BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ

بینظیر
طالبان سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ’جہادی’ عناصر سے خطرہ ہے: بینظیر
حکومت سے مفاہمت کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر جس واحد خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ ہے سکیورٹی کا۔

خود بینظیر بھٹو بھی خود کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں اور اسی لیے حکومت سے بلٹ پروف گاڑیوں کی اجازت طلب کرتی رہیں جو انہیں با لآخر مل گئی۔

اس خوف کی فضا کی ذمہ داری بظاہر جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر بیت اللہ محسود سے منصوب اُس بیان کے بعد قائم ہوئی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر بینظیر بھٹو کی آمد پر خودکش حملوں کی دھمکی دی تھی۔

تاہم یہ بیان جس شخص کے ذریعے سامنے آیا، یعنی سینٹر صالح شاہ، تو انہوں نے اس کی فوراً تردید کر دی تھی کہ بیت اللہ نے ایسی کوئی دھمکی نہیں دی ہے۔ اس وضاحت کے باوجود بعض عناصر اس دھمکی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے۔

ان کی آمد سے ایک روز قبل ایک اور طالبان کمانڈر حاجی عمر نے ایک بیان میں کہا کہ بینظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر پاکستان آ رہی ہیں تا کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائیاں کرسکیں لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرح ان پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

اس بیان اور بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود سے ملاقات میں اندازہ ہوا کہ وہ فی الحال بینظیر بھٹو کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اگر وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی قبائلی علاقوں سے متعلق پالیسیاں جاری رکھتی ہیں تو صورتحال یقیناً تبدیل ہوسکتی ہے۔

مشرف کی طرح بینظیر پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں: حاجی عمر

مبصرین کے خیال میں بینظیر بھٹو کی جانب سے قبائلی علاقوں سے متعلق بعض متنازعہ بیانات کے سامنے آنے کے باوجود فی الوقت انہیں مقامی طالبان سے بظاہر کوئی خطرہ نہیں۔

طالبان ترجمان ذوالفقار محسود سے گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو کی واپسی سے متعلق بار بار سوالات کرنے کے باوجود مجھے وہ جواب میں ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیتے رہے جس میں بقول ان کے عورت کی حکمرانی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر تھا کہ مقامی طالبان ابھی بینظیر بھٹو کو حزب اختلاف کے دیگر سیاستدانوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

خود بینظیر بھٹو نے میڈیا سے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پاکستان میں طالبان سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ’جہادی’ عناصر سے خطرہ ہے۔

قبائلی علاقوں میں اس وقت جو منظم گروپ واضع طور پر سامنے نظر آ رہا ہے وہ بیت اللہ محسود کا ہے۔ ماضی میں بھی ان کی جانب سے یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ حکومت انہیں بےجا طور پر ہر حملے، ہر دھماکے اور خودکش حملہ کا ذمہ دار ٹہراتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ بھی بعض عناصر بظاہر انہیں بینظیر بھٹو کو ڈرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بعض مبصرین کے خیال میں حکومت سکیورٹی کو جواز بنا کر پیپلز پارٹی کو کراچی میں ریلی کو مختصر رکھنے پر مجبور کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہے۔

حالات جیسے بھی ہوں محترمہ بینظیر بھٹو خود بھی پاکستان میں کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد