’ہرمسئلہ بےیقینی کی کھونٹی پر لٹکا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ہرچیز بے یقینی کی کھونٹی پر لٹکی نظر آتی ہے، صدر صاحب کا انتخاب ہو یا ان کی وردی، مصالحتی آرڈیننس ہو یا عام انتخابات، کسی چیز کے بارے میں کوئی بھی وثوق سے کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اگر کوئی آئیں بائیں شائیں کرتا بھی ہے تو اس سے نئے وسوسے اور خدشات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اب تازہ ترین یہ ہے کہ ملک میں مارشل لاء یا ایمرجنسی لگ سکتی ہے، جب اس سلسلے میں وزیراعظم شوکت عزیز سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بھی ہوگا آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ ایک اور وزیر جناب فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے اور انتخابات بھی ایک سال کے لیے ملتوی ہوسکتے ہیں بقول ان کے یہ بھی آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ اس بے یقینی کا سبب وہ مقدمات بھی ہیں جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ ہر مقدمہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے ہنگامہ خیز ہوگا چنانچہ صدر مشرف سمیت پورے ملک کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں اور ایک سسپنس کی کیفیت ہے یعنی اگر یہ فیصلہ آگیا کہ صدر صاحب صدارت کے لیے نااہل ہیں، پھر کیا ہوگا۔ اگر یہ فیصلہ آگیا کہ مصالحتی آرڈیننس نافذالعمل نہیں ہوسکتا تو پھر کیا ہوگا۔اگر یہ فیصلہ آگیا کہ نواز شریف صاحب کو واپس بھیج کر عدالت کے فیصلے کی توہین کی گئی ہے اور انہیں فوراً واپس لایا جائے تو پھر کیا ہوگا اور اگر یہ فیصلہ آگیا کہ 18 اکتوبر کے سانحہ کی تحقیقات میں حکومت کے حساس ادارے ملوث ہیں تو پھر کیا ہوگا اور یہ سوال بھی لوگ اپنے آپ سے ہی کرتے ہیں جیسے اس ملک میں اب ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی رہا ہی نہیں۔ پاکستان اور امریکہ نواز شریف کے داخلے پر پابندی لگائی تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا دعویٰ دائر ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب مصالحت کے لیے ہاتھ بڑھایا تو خود اپنی پارٹی والے ناراض ہوگئے۔ اب وہ دو کشتیوں میں پیر رکھے کھڑے نظر آتے ہیں اور دونوں مخالف سمت میں جا رہی ہیں۔ تازہ ترین یہ ہے کہ امریکی دوستی پر ناز تھا تو انہوں نے دو ٹوک کہہ دیا کہ طویل المدت تعلقات کے تناظر میں پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان ہمارے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آپس میں عدم اعتماد کا یہ عالم ہے کہ ممتاز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج نے قبائلی علاقے میں طالبان اور القاعدہ والوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے پاکستانی فوج کو ایسے چشمے فراہم کیے ہیں جس سے رات کی تاریکی میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ اس ایک چشمے کی قیمت 9 ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ہر تین ماہ کے بعد یہ سارے چشمے دو ہفتوں کے لیے امریکی فوج کے حوالے کیے جاتے ہیں تاکہ وہ یہ اطمینان کرلے کہ ان میں سے کوئی غائب تو نہیں ہوگیا یا کسی غلط ہاتھ میں تو نہیں چلا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ کسی طرح شدت پسندوں نے یہ بھانپ لیا ہے کہ یہ چشمہ کب پاکستانی فوجیوں کے پاس نہیں ہوتا اور ان دو ہفتوں میں وہ علاقے میں آزادانہ گھومتے ہیں۔ اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکام کو شکایت ہے کہ قبائلی علاقے میں شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے مزید ہیلی کاپٹروں، خصوصی چشموں اور دوسرے آلات کی ضرورت ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو فراہم کیے گئے ہیں ان کا ہی مناسب اور بھرپور استعمال نہیں ہو رہا ہے مزید کی فراہمی سے کیا فائدہ۔ پتہ نہیں واشنگٹن پوسٹ کی اس کہانی میں کتنی صداقت ہے لیکن یہ حقیقت ہے دونوں دوست فوجیوں میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اس لیے کہ امریکی حکومت پاکستان سے وہ کچھ کرانا چاہتی ہے جو وہ خود گزشتہ چھ سال میں نہیں کرسکی اوراب خود امریکہ میں یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ اگروہ موجودہ حکمت عملی پر عمل پیرا رہے تو شاید آئندہ چھ سال میں بھی وہیں رہیں گے جہاں آج کھڑے ہیں۔ ایسی صورت میں صدر پرویز مشرف پر مزید دباؤ ڈالنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔
محترمہ بینظیر پہلے یہ خبر آئی کہ محترمہ 9 نومبر کو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے مقام پر ایک جلسۂ عام سے خطاب کریں گی۔ پھر یہ خبر آئی کہ محترمہ دبئی جارہی ہیں لیکن 9 نومبر کو راولپنڈی کے جلسے سے ضرور خطاب کریں گی، اس کے بعد اچانک یہ خبر آئی کہ ملک میں ہنگامی حالات کے اعلان کا خدشہ ہے اس لیے وہ دبئی نہیں جا رہی ہیں اور پنڈی کے جلسے سے ضرور خطاب کریں گی۔ اس کے بعد وزیرمملکت برائے اطلاعات جناب طارق عظیم کا یہ بیان شائع ہوا کہ محترمہ کے خلاف بیرون ملک جو مقدمات ہیں ان سے مفاہمتی آرڈیننس کا کوئی تعلق نہیں۔اس کے بعد یہ خبر آئی کہ محترمہ اچانک دبئی روانہ ہوگئیں تاہم پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ 8 نومبر کو واپس آجائیں گی اور 9 نومبر کو راولپنڈی کے جلسے سے ضرورخطاب کریں گی۔ ممکن ہے پیپلز پارٹی والے صحیح کہہ رہے ہوں لیکن اب مجھے تو لگتا ہے کہ کہیں ایم کیو ایم کے سربراہ جناب الطاف حسین کی سنت پر عمل کرتے ہوئے وہ بھی دبئی سے بذریعہ ٹیلی فون ہی خطاب فرمانے پر اکتفا نہ کریں اس لیے کہ اپنے چاہنے والوں سے دور رہتے ہوئے قریب رہنے کا یہ سب سے محفوظ طریقہ ہے۔ سوات وزیرستان بنتا جارہا ہے
ادھر ایک جرگے کی کوششوں سے شدت پسندوں نے48 اہلکاروں کوکل شام رہا کردیا جنہیں کل صبح اغواء کیا گیا تھا اور انہیں زاد راہ کے طور پر پانچ پانچ سو روپے کی رقم بھی دی ہے۔ اب یہ زاد راہ والی بات نئی ہے جو وزیرستان والوں کو اب تک نہیں سوجھی تھی۔ شدت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ پہلے اعلان کہہ چکے ہیں کہ جب تک ان کی شرطیں پوری نہیں ہوتیں وہ حفاظتی افواج کے خلاف چھاپہ مار اور خودکش حملے بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے اور ان کی شرطوں میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سوات میں شرعی نظام نافذ کیا جائے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ شریعت کون سی ہوگی۔ اس لیے کہ شیعہ سنی کو نہیں مانتے، بریلوی دیو بندیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، دیوبندی جماعت اسلامی سے ناراض ہیں اور علامہ مشرقی کے چاہنے والے خاکسار ان سب سے انکاری ہیں۔ جب ملک میں دیانتدار اور پرخلوص قیادت کا فقدان ہو تو سارے نظریات، سارے عقیدے اور سارے نعرے عوام کو بیوقوف بنانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں روشن خیال اعتدال پسند ہوں یا نفاذ شریعت کے داعی سب عوام کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے۔ ہمیشہ تو جاری نہیں رہ سکتا۔ بقول ابراہم لنکن’ کچھ لوگوں کو کچھ دنوں تک بیوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن سارے لوگوں کو ہمیشہ بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا‘۔ |
اسی بارے میں پاکستان، ہوتا ہے شب و روز تماشہ29 September, 2007 | قلم اور کالم تلخ سیاسی مہم اور ایک جیسی پارٹیاں27 October, 2007 | قلم اور کالم ’سیاست میں نہ کوئی اصول نہ ضابطہ‘01 September, 2007 | پاکستان پاکستان، تاریخ کچھ اور مانگ رہی ہے13 October, 2007 | پاکستان میاں صاحب گئے محترمہ آرہی ہیں15 September, 2007 | پاکستان اعلیٰ عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے25 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||