BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کا جلوس، جیالوں کا جوش خروش


پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد کراچی پہنچ گئی ہیں جہاں پورے ملک سے جمع ہونے والے کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود ہے۔

بینظیر بھٹو خصوصی طور پر تیار کیے گئے بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہیں لیکن وہ بلٹ پروف کیبن کی بجائے پارٹی رہنماوں کے ساتھ ٹرک کے عرشے پر کھڑے ہو کر کارکنوں کے والہانہ نعروں کا جواب دے رہی ہیں۔

جلوس میں شامل ہمارے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق سوا تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود بے نظیر کا جلوس کارکنوں کے اژدھام کے پیش نظر سٹار گیٹ تک نہیں پہنچا سکا۔


ٹرک پر ان کے ہمراہ مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی سوار ہیں۔

کراچی ایئر پورٹ اور شاہراہ فیصل پر پارٹی کے کارکنوں میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے اور وہ پارٹی کے گانوں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔

اس سے قبل کراچی پہنچنے پر بینظیر بھٹو آب دیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں انہوں نے ہوائی اڈے پر منتظر لوگوں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔کراچی پہنچنے کے بعد بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔ میں اس وقت کی بہت دن سے منتظر تھی اور جب میں یہاں اتری تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ دن جس کا میں نے مہینوں، سالوں انتظار کیا ہے وہ آخرِ کار آ گیا ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے سنہ 1986 میں اپنی واپسی سے تقابل کے سوال پر بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ’ میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میں نے گزشتہ بیس برس میں میں بہت کچھ سیکھا ہے لیکن ہم اب تک آمریت سے لڑ رہے ہیں‘۔

بینظیر کی آمد کے موقع پر کراچی شہر خصوصاً ہوائی اڈے اور قائداعظم کے مزار اور بلاول ہاؤس تک پارٹی کے لاتعداد جھنڈے ، پوسٹروں اور بینروں سے سجایا گیا ہے۔ کراچی میں معمول کی زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہی گئی ہے اور ٹرانسپورٹ اور بسیں نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں دفتروں تک نہیں پہنچ سکے جبکہ سکول اور تعلیمی اداروں میں عام تعطیل ہے۔

کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر اور شاہراہ فیصل پر موجود پارٹی کے کارکنوں اور حمایوں کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوی کیئے جا رہے ہیں اور بینظیر کے استقبال کا انیس سو چھیاسی میں لاہور میں ہونے والے استقبال سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔

وہ امارات ایئر لائنز کی پرواز نمبر ای کے 606 کے ذریعے دبئی سے کراچی پہنچیں۔ الامارات فضائی کمپنی کی پرواز ستاون منٹ کی تاخیر سے روانہ ہوئی اور بینظیر کا طیارہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق ایک بج کر پنتالیس منٹ پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔

News image
 یہ ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔ میں اس وقت کی بہت دن سے منتظر تھی اور جب میں یہاں اتری تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ دن جس کا میں نے مہینوں، سالوں انتظار کیا ہے وہ آخرِ کار آ گیا ہے۔

دبئی سے بینظیر کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم، ناہید خان اور رحمان ملک بھی آئے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق بینظیر بھٹو ایئرپورٹ سے ایک جلوس کے ساتھ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ایک جلسۂ عام سے خطاب کریں گی اور بعد میں اپنے گھر بلاول ہاؤس جائیں گی۔

اس سے قبل دبئی کے ایئرپورٹ پر بینظیر بھٹو نے جہاز پر روانگی سے قبل آخری لمحات میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دبئی سے کراچی تک کا فضائی سفر ان کے لیے علامتی طور پر ایک تاریخی سفر ہے اور کراچی میں ان کا انیس سو چھیاسی سے بڑا استقبال ہو گا۔

بینظیر بھٹو نے دعوٰی کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ان کا استقبال کرنے کے لیے کراچی کے ہوائی اڈے پر دس لاکھ افراد پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ان کا استقبال انیس سو چھیاسی سے زیادہ بڑا ہوگا اور یہ لوگ جو کراچی کے ہوائی اڈے پر جمع ہوئے ہیں وہ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، غیر یقینی اور عدم تحفظ سے تبدیلی اور نجات چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے لیے وقف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں غریبوں کی لیڈر ہوں، ان کے ساتھ جیؤں گی ان کے ساتھ مروں گی۔‘

دبئی سے کراچی جانے والی فلائٹ کے اندر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مسافروں اور پارٹی کارکنوں میں پیپلز پارٹی کے جھنڈوں کے رنگ والی ٹوپیاں تقسیم کیں۔
دبئی کے ہوائی اڈے پر آصف علی زرداری اور ان کی دونوں صاحبزایوں بختاور اور آصفہ بینظیر بھٹو کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے جبکہ ان کی بہن صنم بھٹو ان کے ہمراہ پاکستان آئی ہیں۔ جہاز پر بینظیر کی آمد پر گو مشرف گو، بینظیر وزیراعظم اور جئے بھٹو کےنعرے بلند کیے گئے۔

کارکنوں کی آمد کا سلسلہ رات کو ہی شروع ہوگیا تھا اور صبح تک ہزاروں گاڑیاں پہنچ گئی جس وجہ سے ائرپورٹ سے مرکزی شہر کی طرف جانے والی یہ سڑک بلاک ہوگئی ہے۔

کراچی میں جمعرات کی رات سے ہی قومی شاہراہ سے لیکر سپر ہائی وے تک پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن ایک بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔کراچی شہر میں بہت سی جگہوں پر لوگوں نے سارے دن سڑکوں پر بینظیر کے انتظار میں گزارا۔

بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
بینظیر بھٹو وہ نہتی لڑکی
’وہ بینظیراقتدار کی آلودگیوں سے پاک تھی‘
جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاریاںتشہیری سیاست
بینظیر بھٹو کی کراچی آمد پر تشہیری مہم کا آغاز
بینظیر تردید اور خدشات
بینظیر کی واپسی کچھ ہوا تو وزیراعلیٰ ذمہ دار
بھٹوبینظیر کا استقبال
لیاری میں لگتا ہے کہ ہر طرف بھٹو ہی بھٹو ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد