BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 23:41 GMT 04:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکوں کی وسیع تر مذمت

News image
شدت پسندوں کو اجازت نہیں دینگے
 وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کے لوگوں کو آزادنہ جمہوری عمل کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے سے روک سکیں
وائٹ ہاؤس

کراچی میں پی پی پی کی چئرپرسن کے استقبالیہ جلوس میں دھماکوں اور ہلاکتوں کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، وائٹ ہاؤس، سابق وزیراعظم نواز شریف، پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور پاکستان کے وزیراطلاعات محمد علی درانی نے مذمت کی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں مل کر یکجہتی کو مضبوط بنائیں گی۔

امریکہ نے کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں بم دھماکے کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ اس دھماکے کا مقصد اس ٹرک کو نشانہ بنانا تھا جس میں بینظیر بھٹو سوار تھیں۔

وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان کے لوگوں کو آزادنہ جمہوری عمل کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے سے روک سکیں۔

فرانس کے صدر نکولس سارکوزی نے فرانس کی جانب سے صدر پاکستان، سیاسی جماعتوں اور ہلاک ہونے والوں کے خاندان سے اظہار افسوس کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ’میں معصوم لوگوں کے خلاف تشدد کے استعمال اور پاکستانیوں کی جمہور کی آواز کو دبانے کی کوشش کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ میں ان خوفناک حملوں پر برطانیہ میں پاکستانی برادری کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔‘

اس دوران پاکستان کے وزیراطلاعات نے کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو خیریت سے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بوکھلاہٹ کے شکار عناصر کی کارروائی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائیگی اور انہیں عبرتناک سزائیں دی جائی گی۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں دھماکے پر گہرے رونج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دھماکے کی تفصیلات ٹیلی ویژن پر دیکھی ہیں اور انہیں جہاں اس بات کی خوشی تھی کہ پاکستان کی ایک سیاستداں واپس پاکستان پہنچ رہی ہیں وہیں اس دھماکے اور اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی کے بارے میں جان کر انہیں انتہائی شدید

سیکیورٹی فول پروف نہیں تھی
 حکومت کو ایسے حالات میں جس طرح کے فول پروف حفاظتی انتظامات کرنے چاہیں تھے وہ نہیں کیے گئے۔ جس کی وجہ سے اتنے بے گناہوں کی جانیں گئیں
نواز شریف
افسوس ہوا ہے اور ’میں اس بات کا یقین کر کے کہ محترمہ بلاول ہاؤس پہنچ چکی ہوں گی، انہیں فون کیا اور ان سے اس سانحے پر اظہارِ افسوس کیا۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ خدا ہلاک ہونے والوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو ایسے حالات میں جس طرح کے فول پروف حفاظتی انتظامات کرنے چاہیں تھے وہ نہیں کیے گئے۔ جس کی وجہ سے اتنے بے گناہوں کی جانیں گئیں۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد