سیاسی مہم یا تشہیری مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے قبل شہر بھر میں جہاں پارٹی جھنڈے، بینرز اور بے نظیر بھٹو کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہیں وہاں اس سجاوٹ میں حصہ لینے والوں نے اپنی خدمات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ پی پی پی کا گڑھ سمجھا جانے والا علاقہ لیاری ہو یا پارٹی کا صدر دفتر بلاول ہاؤس یا شہر کا کوئی اور علاقہ، جا بجا بے نظیر بھٹو، ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور بعض مقامات پر ان کے شوہر کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔ یہ تصاویر مختلف ادوار کی ہیں لیکن ان سب میں یکساں بات یہ ہے کہ پارٹی کے ان کارکنوں اور ان رہنماؤں نے اپنی لیڈر کی تصویر کے ساتھ ہی اپنی بھی بڑی بڑی تصاویر اور ساتھ ہی اپنا تعارف بھی پیش کیا ہے کہ جنہوں نے ان تصاویر کی تیاری اور تنصیب کا خرچ برداشت کیا ہے۔ کئی ایک تصاویر میں بینظیر بھٹو کے مقابلے میں پارٹی رہنماؤں اور عہدیداروں کی تصاویر زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ دیکھنے والوں کو ان تصویروں میں عام کارکن تو کم ہی نظر آتے ہیں البتہ یونین کونسل کے ناظم سے لیکر ارکانِ اسمبلی، پارٹی کے ضلعی صدر اورر صوبائی اور مرکزی قائدین تک کی تصاویر اور تعارف ضرور مل جاتا ہے اور بیشتر تصاویر آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہشمند افراد کی جانب سے بھی آویزاں کی گئی ہیں۔ انتخابی امیدواروں نے اپنی تصاویر کے ساتھ ساتھ اپنے تعارف میں حلقہ انتخاب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق اس سجاوٹ کے خرچ کا بوجھ اٹھایا ہے۔ یوسی کونسلر اور ضلعی عہدیداروں نے اپنی قائد کے ساتھ اپنی تصاویر نصب کرانے کے لئے شہر کے چوراہوں، کھمبوں اور پلوں کا انتخاب کیا ہے تو بعض ارکان اسمبلی اور سینئر رہنماؤں نے ایئرپورٹ سے بلاول ہاؤس جانے والے راستوں پر نصب ہورڈنگس کرائے پر لی ہیں جو خاصی مہنگی ہیں۔ موئن جو دڑو سے اپنی قائد کے استقبال کے لئے کراچی آنے والے پی پی پی کے کارکن محب پیرزادہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود تو اپنی تصویر کے ساتھ پارٹی قائد کی تصویر کسی شاہراہ پر نہیں لگائی لیکن انہیں بہرحال یہ سجاوٹ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1986ء میں پاکستان واپسی پر اتنی بڑی تعداد میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر دیکھنے میں نہیں آتی تھیں اس کی وجہ وہ ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہیں جس نے تصویر کی تیاری کے عمل کو آسان اور نسبتاً سستا بنادیا ہے۔ ”پہلے دور میں ایک پینٹر کئی گھنٹے محنت کرکے تصویر تیار کرتا تھا لیکن اب تو جدید دور ہے چند منٹوں میں ہر سائز کی تصویر پرنٹ کرالی جاتی ہے۔‘ صحافی اور سماجی کارکن اسلم خواجہ لاہور اور حیدرآباد میں جنرل ضیاء کے دور میں وطن واپس آنے والی بے نظیر کے استقبال کے عینی شاہد ہیں۔ وہ ماضی کے مقابلے میں آج کے بے نظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریوں میں خاصا فرق بھی محسوس کرتے ہیں۔ ’ماضی کی تیاریاں مکمل طور پر کارکنوں نے خود کی تھیں لیکن اس مرتبہ زیادہ تر تیاریاں ان لوگوں نے کی ہیں جن کے پاس وسائل ہیں۔ پی پی پی کا کارکن بنیادی طور پر غریب آدمی ہے اور جو امارت کا کھیل ہے اس میں وہ کہیں نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ 1986ء میں پارٹی کے کارکنوں نے خود چاکنگ کی تھی لیکن اس مرتبہ کراچی اور حیدرآباد میں کسی ورکر کی کی گئی چاکنگ نظر نہیں آتی ہے بلکہ سو فیصد چاکنگ پیشہ ور پینٹرز کے ہاتھوں ہوئی نظر آتی ہے۔ اسلم خواجہ کے مطابق بڑی بڑی تصویریں پرنٹ کرانے کے لئے جدید پینافلیکس ٹیکنالوجی کا مارکیٹ ریٹ نوے روپے فی فٹ ہے اور روٹی، کپڑا اور مکان سے محروم لوگ پینافلیکس پر تصویریں نہیں بنواسکتے۔ ’وہ خود کو آگ تو لگاسکتے ہیں، ڈنڈے اور کوڑے بھی کھاسکتے ہیں لیکن وسائل کی اس دوڑ میں حصہ نہیں لے سکتے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریوں میں کارکنوں کی شمولیت نظر نہیں آرہی۔ ’یہ ایک سیاسی مہم سے زیادہ تشہیری مہم لگ رہی ہے۔‘ | اسی بارے میں بینظیرکا استقبال، قافلوں کی آمد15 October, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو: لیاری میں جوش و خروش 16 October, 2007 | پاکستان سفرٹرک پر،حفاظت جانثار فورس کا ذمہ17 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا استقبال: جیالوں کے قافلے17 October, 2007 | پاکستان مفاہمت ہو گئی، آرڈیننس کا انتظار ہے: بےنظیر04 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||