کل کی ماروی آج کی ایکٹریس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مارئي ملیر جی (مارئی ملیر کی)‘ یہ تھا وہ خطاب جو ایک نعرے کی صورت میں سندھ کے لوگوں نے بھٹو کی بیٹی کو انیس سو چھیاسی کو لمبی جلاوطنی سے واپسی پر دیا تھا۔ انیس سو چھیاسی کی بینظیر بھٹو اور دو ہزار سات کی بینظیر میں وہی فرق ہے جو ماروی اور ایک ایکٹریس میں ہے۔ اس نے انیس سو اسّی کی دہائي میں ستّر کلفٹن سے لندن جلاوطنی میں جاتے ہوئے اسکی طرف دوڑتے ہوئے چند صحافیوں کے ذریعے عوام کو کہلایا تھا ’میدان میں ملیں گے۔‘ وہ میدان میں ملی ضرور تھی لیکن ککری گراؤنڈ لیاری میں آصف زرداری کیساتھ اپنی شادی کے ولیمے میں۔ اور پھر وہ واقعی جلاوطنی سے اس ملک واپس آئی تھی جہاں، بقول ان کے ’تمام لوگوں کے سروں پر ضیاءالحق موت کی طرح منڈلا رہا تھا۔‘ سندھ کے لوگوں نے اسے ایک لمبی جلاوطنی سے واپس آنے پر ’مارئي ملیر جی‘ کا خطاب دیا تھا۔ وہ سندھی شاعری کی ایک اور سورمی بن گئي تھی۔ دور مشرق سے سورج ابھارنے کے لیے ایک اپنے جسم پر اوڑہی ہوئی کالی شال کے نیچے چھپائي ہوئی ڈھال اور ہاتھ میں چمکتی کڑکتی بجلی کی طرح تیزی سے تلوار چلاتی آتی ہوئي ایک دو شیزہ۔ یہ تھی انیس سو چھیاسی کی بینظیر جسے سب سندھی اپنی بہن کہتے۔ میں جب بھی اس بینظیر کا تصور کرتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ کس طرح اگست انیس سو چھیاسی کو ضیاءالحق کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت کے دوسرے راؤنڈ میں پورے شہر کراچي میں جگہ جگہ پولیس اور رینجرز کی برستی گولیوں اور آنسوگیس کے شیلوں سے نکل کر گھیرے اور محاصرے توڑتی ہوئی کھلی پیجارو میں لیاری جا پہنچی تھی اور پھر وہاں سے ستّر کلفٹن واپس آئي تھی۔ یہ شاید آج بھی پاکستان کے مرد سیاستدان نہیں کرسکیں۔ اور پھر جب اسی دن لاہور میں اس کے جلسے کی قیادت کرنے کےخلاف اس کی پنجاب کی حدوں میں داخل ہونے پر پابندی لگائي گئي تھی اور ملک سے لاہور جانے والے تمام راستوں پر ناکہ کر دیا گیا تھا تو وہ برقعہ پہن کر خیبر میل میں سندھ کے میرپور ماتھیلو ریلوے اسٹیشن سے سوار ہوئي اور کموں شہید پر سندھ اور پنجاب کی سرحد سے تمام رکاوٹیں توڑ کر پنجاب میں داخل ہوگئی تھیں۔ یہ وہ دن تھے جب بلا کسی سیاسی پارٹی کی تفریق کے ’نعرۂ بھٹو نعرۂ سندھ، جیے بھٹو چيۓ سندھ‘ لگا کرتا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ اگر وہ لاہور کے بدلے سندھ کے کسی ائرپورٹ پر اتری تو یہ نعرہ ’سندھو دیش‘ کے نعرے میں بدل سکتا ہے، لیکن سندھ تو پاکستان میں فوجی آمریت کے خلاف جمہوریت کا اگلا مورچہ تھا۔ تحریک بحالی جمہوریت میں فوج کے ہاتھوں گوٹھ احمد خان برہمانی اور پنہل چانڈیو یا طیب تھہیم اور لاکھاٹ میں مارے جانے والے لوگوں کو ’قومی مفاہمت‘ کے نام پرصلہ نہیں پر آرمی چیف مرزا اسلم کو تمغہ جمہوریت دیا۔ سادہ لوح سندھی کہتے ہیں ’ کیا کرے بچاری کو ابھی باپ جیسی ’چارچ‘ (چارج) نہیں ملی۔‘ جب حکومت اس کی ختم ہوئي تو کہا ’اسکا قصور نہیں کیا کرے شوہر کے آگے مجبور ہے۔‘ ’ہماری پاؤں میں چپلیں نہیں پر نظیراں سے کہنا وہ ٹی وی پر یونہی آتی رہے ہم اسے دیکھتے رہیں۔‘ سندھی کسان عورتیں کہا کرتیں۔ لیکن ہاتھوں شہروں میں سندھیوں کے قتل عام اور اس کے اپنے بھائي کے اسکے گھر کے سامنے قتل پر پہلی بار سندھیوں نے اس پر ’شک‘ کرنا شروع کیا اور وہ شک آج بھی برقرار ہے۔ چاہے کئي سندھی اسے اپنی ’بہن ‘ سمجھتے ہوں لیکن آصف علی زرادری کو اب بھی ’بہنوئی‘ بنانے پر تیار نہیں۔ آج جہاں کراچی میں اس کے ذوالفقارعلی بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ تصاویر کے بڑے بڑے پوسٹر اور ہورڈنگز لگے ہیں یہاں تک اس کے ساتھ پوسٹر اور ہورڈنگز بنوانے والے گھٹیا وڈیروں کی تصویریں تو ہیں لیکن مرتضیٰ، شاہنواز بھٹو یا نصرت بھٹو کی تصویر شاید ہی کہیں ہو۔ سندھ سے میرے دوستوں نے فون پر بتایا کہ جیالا ناچ رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کے لوگ راستوں پر ہیں، لیکن سندھ کا عوام اس میلے میں صرف تماشائی ہے۔ پورے ملک کا جیالا کراچی میں آیا ہے۔‘ لیکن مجھے سندھی عوام کے صرف تماشائی رہنے پر شک ہے۔ بدقسمتی سے بینظیر سندھی اور بھٹو کی بیٹی ہے اور اکثر سندھی اس کے روحانی مزراعے ہیں۔ ’پھر بھی سندھیانی ہے اور بھٹو کی بیٹی ہے‘ میں نے بہت سے سندھیوں کو کہتے سنا ہے۔ دوسری پارٹیاں اور انکے لیڈر اس سے بھی گئے گزرے ہیں لیکن میلوں کے شوقین سندھ کے عوام اس بار بینظیر بھٹو کو شاید ہی شک کا فائدہ دیں۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ پاکستانی ریاست جس بڑے بحران میں ہے اس میں اگر یہ سندھی لیڈر بھی شیر کے دانت نکالنے والی شرطیں پوری نہیں کرسکیں تو پھر کیا ہوگا۔ نیا غازہ ملے پرانی سنڈریلا اس بار کیا ایک پاؤں میں فوجی لانگ بوٹ پہن کر آئی گي جس کے تلے پھر سے آنے والی سندھ کی دھرتی ہوگي۔! |
اسی بارے میں کل ہی واپس جاؤں گی: بینظیر بھٹو17 October, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||