ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم(PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئی ہیں، سرکاری موبائل فون کمپنی کا نیٹ ورک جام کر دیا گیا ہے اور شاہراہ دستور پر رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی نے یہ بھی بتایا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ملک کے نئے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس اعلان سے قبل مقامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور انہیں پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے ایک حکم جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیا اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت دی ہے کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
اسلام آباد میں پولیس،رینجرز تعینات
اعتزاز احسن کی گرفتاری پاکستان میں گزشتہ چار روز سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہیں اور ان افواہوں میں تیزی آج اس وقت نظر آئی جب ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس سے قبل ملک میں امن و امان کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے ایوان صدر میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں پیمرا اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جس میں ملک میں نافذ العمل میڈیا پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا گیا ہے۔ پریس پر پابندیاں وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ءمیں بعض ترامیم اور بعض شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔ (نامہ نگار: اعجاز مہر، ہارون رشید اور شہزاد ملک) |
اسی بارے میں ایمرجنسی، صدر نے تردید کر دی09 August, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی لگانے والا جنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘04 September, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی افواہیں، دبئی سفرملتوی‘ 31 October, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی، بازارِ حصص میں مندی‘09 August, 2007 | پاکستان ممکنہ ایمرجنسی کی خبریں سرخیوں میں09 August, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت 06 May, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی بازگشت10 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||