بینظیر! مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب تک یہ تو ساری دنیا جان گئی ہے کہ کل رات بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں دو دھماکوں کی صورت میں جو قیامت ٹوٹی اس میں کم از کم 134 جانیں جاتی رہیں۔ مارے جانے والے ان لاکھوں گمناموں میں سے وہ چند جانیں تھیں جو اپنی رہنما کی آٹھ سالہ جلاوطنی کے خاتمے کا جشن منانے یکجا ہو گئی تھیں۔ پچھلے بیس گھنٹوں میں میڈیا کے بڑے بڑے نام اور بڑے بڑے دماغ اس سوال سے بھڑ رہے ہیں کہ دھماکے کس نے کیے ، کس کے ایما پر کیے اور کیوں کیے۔ حسب توقع ابھی تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کی کوئی امید ہے۔ تو جب تک ریاست کے کرتا دھرتا ان دھماکوں کے آس پاس کوئی جھوٹی سچی حقیقت نہیں کھڑی کر لیتے کیوں نہ ہم دل بہلانے کو یہ سوچیں کہ اگر یہ دھماکے نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔ اگر دھماکے نہ ہوتے تو شاید بینظیر بھٹو کا مزار قائد پر جلسہ اب سے تھوڑی ہی دیر پہلے ختم ہوا ہوتا اور پاکستانی مبصرین یہ فیصلہ صادر کر چکے ہوتے کہ جس ملین مارچ کا ذکر پاکستان میں اکثر ہوتا تھا آخر وہ ہو ہی گیا۔ آج کے اخبارات کی شہ سرخیاں یہ نہ کہتیں کہ بینظیر کے جلوس پر خود کش حملہ، 135 ہلاک 500 سے زائد زخمی، بلکہ شاید یہ کہتیں کہ بھٹو کی بیٹی کو لاکھوں جیالوں کا سلام۔ اس سے شہ پا کر بینیظیر بھٹو شاید ایسے ہی کئی جلسے سندھ اور پنجاب میں بھی کر کے یہ ثابت کر دیتیں کے پی پی پی دشمن قوتوں کی 30 سالہ کوششوں کے باوجود بھی بھٹو کے نام پر لوگ یوں امڈ آتے ہیں جیسے شہد پر مکھیاں۔ اگر کل کے دھماکے نہ ہوتے تو آج وہ حکومتی گروہ جو بینظیر بھٹو کو آئیندہ انتخابات میں شکست فاش دینے کا دعوٰی کر رہے ہیں شاید ان کے ساتھ مفاہمت کے سب بڑے چیمپئن بن گئے ہوتے۔ اگر کل کے دھماکے نہ ہوتے تو شاید کوئی نہ جان پاتا کہ صرف ایک فوجی سربراہ کی سیاست بدلنے سے ملک بھر میں پھیلے سینکڑوں بے نام کمانڈروں کی سوچ نہیں بدل سکتی جو پچھلے تیس سال سے اس نظریے پر پل رہے ہیں کہ پی پی پی کی عوامی سیاست کو ریاستی کنٹرول تھمانا پاکستان کے مستقبل کے لیے زہر قاتل ہے۔ اگر کل کے دھماکے نہ ہوتے تو شاید بینظیر بھٹو یہ کبھی نہ جان پاتیں کہ یہ وہ پاکستان نہیں جو وہ نو برس پہلے چھوڑ گئیں تھیں۔ وہ کیسے جانتیں کہ آج کے پاکستان میں رسم یہ ہے کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔ شاید کوئی نہ جان پاتا کہ دھماکوں کی جو شدت پہلے صرف عراق کے شہروں یا گلی کوچوں میں پائی جاتی تھی اب وہ پاکستان کے شہروں میں چلی آئی ہے۔ اور اگر کل کے دھماکے نہ ہوتے تو کوئی یہ کیسے جان پاتا کہ وہ انتہا پسند جو اب تک اپنی جنگ صرف اہل اقتدار کے خلاف لڑ رہے تھے اب وہ وہی جنگ پاکستان کے گلی کوچوں میں سیاسی ورکرز کے خلاف لڑیں گے۔ بینظیر بھٹو ، آپ کو صدر جنرل پرویز مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||