بینظیر کا جلوس مزارِ قائد کی جانب رواں دواں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے مزارِ قائد کی جانب رواں دواں ہیں۔ایئرپورٹ سے اس جلوس کو روانہ ہوئے چھ گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے اور تاحال ایک اندازے کے مطابق ایک تہائی فاصلہ طے کیا جا سکا ہے۔ بینظیر بھٹو خصوصی طور پر تیار کیے گئے بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہیں لیکن وہ بلٹ پروف کیبن کی بجائے پارٹی رہنماوں کے ساتھ ٹرک کے عرشے پر کھڑے ہو کر کارکنوں کے والہانہ نعروں کا جواب دے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کی جانب سے اس جلوس کے شرکاء کی تعداد تین ملین کے قریب بتائی جا رہی ہے تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جلوس میں چار لاکھ کے قریب افراد موجود ہیں۔ مزارِ قائد پر بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے بنائے گئے سٹیج سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ بینظیر بھٹو پانچ چھ گھنٹے میں جلسہ گاہ پہنچ جائیں گی۔ تاہم پی پی پی کے مرکزی رہنما تاج حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو صبح چھ بجے تک ہی جلسہ گاہ پہنچ پائیں گی۔ جلوس میں شریک پارٹی کے کارکن ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر رقص کرنے والے ان کارکنوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ٹرک پر ان کے ہمراہ مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی سوار ہیں۔
آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بینظیر بھٹو جمعرات کی دوپہر پاکستانی وقت کے مطابق ایک بجے کر چھیالس منٹ پر دبئی سے امارات ایئر لائن کی پروار 606 سے کراچی پہنچیں تھیں۔کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر اور شاہراہ فیصل پر ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی منتظر تھی۔ پارٹی کی چیئرپرسن کا کراچی پہنچنے پر کارکنوں میں جوش و خروش دیدنی تھا۔ کراچی پہنچنے پر بینظیر بھٹو آب دیدہ ہو گئی تھیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔ میں اس وقت کی بہت دن سے منتظر تھی اور جب میں یہاں اتری تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ دن جس کا میں نے مہینوں، سالوں انتظار کیا ہے وہ آخرِ کار آ گیا ہے۔‘ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے سنہ 1986 میں اپنی واپسی سے تقابل کے سوال پر بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میں نے گزشتہ بیس برس میں میں بہت کچھ سیکھا ہے لیکن ہم اب تک آمریت سے لڑ رہے ہیں‘۔ بینظیر کی آمد کے موقع پر کراچی شہر خصوصاً ہوائی اڈے اور قائداعظم کے مزار اور بلاول ہاؤس تک پارٹی کے لاتعداد جھنڈے ، پوسٹروں اور بینروں سے سجایا گیا ہے۔ کراچی میں معمول کی زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہی گئی اور ٹرانسپورٹ اور بسیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں دفتروں تک نہیں پہنچ سکے جبکہ سکول اور تعلیمی اداروں میں عام تعطیل رہی۔
کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر اور شاہراہ فیصل پر موجود پارٹی کے کارکنوں اور حمایوں کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوی کیے جا رہے ہیں اور بینظیر کے استقبال کا انیس سو چھیاسی میں لاہور میں ہونے والے استقبال سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بینظیر بھٹو کا جلوس ابھی مزارِ قائد سے خاصا دور ہے تاہم مزارِ قائد پر پیپلز پارٹی کا جلسہ شروع ہوگیا ہے اور پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنماؤں کی تقاریر سے جلسے کی کارروائی کا آغاز ہوا ہے۔ جلسے کے آغاز سے قبل اور بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں پر ذوالفقار علی بھٹو کی تقاریر کی ریکارڈنگ چلائی جا رہی تھیں۔ مزارِ قائد پر بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے بنائے گئے سٹیج کے گرد سو فٹ کا ریڈ زون قائم کیا گیا ہے اور کسی کو بھی اس ایریا میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ پی پی پی کے رنگوں کی ٹی شرٹیں پہنے پارٹی کے سکیورٹی سٹاف کسی کو بھی سٹیج کے قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔ اس سے قبل دبئی کے ایئرپورٹ پر بینظیر بھٹو نے جہاز پر روانگی سے قبل آخری لمحات میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دبئی سے کراچی تک کا فضائی سفر ان کے لیے علامتی طور پر ایک تاریخی سفر ہے اور کراچی میں ان کا انیس سو چھیاسی سے بڑا استقبال ہو گا۔ بینظیر بھٹو نے دعوٰی کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان کا استقبال کرنے کے لیے کراچی کے ہوائی اڈے پر دس لاکھ افراد پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ان کا استقبال انیس سو چھیاسی سے زیادہ بڑا ہوگا اور یہ لوگ جو کراچی کے ہوائی اڈے پر جمع ہوئے ہیں وہ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، غیر یقینی اور عدم تحفظ سے تبدیلی اور نجات چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے وقف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں غریبوں کی لیڈر ہوں، ان کے ساتھ جیؤں گی ان کے ساتھ مروں گی۔‘ |
اسی بارے میں بینظیر: دو بجے تک کراچی آمدمتوقع18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب18 October, 2007 | پاکستان کراچی ایئرپورٹ کے راستے بند17 October, 2007 | پاکستان لاڑکانہ بینظیر کی آمد کا منتظر17 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا استقبال: جیالوں کے قافلے17 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||