BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب

جمعرات کو کراچی میں معمول کی زندگی شروع نہیں ہو سکی
پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں کرایہ پر حاصل کر لی ہیں اور شہر میں ٹرانسپورٹ کی کمی سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب پولیس اور رینجرز بینظیر کے جلوس کے راستے میں تو نظر آ رہی ہے تاہم شہر کے دیگر حصوں میں سکیورٹی نظر نہیں آئی۔

جمعرات کو کراچی میں معمول کی زندگی شروع نہیں ہو سکی جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں سڑکوں سے غائب ہیں۔ اس بارے میں ٹرانسپورٹرز کی یونین کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے بتایا کہ زیادہ تر بسیں پیپلز پارٹی نے کرایہ پر حاصل کی ہیں جس کے وجہ سے ٹرانسپورٹروں کے پاس بسیں کم ہیں اس لیے انہوں نے باقی بسیں کھڑی کردی ہیں۔

سڑکوں پر بسیں کم ہونے کی دوسری وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شارع فیصل بدھ کی رات سے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی سو سے زیادہ تعداد میں بسوں کے روٹ شارع فیصل سے گذرتے ہیں اور شارع فیصل کی بندش کی وجہ سے یہ روٹ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کسی طرح بھی خوفزدہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ بسیں ہم سے کرایہ پر حاصل کی گئی ہیں اور بسیں کم ہونے کی وجہ کسی بھی قسم کا دباؤ نہیں ہے‘۔

زیادہ تر بسیں پیپلز پارٹی نے کرایہ پر حاصل کی ہیں

ادھر قائدِاعظم کے مزار کے اطراف کئی بسیں پیپلزپارٹی کے ارکان اور حامیوں کو لے کر پہنچ چکی ہیں جہاں یہ لوگ ایک طویل عرصے انتظار کے بعد اپنی لیڈر کے دیدار کے لیے بےچین نظر آتے ہیں۔ لوگ اپنے ہاتھوں میں پی پی پی کے جھنڈے اور بینرز لیے ہیں اور ٹولیوں کی شکل میں سڑک کے کنارے بیٹھے صبح سے انتظار کی گھڑیاں کاٹ رہے ہیں۔

صوبائی انتظامیہ نے بینظیر بھٹو کے جلوس کے راستے میں ائرپورٹ سے مزارِقائد تک پولیس اور رینجرز کو تعینات کیا ہے صوبائی سیکریٹری داخلہ بریگیڈئر غلام محمد محترم نے بدھ کو کہا تھا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کو ملا کر بیس ہزار کی نفری تعینات کی جائے گی تاہم جمعرات کو کراچی کے دیگر علاقوں میں رینجرز، پولیس اور ٹریفک پولیس نظر نہیں آئی ہےجبکہ شہر میں کسی بھی طرح کی سکیورٹی کے آثار نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد