BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہ نہتی لڑکی‘

بینظیر بھٹو
’انہیں تواتر سے ایک ہی نعرہ سنائی دے گا،وزیرِاعظم بینظیر‘
یہ تو نہیں معلوم کہ کل دوپہر جب بینظیر بھٹو کا طیارہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے گا تو وہ کھڑکی سے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ سکیں گی یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر سب خیر خیریت رہی تو کئی برس بعد کراچی کو ایک بڑا پاکستان گیر جلوس اور جلسہ دیکھنے کو ملےگا۔

یہ وہی شہر ہے جہاں آج سے اکیس برس پہلے جب بینظیر بھٹو پانچ مئی انیس سو چھیاسی کو اتری تھیں تو پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد نے ان کا خیرمقدم کیا تھا۔

تو کیا کل بھی تاریخ خود کو دھرائے گی۔پیپلز پارٹی والے ابھی سے دس لاکھ کے مجمعے کا دعوٰی کر رہے ہیں اور کل چاہے جتنے بھی لوگ آئیں پیپلز پارٹی والے لگتا ہے کہ اپنے اس پیشگی دعوے پر قائم رہیں گے۔

لیکن یہ بھی تو ہے کہ پانچ مئی انیس سو چھیاسی اور اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کے درمیان اکیس برس حائل ہیں۔ان اکیس برسوں میں آنکھوں سے بہت سا پانی بہہ کر خشک ہوچکا۔

اکیس برس پہلے جو بینظیر کراچی میں اتری تھیں وہ اقتدار کی آلودگیوں سے پاک تھیں۔ وہ نہ تو اپنی مرضی سے جلاوطن ہوئی تھیں اور نہ ہی جنرل ضیاءالحق سے یقین دہانی حاصل کر کے پاکستان لوٹی تھیں۔ وہ تو صرف اپنے اس باپ کا عکس تھیں جس نے جان بچانے کے لیے بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

 امریکہ ، برطانیہ اور جنرل پرویز مشرف کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد کل دوپہر جو بینظیر کراچی ایئرپورٹ پر اتریں گی انہیں سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ ایک نعرہ سنائی دے گا یعنی وزیرِاعظم بینظیر۔

اسی لیے لوگوں کے نعرے بھی مختلف تھے، یعنی بھٹو کی تصویر بینظیر، بھٹو کا قاتل امریکہ۔امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔فوجی آمریت مردہ باد۔ضیا الحق مردہ باد۔

لیکن امریکہ ، برطانیہ اور جنرل پرویز مشرف کی یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد کل دوپہر جو بینظیر کراچی ایئرپورٹ پر اتریں گی انہیں سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ ایک نعرہ سنائی دے گا یعنی وزیرِاعظم بینظیر۔

انیس سو چھیاسی میں جو بینظیر پاکستان آئی تھیں ان کا استقبال کرنے والے لاکھوں لوگ نہ تو ٹی وی اور اخبارات میں اشتہار دیکھ کر آئے تھے اور نہ ہی بیس ہزار پولیس والے ان کی حفاظت پر مامور تھے لیکن کل جو بینظیر عوام کے درمیان ہوں گی وہ ایک بلٹ پروف ٹرک پر مسلح محافظوں کے جلو میں چلیں گی اور بلٹ پروف گاڑی میں سفر کریں گی۔

کیونکہ انیس سو چھیاسی میں نہ تو القاعدہ تھی اور نہ ہی طالبان۔ القاعدہ والے سی آئی اے کی افغان جنگ لڑ رہے تھے اور مدرسوں کے طالبان پر بینظیر بھٹو کے مستقبل کے وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر کی نظر نہیں پڑی تھی۔

انیس سو چھیاسی میں پاکستان میں اترنے والی بینظیر کے لیے حبیب جالب نے کہا تھا
یہ جنرل کرنل ڈرتے ہیں
ایک نہتی لڑکی سے
آج حبیب جالب بہت یاد آ رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو انیس سو چھیاسی میںبینظیر کا امتحان
انیس سو چھیاسی اور دو ہزار سات میں بہت فرق
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)بینظیر کی سیاست
اکیس سال کے سفر میں کیا کیاہوا؟
امین فہیمبینظیر کی واپسی
بینظیر تاریخ دہرانے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)مفاہمت کی بنیاد
بینظیر بھٹو کی واپسی یا مفاہمت کی بنیاد
بھٹوبینظیر کا استقبال
لیاری میں لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے۔
جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد