BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 October, 2007, 19:32 GMT 00:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بےنظیر کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے، دو درجن سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

جمعرات کی شب کراچی میں شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب سابق پاکستانی وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکوں میں دو درجن سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ دھماکے شاہراہ فیصل پر عوامی مرکز اور بلوچ کالونی پل کے درمیان کےعلاقے میں ہوئے۔ بےنظیر جس ٹرک میں سوار تھیں اس کو اس دھماکے سے تھوڑا نقصان پہنچا ہے۔

کراچی میں جناح ہسپتال میں موجود ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کم سے کم سات لاشیں ہسپتال لائی جاچکی ہیں۔ جناح ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا جارہا ہے۔ متعدد افراد کی حالت کافی نازک ہے۔ اور وہاں موجود لوگ کافی مشتعل ہیں اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔

دھماکے کے بعد بےنظیر بھٹو کو ٹرک کے عرشے سے اتار لیا گیا ہے جبکہ جلسہ گاہ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار احمد رضا نے بتایا کہ لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا جارہا ہے کہ بےنظیر بھٹو محفوظ ہیں۔ مزار قائد کے علاقے کو جہاں بےنظیر کو ایک استقبالیہ جلسے سے خطاب کرنا تھا، خالی کرادیا گیا ہے۔

فوری طور کراچی کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ ایمبولنسیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ طبی اہلکاروں کے آنے سے قبل ہی لوگوں نے زخمیوں کو ہسپتال لے جانا شروع کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل طالبان نے بےنظیر بھٹو پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے کمانڈر حاجی عمر نے کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر پاکستان آ رہی ہیں تاکہ وہ ’مجاہدین‘ کے خلاف کارروائیاں کرسکیں لیکن اگر انہوں نے ایسے کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرح ان پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی عمر نے بتایا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ بینظیر بھٹو خود اپنی مرضی سے پاکستان نہیں آ رہیں بلکہ امریکہ کے کہنے پر آ رہیں ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی کافی وقت گزارا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر جنرل مشرف کی حکومت ہو یا بعد میں بےنظیر بھٹو کی حکومت بنتی ہے، ہماری جنگ تو دونوں کے خلاف جاری رہے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں حاجی عمر نے بتایا کہ بےنظیر بھٹو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرانے میں امریکہ کی کیا مدد کرینگی کیونکہ خود امریکہ اور پاکستان گزشتہ چھ سال سے اسامہ بن لادن کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں اور جس سے اب یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اسامہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
ہزارہا لوگ منتظر
بینظیر کا دبئی کراچی سفر اور استقبال
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
بے نظیر کی آمد
استقبالیہ پوسٹروں اور بینروں کی بھرمار
بی بی اور میڈیا
بینظیر کا پنجاب پر بیان اخبارات میں چھایا رہا
اسی بارے میں
بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ
18 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد