BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوامی مجمع کی خوشیاں، بےوقت کی عید

 بینظیر
بینظیر بھٹو فرسٹ کلاس سے نکل کر اکنامی کلاس میں اپنے کارکنوں سے ملنے گئیں
تقریباً نو سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کرنے کے بعد جو بینظیر بھٹو کی چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک تھی وہ تیسری بار وزیراعظم بننے کی خوشی سے کم نہیں تھی۔

انیس سو ننانوے میں بطور ملزم جلاوطنی اختیار کرنے والی بینظیر بھٹو کا ایک فوجی صدر سے ’مفاہمت، کے باوجود اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی کے وقت چال ڈھال ایک ہیرو اور فاتح لیڈر کی طرح کی لگی۔

اٹھارہ اکتوبر کی صبح سے ہی پیپلز پارٹی کے حامی دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمع ہونا شروع ہوگئے اور اپنی قیادت کی طرف سے نعرہ بازی نہ کرنے کی ہدایات کی باوجود اراکین سندھ اسمبلی فرحین مغل اور شمیم آرا پنہور نے دھیمی آواز میں ’آئی آئی بینظیر۔۔ چھائی چھائی بینظیر، کے نعرے لگاتی رہیں۔

جب رحمٰن ملک نے وہاں موجود کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بینظیر بھٹو سکیورٹی کے پیش نظر دوسرے دروازے سے ہوائی اڈے میں جا چکی ہیں اور جس نے ان کے ساتھ جانا ہے وہ اپنا بورڈنگ پاس حاصل کریں تو ان کی یہ بات سن کر کافی کارکن رحمٰن ملک کوستے نظر آئے۔ ایک کارکن نے کہا کہ خدا کی شان دیکھو اب یہ بھی لیڈر ہیں!!

مسافروں کا ہجوم بھی بینظیر کو ایک جلسہ سا لگا

کچھ ہی دیر بعد بیشتر متعلقہ مسافر اکیس نمبر گیٹ پر پہنچے۔ جہاں آمنہ بٹر سمیت کچھ پیپلز پارٹی کے حامی امریکہ تو کچھ لندن اور دیگر یورپی شہروں سے بھی وہاں پہنچے ہوئے نظر آئے۔ کسی کے ہاتھ میں قرآن کا تحفہ تھا تو کسی کے ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ۔

سیاسی کارکن ہوں یا میڈیا کا کوئی نمائندہ، سب کی کوشش تھی کہ وہ بینظیر سے ملے لیکن انتظامیہ نے صورتحال بھانپتے ہوئے بینظیر کی آمد سے پہلے ہی جہاز میں سوار ہونے کا آخری اعلان کر دیا۔ جب بیشتر لوگ چلے گئے تو بزرگ یا بیمار لوگوں کو متعلقہ پرواز تک پہنچانے کے لیے ہوائی اڈوں میں چلنے والی الیکٹرک گاڑی پر بینظیر بھٹو کو لایا گیا اور وہ طیارے میں پرواز کے آخری وقت سے سات منٹ بعد یعنی مقامی وقت کے مطابق دس بجکر سات منٹ پر وہ سوار ہوئیں۔

ہوائی اڈے کے باہر اور اندر دبئی انتظامیہ کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے پیش نظر تو جیالے خاموش رہے لیکن طیارے میں پہنچتے ہی ادھم مچا دیا۔ جس کو جو سیٹ ہاتھ لگی وہ وہاں بیٹھ گیا۔

 کراچی میں بینظیر کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں حکومت کی جانب سے ہزاروں ، پیپلز پارٹی کی جانب سے بیس لاکھ اور میڈیا کے مطابق دو لاکھ کا مجمع ہونے کے دعوے اپنی جگہ لیکن بظاہر ایسا لگا کہ گزشتہ ایک دہائی میں اکٹھا ہونے والا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔

فضائی میزبانوں کی مہذب انداز میں منتیں سماجتیں جب کام نہیں آئیں تو مجبوراً پائلٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور انہوں بھی خاصی عاجزی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ طیارے میں نشستوں کی فراہمی توازن برقرار رکھنے کے اصول کو نظر میں رکھ کر کی جاتی ہے اور اگر توازن بگڑ جائے تو اڑان بھرنے اور اترتے وقت کوئی حادثہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن پائلٹ کی بات پر بھی کسی نے کان نہیں دھرا۔

آخر کار ’مرد مجاہد‘، ناہید خان نے نرم گرم لہجے میں جب بولنا شروع کیا تو حالات پرواز کی روانگی کے لیے موزوں ہوئے۔ لیکن اس وقت تک ستاون منٹ کی تاخیر ہوچکی تھی۔ طیارہ روانہ ہوا تو کچھ صحافیوں نے موبائل فون بند کر کے طیارے میں نصب سیٹلائٹ فون استعمال کرنے کی کوشش کی تو دنیا کی ایک بڑی ایئرلائن امارات کا یہ نظام بھی پاکستان کی ریاستی ایئر لائن پی آئی اے، کی ’لاجواب سروس‘ سے کم نہیں تھا۔

چھ بار کوشش کے باوجود جب سیٹ فون پر ’ کنکٹڈ‘ لکھا ہوا آیا اور آواز نہ سنائی دی تو متعلقہ عملے سے شکایت کے بعد جواب ملا کہ جہاز کا ’اینگل، ٹھیک ہونے کا انتظار کریں۔ پیسے کٹ گئے لیکن پونے دو گھنٹے کی پرواز میں لائن نہیں مل سکی۔

 بینظیر بھٹو سفید دوپٹہ، ہرے رنگ پر چھوٹے سفید پھولوں والی قمیض پہنے، آنکھوں میں کاجل لگائے، کندھے پر سندھی ثقافت کی ایک علامت اجرک رکھے، مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی جب نمودار ہوئیں تو ایک وقت پر انہیں کئی منٹ تک اپنے سر سے سرکا ہوا اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنا بھی یاد نہیں رہا۔

دوران پرواز جیالوں کے وقفہ وقفہ سے نعروں نے طیارے کے بجائے جلوس میں رہنے کا ماحول میسر کیے رکھا لیکن جب بینظیر بھٹو فرسٹ کلاس سے نکل کر اکنامی کلاس میں اپنے کارکنوں سے ملنے پہنچیں تو نعروں کا شور ڈسکو کلب کا منظر پیش کرنے لگا۔

بینظیر بھٹو سفید دوپٹہ، ہرے رنگ پر چھوٹے سفید پھولوں والی قمیض پہنے، آنکھوں میں کاجل لگائے، کندھے پر سندھی ثقافت کی ایک علامت اجرک رکھے، مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی جب نمودار ہوئیں تو ایک وقت پر انہیں کئی منٹ تک اپنے سر سے سرکا ہوا اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنا بھی یاد نہیں رہا۔

آٹھ برس سے زائد کارکنوں کے ہجوم سے علیحدہ رہتے ہوئے طیارے کے چار سو کے قریب مسافروں کا ہجوم بھی انہیں ایک ایسا جلسہ لگا کہ جس میں وہ اپنی بات مکمل کیے بنا جانا نہیں چاہتی تھیں لیکن پائلٹ کے کراچی میں تھوڑی دیر اترنے کے اعلان سے انہوں نے اپنی نشست پر جانا ضروری سمجھا۔

کراچی میں طیارہ رن وے پر کیا اترا اور ابھی بریک بھی پوری طرح نہیں لگ پائی تھی کہ سب سے پہلے نکلنے کے چکر میں جیالے دروازے کی طرف ایسے لپکے، جیسے کوئی باز اپنے شکار پر ٹوٹ پڑتا ہے اور افرا تفری کا یہ عالم بینظیر بھٹو کے طیارے سے باہر آنے تک وہی رہا جو سوار ہوتے وقت نظر آیا۔

سابق وزیراعظم کو کراچی ہوائی اڈے پر خاصا پروٹوکول ملا اور انہیں عازمین حج اور کارگو کے لیے استعمال ہونے والے پرانے ٹرمینل پر لے جایا گیا۔ باہر نکلے تو ایئر پورٹ پر سناٹا، ٹیکسی تک نہیں، کئی مسافر جناح ٹرمینل پر تو پریشان نظر آئے لیکن تھوڑے فاصلے پر پرانے ٹرمینل پر ’وزیراعظم بینظیر‘ کے فلک شگاف نعروں اورگزشتہ ایک دہائی کے سب سے بڑے عوامی مجمع کی خوشیاں بے وقت عید کے سماں سے کم نہیں تھیں۔

کراچی میں بینظیر کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں حکومت کی جانب سے ہزاروں ، پیپلز پارٹی کی جانب سے بیس لاکھ اور میڈیا کے مطابق دو لاکھ کا مجمع ہونے کے دعوے اپنی جگہ لیکن بظاہر ایسا لگا کہ گزشتہ ایک دہائی میں اکٹھا ہونے والا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔

ہوائی اڈے کے باہر جمع بعض بلوچ خواتین کا سنائی دینے والا ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، کا نعرہ اس استقبال کے بعد عجیب نہیں لگا۔

ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
بینظیر بھٹو بیس برس بعد
پاکستان میں زمینی حقائق بہت بدل چکے ہیں۔
بینظیر بھٹو ’مارئي ملیر جی‘
پرانی سنڈریلا کے پاؤں میں فوجی بوٹ
بینظیر بھٹو وہ نہتی لڑکی
’وہ بینظیراقتدار کی آلودگیوں سے پاک تھی‘
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد