بلٹ پروف حصار میں بینظیر بھٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کی جمعرات کی دوپہر کراچی آمد پر سندھ حکومت نے ان پر القاعدہ یا طالبان کی جانب سے خودکش حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور ان کی آمد پر انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب پپلزپارٹی نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کی حفاظت کے لیے ایک خاص گاڑی بنائی گئی ہے۔ سندھ حکومت کے سیکریٹری داخلہ بریگیڈیر غلام محمد محترم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بینظیر بھٹو کی کراچی آمد پر زیادہ خطرہ خود کش حملے کا ہے جو القاعدہ، طالبان، بیت اللہ محسود گروپ یا مقامی گروپ کر سکتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے جہاز جن میں بم نصب ہوں بینظیر پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں یا بہترین نشانہ باز بھی دور سے رائفل سے حملہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کا مجمع زیادہ ہونے کے باعث کسی بھی گڑبڑ کے نتیجے میں بھگدڑ مچنے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں کئی افراد کی جانوں کے زیاں کا خطرہ ہے۔
غلام محمد محترم نے بتایا کہ جمعرات کو سیکیورٹی انتظامات اور امن و امان بحال رکھنے کے لیے پولیس اور رینجرز کو ملا کر بیس ہزار کی نفری تعینات کی جائے گی جس میں رینجرز پولیس کی مدد کے لیے ان کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں فوج کی مدد کی ضرورت کسی بھی مرحلہ پر نہیں پڑے گی کیونکہ خاطر خواہ نفری موجود ہے‘۔ ادھر پیپلز پارٹی کی مرکزی انفارمیشن سیکریٹری شیری رحمان نے پارٹی کی جانب سے سیکیورٹی کے انتظامات کے بارے میں بتایا کہ پارٹی نے ایک خاص گاڑی بنائی ہے جس میں بینظیر بھٹو زیادہ محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بینظیر کی آمد پر سیکیورٹی کا خطرہ ہے کیونکہ ان کو ہر قسم کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور القاعدہ اور بیت اللہ محسود کی جانب سے بھی دھمکیاں موصول ہوئیں ہیں‘۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو ممکنہ انتظامات ہو سکتے تھے وہ پارٹی نے کیے ہیں اور حکومتی اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ سابق وزیرِاعظم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کریں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا بینظیر بھٹو کو سکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے بلاول ہاؤس لے جایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات ابھی زیرِ غور نہیں آئی ہے۔
بینظیر بھٹو جمعرات کی دوپہر کراچی ائرپورٹ پہنچ رہی ہیں اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے بدھ کی شام تک شہر میں کوئی خاص سیکیورٹی کے انتظامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ البتہ ائرپورٹ پر شارع فیصل سے ٹرمینل ون کی جانب جانے والا راستہ پولیس نے گاڑیوں کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا ہے اور وہاں سڑک کے کنارے بڑے بڑے کنٹینرز بھی رکھ دیے گئے ہیں جو ممکنہ طور پر کل سڑک کو مکمل بند رکھنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ لاڑکانہ سے ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو کراچی آمد کے موقع پر ان کی حفاظت کے لیے ایک خاص قسم کا ٹرک بنوایا گیا ہے جو کہ بلٹ پروف ہے۔ سکیورٹی کے لیے تشکیل دی جانے والی پیپلز پارٹی کی خصوصی ٹیم کے رکن آغا سراج درانی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہ ایک بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہو کر استقبالی جلوس کی قیادت کریں گی اور اس ٹرک کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار رضاکار اور سینکڑوں پولیس اہلکار مقرر کیے جائیں گے۔
بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک خصوصی سیکیورٹی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ذولفقار مرزا، جنرل ریٹائرڈ احسان احمد، آغا سراج درانی اور عامر مگسی شامل ہیں۔ آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو ایک بڑے ٹرک پر سوار ہوں گی جسے بلٹ اور راکٹ پروف بنایا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر کی سواری کے لیے ٹرک کو خصوصی طریقے سے تیار کیا گیا ہے اور ان کے شیشوں کی دیواروں پر رائفل کی گولیاں، راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز مواد تجرباتی بنیادوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی ٹیم اور حکومت سندھ کے حکام کے درمیان اٹھارہ اکتوبر کے جلوس کو محفوظ بنانے کے حوالے سے پانچ مشترکہ اجلاس کراچی میں ہو چکے ہیں۔ بینظیر کی سکیورٹی ٹیم نے کراچی ایئرپورٹ سے براستہ شاہراہ فیصل مزار قائد تک پندرہ مقامات کی نشاندہی کی ہے جو اٹھارہ اکتوبر کو سیکورٹی رسک بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی کراچی آمد کے موقع پر اُن کو ’فول پروف‘ سکیورٹی مہیا کی جائے گی۔ یہ بات بدھ کو وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر (ر) جاوید چیمہ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ بریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ وزات داخلہ نے حکومت سندھ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس کے اعلٰی اہلکار میجر (ر) امیتاز حُسین کو بینظیر بھٹو کا سکیورٹی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود کی جانب سے بینظیر پر مبینہ خودکُش حملے کی دھمکی کے بعد حکومت پوری طرح چوکس ہے اور انہیں ہر طرح سے سکیورٹی مہیا کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت مانگی تھی جو کہ اُنہیں دے دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں بےنظیر کی آمد پر تخریبکاری کاخدشہ12 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر کی آمد پروگرام کے مطابق‘13 October, 2007 | پاکستان بینظیر فیصلوں کے بعد آئیں: مشرف12 October, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو: لیاری میں جوش و خروش 16 October, 2007 | پاکستان اندرون سندھ استقبال کی تیاریاں16 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی واپسی پتھر پہ لکیر 16 October, 2007 | پاکستان پنجاب، اسلام آباد سے قافلے روانہ16 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا استقبال: جیالوں کے قافلے17 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||