BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمرجنسی تاریخ کا ایک سیاہ باب‘
نواز شریف
’جو چنندہ ججز ہوں گے ان پر کون یقین کرے گا‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسا بحران ہے جو اس سے پہلے نہ دیکھا نہ سنا اور ساٹھ سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام آج نہ اٹھے تو پھر دوبارہ اٹھنے کا وقت نہیں آئےگا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب جعلی کارروائی ہو رہی ہے اور ایسا کرنے والے کل پچھتائیں گے۔ جو چنندہ ججز ہوں گے ان پر کون یقین کرے گا‘۔

اس سے قبل مسلم لیگ (ن) رہنما کے شہباز شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کو پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب قرار دیا۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ڈکٹیٹر جس نے آٹھ برس قبل شب خون مارا تھا اور جس نے کہا تھا کہ وہ ملک میں سچی جمہوریت لائے گا، آج آٹھ سال بعد سچی جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ ملک میں ایک بار پھر آئین کو پاؤں تلے روند دیا گیا ہے‘۔

شہباز شریف نے سوال کیا کہ ’حالات کی خرابی کا کون قصور وار ہے۔ جنرل مشرف ملک کے صدر ہیں اور ان کا اپنا چنا ہوا وزیراعظم ہے۔ ان کی اپنی کابینہ ہے۔ وہ کس کو دوش دے رہے ہیں کس پر الزام دھر رہے ہیں‘۔

شہباز شریف کے مطابق ’یہ وقت ہے کہ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ پوری قوم اس ایمرجنسی کے خلاف ڈٹ جائے۔ ہم اس ایمرجنسی کو کسی طور قبول نہیں کریں گے اور نہ چاہیں گے کہ فوج دوبارہ ملک کی سڑکوں پر آئے اور جو جرنیل اپنے ذات کے لیے اقتدار کو طول دینے کے ملک گروی رکھ دے‘۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا شاید اور دوسرا کوئی راستہ نہیں رہا تھا

ایمرجنسی کے حوالے سے حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا صدر پرویز مشرف کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ متوقع تھا جو وہ غالباً حکومت کی خواہشات کے برعکس تھا اور اس کا راستہ روکنے کے لیے حکومت کے پاس شاید اور دوسرا کوئی راستہ نہیں رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت لاہور میں ہیں جس دوران خبر آئی کہ مختلف ٹی وی چینلز کی نشریات روک دی گئی ہیں۔ یہ ایمرجنسی عام ایمرجنسی جو دستور کے مطابق ہوتی ہے وہ نہیں ہے بلکہ اس سے ماورا اقدام کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں ان حالات میں ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کے راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ یہ اندازے کافی عرصے سے سیاسی حلقوں میں لگائے جا رہے تھے۔

قومی اسمبلی (فائل فوٹو)اپوزیشن کا مطالبہ
’ایمرجنسی کی خبروں کی فوری وضاحت کی جائے‘
افواہ اور حقیقت
ممکنہ ایمرجنسی کی خبریں سرخیوں میں
صدر مشرف (فائل فوٹو)سیاست کی مشکل
’ایمرجنسی لگانےوالاجنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘
صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
اسی بارے میں
’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد