BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 05:02 GMT 10:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی واپسی اور پاکستانی اخبارات

اخبارات
ہر اخبار کی لیڈ بینظیر کی دوبئی میں کی گئی پریس کانفرنس ہے
لاہور سے شائع ہونے والے قومی اخبارات بینظیر بھٹواور ان کے استقبال کی خبروں تجزیوں اور تبصروں سے بھرے ہیں بہت کچھ ان کے حق میں جاتا ہے لیکن متعدد اخبارات ایسے ہیں جنہوں نے بے نظیر بھٹو کے بارے میں تیکھی خبریں لگائی ہیں۔

تقریباً ہر اردو انگریزی اخبار نے بینظیر کی واپسی اور ان کی دوبئی میں پریس کانفرنس کو اپنی لیڈ یا سپر لیڈ توبنایا ہے لیکن بعض اردو اخبارات نے سرخی بنانے کے لیے ان کے ایسے الفاظ کا چناؤ کیا ہے جو کسی نہ کسی طبقے یا حلقے کے پر ناگوار گذریں۔ مثال کے طور پر اردو روزناموں پاکستان، نوائے وقت اور خبریں کی سرخیوں میں بے نظیرکے یہ الفاظ نمایاں ہیں۔’پنجابی وزیراعظم کو معافی اور سندھی وزیر اعظم کو پھانسی‘، بےنظیر۔

ان خبروں کے ساتھ ہی وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا بینظیر کے انہی الفاظ پر ردعمل بے حد نمایاں شائع ہوا ہے۔ وزیراعلی نے ان کے ان الفاظ کو صوبائی تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ وزیراعلی کا بیان روزنامہ خبریں، پاکستان میں سپر لیڈ ہے، جنگ میں چار کالم جبکہ دیگر اخبارات میں تین کالم سے کم نہیں ہے۔

لاہور کے صحافتی حلقوں میں یہ بات ایک کھلے راز کی طرح ہے کہ پنجاب خاص طور پر لاہور کے قومی اخبارات پر صوبائی حکومت اور اس کے اشتہارات کا بے حد دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ وزیر اعلی کی خبر کو نمایاں جگہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وزیراعلی کا ردعمل شائع کرنے کے لیے بےنظیر کے ان الفاظ کو نمایاں کرنا مجبوری بن گیا ہو جن پر وزیر اعلی تبصرہ فرمانا چاہتے تھے۔

روزنامہ نوائے وقت کا جھکاؤ میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کی طرف سمجھا جاتا ہے۔ اس اخبار میں ایک تین کالم کی خبر ’معافی پھانسی سلسلے‘کی کڑی ہے۔

’ہمیں اغوا کرکے جلاوطن کیاگیا۔ سندھی وزیر اعظم کی راہ میں آنکھیں بچھائی جارہی ہیں‘، شہباز شریف۔

اسی اخبار نے اپنے اداریے میں بے نظیر کی واپسی پر یہ تاثر ابھارنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ڈیل کا نتییجہ ہوسکتی ہے۔اخبار لکھتا ہے ’جو پولیس اور انتظامیہ میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر ٹرانسپورٹروں کو تنگ کرنے، سڑکوں پر ٹرالر کھڑے کرنے، مسلم لیگ نون اور اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے میں مصروف تھی وہ اب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کےساتھ مذاکرات کررہی ہیں تاکہ استقبالی جلوس کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور تحفظ فراہم کرنے میں آسانی ہو۔‘ البتہ ساتھ ہی ساتھ اخبار یہ بھی کہتا ہے کہ حکومت نے رکاوٹ نہ ڈال کر معقولیت کا ثبوت دیا ہےاور یہ بھی کہ ان کےشاندار استقبال سے قومی سیاست کا جمود ختم ہوگا۔

بہرحال لاہور سے شائع ہونے والے اخبارات نے بینظیر کےحق میں بھی بہت کچھ شائع کیا ہے۔ تقریباً تمام اخبارات کے صفحہ اول پر بینظیر کی کوئی نہ کوئی ایک ایسی تصویر ضرور لگی ہے جس میں وہ مسکراتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بینظیر کے بارے میں خاص طور پر انگریزی اخبارات کا رویہ مثبت ہے۔
ڈیلی ٹائمز اور دی پوسٹ کی ہیڈ لائنز میں بے نظیر کے ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کے بیان کا ذکر ہے۔

ایک انگریزی اخبار کی تصویر میں خوشی میں کارکنوں کو بھنگڑا ڈالتے اور دوسرے کی تصویرمیں آتش بازی ہوتے دکھائی گئی ہے۔

اردو روزناموں جنگ اورڈیلی ایکسپریس کی شہ سرخیاں سیدھی اور بینظیر کے حق میں ہیں۔

معروف دانشور اور صحافی عباس اطہر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ’بینظیر کی واپسی حکومت کے گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گئی ہے کہ اگلی جا سکتی ہے نہ نگلی۔ ممکن ہے کہ اسے اپنے حال پر ہنسی آتی ہو جیسے کوئی آدمی چالاکی دکھاتے دکھاتے مذاق بن کر خود بھی ہنس پڑے۔‘

اخبارات میں نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی کارروائی بھی نمایاں ہے۔

اسی بارے میں
سیاسی مہم یا تشہیری مہم
17 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد