BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں

اخبارات
کراچی میں ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلی گئی جس کی سرخیاں آج کے تمام اخبارات پر چھائی ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ دھماکے نصف شب کے بعد پیش آئے جس وقت تک تمام اخبارات اپنے ایڈیشن مکمل کرچکے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اخبارات نے اس خبر کو اپنی سرخی بنایا جس کی وجہ سے تمام اخبارات صبح مارکیٹ میں تاخیر سے پہنچے۔

انگریزی اخبار ڈان نے بینر ہیڈلا ئن میں لکھا ہے ’بےنظیر نصف شب کی خونریزی میں محفوظ‘ جبکہ روزنامہ ایکسپریس نے ’بےنظیر کے جلوس میں خودکش دھماکے ایک سو پینتیس جاں بحق’ کی سرخی لگائی۔ دی نیوز کی شہہ سرخی ہے ’دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو پچیس ہلاک‘۔

کراچی میں نصف شب کے بعد ہونے والے دھماکوں کی رپورٹنگ کو تفصیلی تو نہیں کہا جاسکتا البتہ جس اخبار کو محدود وقت میں جتنی خبریں اور تصاویر مل سکیں انہوں نے شائع کیں۔

اخبارات نے بےنظیر بھٹو کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے بلٹ پروف ٹرک کے اردگرد بکھری ہوئی لاشوں، جلتی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔

ڈیلی ٹائمز نے ایک خصوصی کالم میں ان دھماکوں کو آنے والے وقتوں کا نمونہ قرار دیتے ہوئے ایسے مزید واقعات رونما ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے

ایکسپریس نے بےنظیر کے ایک بیان کو بھی جگہ دی ہے جس میں انہوں نے ان حملوں کو حکومت کی غفلت کا مظاہرہ قرار دیا ہے جبکہ ان کے شوہر کے مطابق ان دھماکوں کی ذمہ داری ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے۔

لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی کے اخبار ڈیلی ٹائمز نے ایک خصوصی کالم میں ان دھماکوں کو آنے والے وقتوں کا نمونہ قرار دیتے ہوئے ایسے مزید واقعات رونما ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔اور اس واقعہ کی ذمہ داری القاعدہ پر ڈالی ہے۔

اکثر اخبارات نے اپنے اداریے بےنظیر بھٹو کی آمد پر لکھے ہیں۔ روزنامہ جسارت کا کہنا ہے کہ یہ وہی شہر کراچی تھا جس نے چیف جسٹس پر سڑکیں بند کر دی تھی اور عمران خان کو داخل نہیں ہونے دیا تھا لیکن صدر مشرف سے مفاہمت کے بعد بےنظیر سے متعلق سندھ حکومت اور ایم کیو ایم کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

انگریزی اخبار دی نیوز کے اداریے کے مطابق بےنظیر بھٹو کا استقبال تاریخی ضرور تھا تاہم اس موقع پر عوام کی وہ تعداد نہیں آسکی جو انیس سو چھاسی میں انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے آئی تھی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو آمریت اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نجات دلانے کے دو اہم اہداف لے کر واپس آئی ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت نے ایک کارٹون میں پریشان حال صدر جنرل پرویز مشرف کو بےنظیر کا استقبال کرتے دیکھایا تاہم ان کے قریبی ساتھیوں چوہدری شجاعت حسین اور الطاف حسین کو ناراضگی کی حالت میں دوسری جانب منہ کیے ہوئے دکھایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد