وکلاء کا احتجاجی تحریک کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی وکلاء برادری نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر پیر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج میں وکلاء برادری اہم کردار ادا کرے گی اور’ہم نے اپنے احتجاج کو حتمی شکل دینے کے لیے وکلاء سے رابطے شروع کر دیے ہیں‘۔ قبل ازیں ابرار حسن نے سنیچر کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک میں اسّی فیصد امکانات مارشل لاء یا ایمرجنسی کے ہیں اور ملک کی غیر یقینی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر ایسا کوئی قدم اُٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ارباب اختیار سے دست بدستہ درخواست کرتے ہیں کہ ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جائے جس سے ملکی سلامتی اور دستور خطرے میں پڑ جائے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر مارشل لاء یا ایمرجنسی نافذ کی جائے گی تو یا تو دستور معطل کیا جائےگا یا ترمیم کیا جائے گا۔ ابرار حسن نے اعلان کیا کہ وکلاء برادری مارشل لاء یا ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف ملک بھر کی گلیوں، سڑکوں، کھیتوں اور کھلیانوں میں احتجاج کرے گی اور عوام اور سول سوسائٹی کو حکومتی اقدام سے آگاہ کرے گی۔ ابرار حسن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مارشل لاء یا ایمرجنسی کے بعد عدلیہ کے ممکنہ ردعمل جو پہلے بھی ظاہر ہوا تھا اُس سے بچنے کے لیے پی سی او کے تحت اپنے من پسند ججز سے حلف لے گی اور جن ججز کے حکومتی اقدامات کے خلاف جانے کا امکان ہوگا اُنہیں ریٹائر کر دیا جائے گا۔ انہوں نے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والوں سے کہا کہ خدارا ملک کے فیڈریشن اور دستور کو پچایا جائے اس بار دستور کو نقصان پہنچا تو دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا۔ | اسی بارے میں ’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||