BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی: سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ

پاکستانی صحافی فائل فوٹو
پاکستانی صحافی پیمرا آرڈیننس پر احتجاج کرتے ہوئے :فائل فوٹو
پاکستانی صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور مقامی تنظیم راولپنڈی اسلام آباد یو نین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے حکومت کی جانب سے ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا پر لگائی جانے والی پا بندیوں کے خلاف پیر سے تمام سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے اس اقدام کے خلاف جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آْباد کے صحافیوں نے اتوار کی شام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک پر امن احتجاج کی کوشش کی تو اس موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری نے انہیں شدید ہراساں کیا اور اس احتجاج کی کوشش ناکام بنا دی۔

پولیس افسران نے صحافی قائدین کو نہایت توہین انداز میں مخاطب کیا اور انہیں خبردار کیا کہ انہیں اعلٰی حکام کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والے صحافیوں کو فوری طور پرگرفتار کر کے جیل بجھوا دیا جائے۔

بعد ازاں صحافی قائدین بشمول پی ایف یو جے کے صدر ہما علی، سکریٹری جنرل مظہر عباس، نائب صدر فوزیہ شاہد اور آر آئی یو جے کے صدر افضل بٹ کی قیادت میں پریس کلب کے اندر ایک احتجاجی اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے میڈیا پر لگائی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کی گئی۔

ایمرجنسی نہیں مارشل لاء ہے
 حکومتی اقدام کو مارشل لاء قرار دیا اور کہا کہ یہ ایمرجنسی نہیں جس میں پورا آئین معطل کردیا گیا ہے اور نہ صرف صحافیوں بلکہ تمام عوام کے بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے ہیں
صحافی

صحافی قائدین نے ملک بھر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات اور اتوار کی دوپہر ’آج‘ ٹی وی پر پولیس کے چھاپے کی بھی مذمت کی۔

اجلاس نے حکومتی اقدام کو مارشل لاء قرار دیا اور کہا کہ یہ ایمرجنسی نہیں جس میں پورا آئین معطل کردیا گیا ہے اور نہ صرف صحافیوں بلکہ تمام عوام کے بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم چلائی جاِئے گی ۔اس مقصد کے لیے منگل کو اسلام آباد میں پی ایف یو جے کی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

اس موقع پر پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

صدر مشرف’عدالتی بحران‘
میڈیا قومی مفادات کا خیال رکھے: صدر مشرف
مظفر آبادزلزلہ اور میڈیا
اطلاعات کی رسائی کا نظام بری طرح متاثر
اسی بارے میں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد