ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کو ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانے سے روک دیا ہے جو عدلیہ کی آزادی کے منافی ہو۔ بینچ نے حکم دیا ہے کہ چیف جسٹس صاحبان سمیت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی بھی جج عبوری آئین یا کسی بھی ماوراء آئین اقدام کے تحت حلف نہیں اٹھائے گا۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے چیف آف آرمی سٹاف، کمانڈروں، سٹاف آفیسروں اور تمام متعلقہ سول اور فوجی حکام کو بھی عبوری آئین پر عمل درآمد سے روک دیا ہے۔ ان کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں سے عبوری آئین کے تحت حلف لینے اور کوئی بھی ایسا کام کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جو عدلیہ کی آزادی کے منافی ہو۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبوری آئین کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر ججوں کی تعیناتی غیر آئینی ہو گی۔ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے یہ حکم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی طرف سے لارجر بینچ کے سامنے دی گئی درخواست پر دیا ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومت صدر کی اہلیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی ہیت کو عبوری آئین یا ایمرجنسی نافذ کر کے تبدیل کر دے گی۔ سات رکنی بنچ نے درخواست کو مزید سماعت کے لیے سپریم کورٹ کی سترہ رکنی بنچ کو بھیج دی تھی اور آئندہ سماعت کے لیے پانچ نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’ایمرجنسی افواہیں، دبئی سفرملتوی‘ 31 October, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب‘ 03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ایمرجنسی، پی سی او نافذ، عبدالحمید ڈوگر نئے چیف جسٹس03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت 06 May, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||