بینظیر کا طیارہ لینڈ کر گیا، کارکن ہوائی اڈے کے باہر منتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے دبئی روانگی سے قبل کہا ہے کہ دبئی سے کراچی تک کا فضائی سفر ان کے لیے علامتی طور پر ایک تاریخی سفر ہے اور کراچی میں ان کے انیس سو چھیاسی سے بڑا استقبال ہو گا۔ دبئی کے ایئر پورٹ پر جہاز پر روانگی سے قبل آخری لمحات میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے دعوی کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان کا استقبال کرنے کے لیے کراچی کے ہوائی اڈے پر دس لاکھ افراد پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ان کا استقبال انیس سو چھیاسی سے زیادہ بڑا ہو گا اور یہ لوگ جو کراچی کہ ہوائی اڈے پر جمع ہوئے ہیں وہ تبدیلی چاہتے ہیں، نجات چاہتے ہیں بے روز گاری سے، مہنگائی سے، غربت سے، غیر یقینی سے اور عدم تحفظ سے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے وقف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں غریبوں کی لیڈر ہوں، ان کے ساتھ جیؤں گی ان کے ساتھ مروں گی۔‘ دبئی سے کراچی جانے والی فلائٹ کے اندر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مسافروں اور پارٹی کارکنوں میں پیپلز پارٹی کے جھنڈوں کے رنگ والی ٹوپیاں تقسیم کیں۔ دبئی ایئر پورٹ سے آخری اطلاعات کے مطابق الامرات فضائی کمپنی کی پرواز ستاؤن منٹ کی تاخیر سے روانہ ہوگئی ہے۔ جہاز کراچی کے مقامی وقت کے مطابق دو بجے کے قریب جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے گا۔ دبئی کے ہوائی اڈے پر آصف علی زرداری اور ان کی دونوں صاحبزایوں بختاور اور آصفہ بینظیر بھٹو کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے جبکہ ان کی بہن صنم بھٹو ان کے ہمراہ پاکستان جا رہی ہیں۔ جہاز پر ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم بھی موجود ہیں۔ جہاز پر بینظیر کی آمد پر گو مشرف گو، بینظیر وزیر اعظم اور جئے بھٹو کےنعرے بلند کیئے گئے۔ دوسری طرف بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے پورے پاکستان سے پیپلز پارٹی کے حمایتی کراچی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور کراچی کی طرف آنے والی شاہراہوں پر ٹریفک جام کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے کارکنوں کے قافلے ائرپورٹ پہنچ چکے ہیں، جس وجہ سے شاہراہ فیصل مکمل طور پر آمدرفت کے لیے بند ہوگئی ہے۔ کارکنوں کی آمد کا سلسلہ رات کو ہی شروع ہوگیا تھا اور صبح تک ہزاروں گاڑیاں پہنچ گئی جس وجہ سے ائرپورٹ سے مرکزی شہر کی طرف جانے والی یہ سڑک بلاک ہوگئی ہے۔ کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہاتھوں میں پارٹی پرچم اٹھائے ہوئے ہے اور ترانوں پر رقص ہو رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق بینظیر بھٹو دوپہر ایک بجے ائرپورٹ پہنچیں گی جہاں سے وہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ایک جلسے عام سے خطاب کریں گے اور بعد میں اپنے گھر بلاول ہاؤس جائیں گی۔
کراچی میں جمعرات کو قومی شاہراہ سے لیکر سپر ہائی وے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر طرف کارکن ہی کارکن نظر آرہے تھے، شہر میں بھی عام تعطیل کا سماں ہے۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے بہت کم ہے۔ حکومت نے تعلیمی اداروں کی تعطیل کا اعلان کیا ہوا ہے، جبکہ سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری بھی کم ہے۔ بدھ کو دبئی میں بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ وہ پرامن طریقے سے ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گی اور اگر پرامن طریقے سے تبدیلی ممکن نہ ہوسکی تو ’گلی محلوں میں احتجاج کریں گے۔‘ بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں اپنی وطن واپسی کو مؤخر کرنے کے لیے ہر طرح سے دھمکایا گیا لیکن وہ ان دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس جا رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں اندرون سندھ استقبال کی تیاریاں16 October, 2007 | پاکستان سرحد سے پیپلز پارٹی کے قافلے16 October, 2007 | پاکستان پنجاب، اسلام آباد سے قافلے روانہ16 October, 2007 | پاکستان بینظیرکا استقبال، قافلوں کی آمد15 October, 2007 | پاکستان بینظیر: واپسی پر نظرِ ثانی کی تردید15 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر کی آمد پروگرام کے مطابق‘13 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||