’وہ نہتی لڑکی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ تو نہیں معلوم کہ کل دوپہر جب بینظیر بھٹو کا طیارہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے گا تو وہ کھڑکی سے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ سکیں گی یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر سب خیر خیریت رہی تو کئی برس بعد کراچی کو ایک بڑا پاکستان گیر جلوس اور جلسہ دیکھنے کو ملےگا۔ یہ وہی شہر ہے جہاں آج سے اکیس برس پہلے جب بینظیر بھٹو پانچ مئی انیس سو چھیاسی کو اتری تھیں تو پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد نے ان کا خیرمقدم کیا تھا۔ تو کیا کل بھی تاریخ خود کو دھرائے گی۔پیپلز پارٹی والے ابھی سے دس لاکھ کے مجمعے کا دعوٰی کر رہے ہیں اور کل چاہے جتنے بھی لوگ آئیں پیپلز پارٹی والے لگتا ہے کہ اپنے اس پیشگی دعوے پر قائم رہیں گے۔ لیکن یہ بھی تو ہے کہ پانچ مئی انیس سو چھیاسی اور اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کے درمیان اکیس برس حائل ہیں۔ان اکیس برسوں میں آنکھوں سے بہت سا پانی بہہ کر خشک ہوچکا۔ اکیس برس پہلے جو بینظیر کراچی میں اتری تھیں وہ اقتدار کی آلودگیوں سے پاک تھیں۔ وہ نہ تو اپنی مرضی سے جلاوطن ہوئی تھیں اور نہ ہی جنرل ضیاءالحق سے یقین دہانی حاصل کر کے پاکستان لوٹی تھیں۔ وہ تو صرف اپنے اس باپ کا عکس تھیں جس نے جان بچانے کے لیے بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اسی لیے لوگوں کے نعرے بھی مختلف تھے، یعنی بھٹو کی تصویر بینظیر، بھٹو کا قاتل امریکہ۔امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔فوجی آمریت مردہ باد۔ضیا الحق مردہ باد۔ لیکن امریکہ ، برطانیہ اور جنرل پرویز مشرف کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد کل دوپہر جو بینظیر کراچی ایئرپورٹ پر اتریں گی انہیں سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ ایک نعرہ سنائی دے گا یعنی وزیرِاعظم بینظیر۔ انیس سو چھیاسی میں جو بینظیر پاکستان آئی تھیں ان کا استقبال کرنے والے لاکھوں لوگ نہ تو ٹی وی اور اخبارات میں اشتہار دیکھ کر آئے تھے اور نہ ہی بیس ہزار پولیس والے ان کی حفاظت پر مامور تھے لیکن کل جو بینظیر عوام کے درمیان ہوں گی وہ ایک بلٹ پروف ٹرک پر مسلح محافظوں کے جلو میں چلیں گی اور بلٹ پروف گاڑی میں سفر کریں گی۔ کیونکہ انیس سو چھیاسی میں نہ تو القاعدہ تھی اور نہ ہی طالبان۔ القاعدہ والے سی آئی اے کی افغان جنگ لڑ رہے تھے اور مدرسوں کے طالبان پر بینظیر بھٹو کے مستقبل کے وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر کی نظر نہیں پڑی تھی۔ انیس سو چھیاسی میں پاکستان میں اترنے والی بینظیر کے لیے حبیب جالب نے کہا تھا |
اسی بارے میں کل ہی واپس جاؤں گی: بینظیر بھٹو17 October, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||