آرمی افسر ذمہ دار ہیں: زرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر کے شریکِ حیات آصف زرداری نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بینظیر سے دھماکوں کے بعد بات کی ہے اور بہتر حال میں ہیں کیونکہ وہ مضبوط اعصاب کی خاتون ہیں اور وہ اس سے پہلے بھی خاصے دشوار حالات کا سامنا کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھٹو خاندان پر حملہ ہوا ہے۔ بینظر بھٹو کے شوہر نے کہا کہ ’انہوں نے اپنے والد کا قتل دیکھا ہے، اپنے بھائیوں کا قتل دیکھا ہے اور اپنے شوہر کو گیارہ سال تک جیل کاٹتے دیکھا ہے اور جنوبی ایشیا اور خاص طور پر اگر سیاست کرنی ہے تو اس کی بڑی قیمت دینا پڑتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے دوست زخمی ہوئے ہیں، ڈیڑھ سو کے قریب بچے شہید ہو چکے ہیں اور پانچ سو کے قریب زخمی ہیں اس کے پولیس اہلکار اور ایک صحافی بھی شہید ہو گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بینظر نے روانگی سے پہلے جنرل مشرف کو ایک خط کے ذریعے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو کس کس کو اس کا ذمہ دار سمجھیں گی۔ جب ان سے ان لوگوں کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اب تک ان لوگوں کے نام ظاہر نہیں کیے اس لیے وہ بھی ابھی ان کے نام نہیں لیں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ شدت پسندوں کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے پیچھے موجود ان لوگوں کو پاور سمجھتے ہیں جو انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں اور ان میں کچھ سابق آرمی آفیسر ہیں اور کچھ حاضر انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔ میں انہیں اس کا الزام دیتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو بینظیر ہی سے نہیں ہر اس آدمی سے خطرہ ہے جو جمہوریت کی بات کرتا ہے اور پھر الیکشن سر پر ہے اور حکومت کو بھی خطرہ ہو گا کہ انکوائریاں ہوں گی اور پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ سب کون کر رہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس کا تعلق بینظیر بھٹو کے اس بیان سے تو نہیں ہو سکتا جو انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف اور امریکہ کو پاکستان میں کارروائی کرنے بارے میں دیا تھا آصف زرداری نے کہا ’نہیں ابھی تو ہم اقتدار میں نہیں اور اس بات پر کوئی ری ایکٹ نہیں کر سکتا کہ کل کیا پالیسی ہو گی اس کا بہانہ بنا کر کوئی اور ری ایکٹ کر رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جس سکیورٹی میں ایک حملہ ہو اور اس میں ڈیڑھ سو آدمی ہلاک اور پانچ سو زخمی ہو جائے اسے آپ مناسب کیسے کہہ سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر کا جلوس، جیالوں کا جوش خروش18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ 18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا جلوس مزارِ قائد کی جانب رواں دواں18 October, 2007 | پاکستان بینظیر: دو بجے تک کراچی آمدمتوقع18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب18 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||