BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 20:37 GMT 01:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی ریلی میں دو دھماکے، 125 افراد ہلاک

بینظیر کے قافلے میں دھماکہ
بینظیر کے ریلی میں دھماکوں کے بعد کے ایک منظر میں لوگ ایک شدید زخمی شخص کی مدد کر رہے ہیں

پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی آٹھ سال سے زیادہ جلا وطنی کے خاتمے کے دن کراچی میں خوفناک بم دھماکوں میں کم از کم 125 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

بینظیر بھٹو کی ریلی میں پہلا دھماکہ کراچی میں شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب جمعرات کی رات کو بارہ بجکر پانچ منٹ پر پیش آیا۔ اس کے فوراً بعد ہی دوسرا دھماکہ ہوا۔ تاہم بینظیر ان دھماکوں سے محفوظ رہیں۔

بینظیر بھٹو آٹھ سال سے زائد جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد جمعرات کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق ایک بجکر پینتالیس منٹ پر کراچی پہنچی تھیں۔ بینظیر کے استقبال کے لیے آنے والا جلوس اتنا بڑا تھا کہ انہیں کارساز تک پہنچنے میں تقریباً دس گھنٹے لگے۔ جب جلوس کارساز کے پل کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔

بینظیر محفوظ رہیں
بینظیر بھٹو کو ٹرک سے نیچے اتارا جا رہا ہے
 دھماکے کے وقت بینظیر بھٹو ٹرک کے عرشے سے اتر کر نیچے ٹرک میں بنائے گئے خصوصی کمرے میں آرام کرنے گئی تھیں۔ انہیں فوراً وہاں سے اتار کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا جبکہ جلسہ گاہ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ بینظیر بھٹو محفوظ ہیں

کراچی پولیس نے دھماکے کو ایک خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ کراچی کے سٹی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کے مطابق پہلے جلوس میں شریک لوگوں پر ایک گرینیڈ پھینکا گیا اور پھر ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔

وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دہشت گردی کا نشانہ بینظیر بھٹو تھیں۔

بی بی سی کے کراچی میں نامہ نگار عباس نقوی نے بتایا ہے کہ سپرنٹینڈنٹ پولیس (سی آئی ڈی) راجہ عمر خطاب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریلی پر حملہ ایک خود کش حملہ تھا اور پولیس کو خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔

رات گئے تک دیگر تفصیلات کے مطابق کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے ہسپتال ذرائع کے مطابق اکہتر لاشوں کی تصدیق کی ہے۔

دھماکے میں پیپلز پارٹی کے رہنما بھی زخمی ہوئے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی غلام قادر چانڈیو نے بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما امین فہیم بھی دھماکے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ جناح ہسپتال سے 43 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ جن لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے ان میں کراچی لیاری کے علی بخش بلوچ، کراچی گزری کے طاہر ناریجو، پولیس انسپیکٹر شہاب الدین، اور ایک ٹی وی چینل اے آر وائی کے کیمرہ مین محمد عارف شامل ہیں جب کہ زخمیوں میں اے ایس پی سہیل ظفر چٹھہ، فوٹو گرافر اظہر سہیل اور ایک ٹی چینل کے شاہد انجم شامل ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال میں چوبیس، لیاقت نیشنل ہسپتال میں تیس اور سول ہسپتال میں سترہ لاشیں لائی گئی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق جناح ہسپتال میں چوالیس، نیشنل ہسپتال میں بیالس، سول ہسپتال میں تینتیس، عباسی شہید ہسپتال میں چار اور آغا خان ہسپتال میں ایک لاش موجود ہے۔

کراچی بم دھماکہ
بم دھماکوں کی جگہ پر لاشوں کے ٹکڑے ہر جگہ بکھرے پڑے تھے

جناح ہسپتال میں ایک سو سے زائد زخمی موجود ہیں۔ شعبہ ایمرجنسی کی ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ پچاس فیصد سے زائد زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ ’زخمیوں کو سر اور گلے میں چوٹیں آئی ہیں جبکہ کے کچھ کو جسم کے نچلے حصے میں زخم آئے ہیں۔‘

کراچی سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق ایدھی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایدھی گاڑیوں نے دھماکے کے بعد تیس سے زائد لاشوں کو مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا ہے۔

اس سے قبل ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ جمعرات کی شب کراچی میں شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب سابق پاکستانی وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب استقبالیہ قافلے میں ہوئے۔ ہمارے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق پہلے ایک چھوٹا دھماکہ ہوا جس سے بھگدڑ مچی اور اس کے فوراً بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں زیادہ تر ہلاکتیں ہوئیں۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ دھماکے شاہراہ فیصل پر عوامی مرکز اور بلوچ کالونی پل کے درمیان کےعلاقے میں ہوئے۔ بینظیر جس ٹرک میں سوار تھیں اس کو بھی دھماکے سے نقصان پہنچا ہے اور اس کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی ہے۔

کراچی میں جناح ہسپتال میں لاشوں کے آنے پر وہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور وہاں موجود لوگ مشتعل ہو گئے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف نعرے لگانے لگے۔

خود کش حملہ؟
بینظیر بھٹو دبئی سے پاکستان کے لیے جاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں
 ایک سینئر پولیس افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکہ خود کش حملہ تھا اور پولیس کو خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے

دھماکے کے وقت بینظیر بھٹو ٹرک کے عرشے سے اتر کر نیچے ٹرک میں بنائے گئے خصوصی کمرے میں آرام کرنے گئی تھیں۔ انہیں فوراً وہاں سے اتار کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا جبکہ جلسہ گاہ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ بینظیر بھٹو محفوظ ہیں۔ مزار قائد کے علاقے کو جہاں بےنظیر کو ایک استقبالیہ جلسے سے خطاب کرنا تھا، خالی کرادیا گیا ہے۔ بعد میں بینظیر بھٹو کو محفوظ طریقے سے بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔

اس سے قبل طالبان نے بےنظیر بھٹو پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے کمانڈر حاجی عمر نے کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر پاکستان آ رہی ہیں تاکہ وہ ’مجاہدین‘ کے خلاف کارروائیاں کرسکیں لیکن اگر انہوں نے ایسے کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرح ان پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی عمر نے بتایا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ بینظیر بھٹو خود اپنی مرضی سے پاکستان نہیں آ رہیں بلکہ امریکہ کے کہنے پر آ رہیں ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی کافی وقت گزارا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر جنرل مشرف کی حکومت ہو یا بعد میں بےنظیر بھٹو کی حکومت بنتی ہے، ہماری جنگ تو دونوں کے خلاف جاری رہے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں حاجی عمر نے بتایا کہ بےنظیر بھٹو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرانے میں امریکہ کی کیا مدد کرینگی کیونکہ خود امریکہ اور پاکستان گزشتہ چھ سال سے اسامہ بن لادن کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں اور جس سے اب یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اسامہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

بینظیر بھٹو کا ایک پوسٹر
کراچی دھماکوں کے بعد خون میں لپٹا ہوا بینظیر بھٹو کا ایک پوسٹر

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد