہے ہیں اور منگل کو پی ایف یو جے کا ایک اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں صورتحال کی جائزہ لینے کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ادھر اخبار مالکان کی تنظیم اے پی این ایس یعنی آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن کے صدر حمید ہارون نے بھی ترمیمی آرڈیننس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس قسم کی پابندیوں کو کوئی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی غلط فہمی ہے کہ میڈیا اس معاملے میں خاموش رہے گا۔ ان کے بقول ہم بالکل خاموش نہیں رہیں گے اور ان ترامیم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی این ایس کا منگل کو ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے اور پہلے اے پی این ایس اور پھر ممکنہ طور پراے پی این ایس، سی پی این ای یعنی کونسل فار پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز، اور پی بی اے یعنی پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں تمام معاملات پر غور کیا جائے گا اور پھر ہم کسی فیصلے کا اعلان کریں گے۔ انگریزی زبان کے ایک نجی ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز اظہر عباس نے ان پابندیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بہت دنوں سے میڈیا پر پابندی عائد کرنا چاہتی تھی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس کو یہ موقع ہاتھ آگیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس طرح سے میڈیا نے وکلاء کی تحریک میں عوام کو معلومات فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا تو اب حکومت کو یہ خدشہ تھا کہ اگر میڈیا پر پابندیاں نہیں لگائی گئیں تو اس مرتبہ بھی کوئی تحریک شروع ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف آف آرمی اسٹاف ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پریس نیوز پیپرز اینڈ بُک رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے ذریعے تمام نجی چینلز پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ وہ اس نوعیت کا کوئی مواد، انٹرویو، ٹاک شو، اور خبریں کی نشر نہیں کریں گے جس سے ملکی سالمیت، ملکی مفاد یا نظریہ پاکستان پر حرف آئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق تمام نجی چینلز بشمول اخبارات شدت پسندی کو ہوا نہیں دیں گے اور نہ ہی شدت پسندوں کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات نشر کریں گے۔ مزید یہ کہ خودکش بم حملوں اور اس میں زخمی یا مرنے والوں کی فوٹیج بھی نہیں دکھائی جائے گی۔ حکومت نے ملک کے مختلف شہروں میں کیبل آپریٹرز پر نیوز چینلز دکھانے پر خفیہ پابندی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے عوام صرف سرکاری نیوز چینل دیکھنے پر مجبور ہیں جو صرف سرکاری مؤقف کو بیان کررہا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان پیمرا کی نیوز چینلوں کو تنبیہہ26 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||