BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت

ایمرجنسی کے خلاف لاہور میں ایک شخص نے تناہ مظاہرہ کیا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کرنے، ملک میں ایمرجنسی لگانے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی وسیع اور سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کے لیے دو قوانین میں ترامیم کردی ہیں۔

ان ترمیمی قوانین کے تحت کوئی اشاعتی یا نشریاتی ادارہ خود کش بمباروں، دہشت گردوں اور دہشت گردی کے متاثرین کی تصویریں، شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے ایسے بیانات شائع یا نشر نہیں کرسکے گا جس سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہو۔

یہ پابندی لگانے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف نے پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتابوں کے اندراج کے قانون مجریہ سن دو ہزار دو اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس سن دو ہزار دو میں ترامیم کے دو آرڈیننس جاری کیے ہیں۔

پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتابوں کے بارے میں قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ ایسا کوئی بھی مواد یا گرافک، بیانات، تبصرے، اور اعلانات نہیں شائع کیے جاسکتے جس کی بنیاد فرقہ واریت، لسانیت یا نسلی تعصب ہو۔

اس ترمیمی آرڈیننس کے مطابق کہا گیا ہے کہ سربراہ ریاست ( صدر مملکت) ، افواج پاکستان، عدلیہ اور ریاست کے قانون ساز اداروں کے اراکین کے بارے میں ایسا کوئی مواد یا گراف وغیر شائع نہیں کیا جائے گا جس سے ان کی تضحیک ہوتی ہو یا ان کا مذاق اڑایا گیا ہو۔

ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے اخبارات صدر یا کسی رکن اسمبلی کا کارٹون وغیرہ بھی شائع نہیں کرپائے گا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی مزاحیہ یا طنزیہ خاکے شائع کیے جاسکیں گے۔

متعلقہ قانون میں ترمیم کے بعد ایسا کوئی مواد بھی شائع نہیں ہو پائے گا جس سے نظریہ پاکستان یا ملکی سالمیت یا خود مختاری کو خطرہ لاحق ہو یا اس سے متعصب ہو۔ ترمیمی قانون کے تحت ایسا کوئی مواد یا تصویر بھی شائع نہیں ہوسکے گی جس سے تشدد، نفرت یا مختلف عقائد رکھنے والوں میں اختلاف بڑھیں ۔

اخلاقیات کے عام اصولوں کے منافی ایسا کوئی بھی مواد شائع نہیں ہوگا جس سے بے ہودگی اور فحاشی کو فروغ ملے۔ خلاف ورزی کرنے والے اخبارات اور خبر رساں اداروں کے خلاف ضلعی رابطہ افسر یا ڈپٹی کمشنر فوری کارروائی کرے گا اور ایک ماہ تک اشاعت معطل کرسکتا ہے۔

اخبارات اور خبر رساں اداروں کے بارے میں قانون کی شق چوالیس میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت متعلقہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے کارروائی کرسکتی ہے۔

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس سن دو ہزار دو میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خود کش بمباروں کی تصاویر یا شدت پسندوں کے بیانات نشر نہیں کیے جائیں گے۔ کوئی ٹی وی اینکر پرسن، میزبان یا مہمان کوئی ایسی رائے یا عمل نہیں کرے گا جو نظریہ پاکستان یا ملکی سلامتی کے خلاف ہو۔

ترمیمی قانون کے مطابق کوئی نشریاتی ادارہ عدالت میں زیر التوا کسی معاملے پر تبصرہ، بحث یا کوئی بھی پروگرام نشر نہیں کرے گا۔ اس قانون کے مطابق کوئی بھی بے بنیاد، بد نیتی پر مشتمل یا جھوٹی معلومات نشر نہیں کرے گا۔

ذرائع ابلاغ سے وابستہ بیشتر صحافیوں کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا پابندی ایسی مبہم ہے جس کی جو بھی حکومت تشریح کرے وہ اس بنا پر نشریاتی ادارے اور متعلقہ صحافیوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔

’پیمرا آرڈیننس‘ کی شق پچیس میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تمام پابندیاں ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں پر بھی لاگو ہوں گی۔

ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی نشریاتی ادارہ ’پیمرا‘ کی پیشگی تحریری اجازت کے بنا کسی بھی غیر ملکی براڈ کاسٹر سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے جس کے تحت وہ کسی غیر ملکی ادارے کو اپنا ایئر ٹائم بیچ سکے۔

خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جہاں جرمانے کی حد بڑھادی گئی ہے وہاں پیمرا حکام کے اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ کیا گیا اور انہیں بغیر نوٹس کسی بھی خلاف ورزی کے مرتکب نشریاتی ادارے کو سر بمہر کرنے، آلات قبضے میں لینے اور جتنی مدت چاہیں اس وقت تک نشریات بند کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

ترمیمی آرڈیننس میں پرتشدد واقعات اور فسادات کی براہ راست کوریج پر پابندی لگانے کے لیے ایک نئی ذیلی شق شامل کی گئی ہے۔ نشریاتی اداروں کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے اپنے نظام میں تاخیرِ وقت نشریاتی آلات نصب کریں۔ یعنی ایسا آلہ جس سے نشر ہونے والا کوئی بھی پروگرام اپنے اصل نشریاتی وقت سے کچھ دیر کے بعد نشر ہو۔

’پیمرا آرڈینسس‘ کی خلاف ورزی کرنے والے براڈ کاسٹ لائیسنس یافتہ شخص کو تین سال قید یا ایک کروڑ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔ جبکہ نشریات تقسیم کرنے والے لائیسنس یافتہ شخص کے لیے یہ سزا ایک سال اور جرمانہ پچاس لاکھ تک ہوگا۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد