بارہ مئی کے بعد اٹھارہ اکتوبر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں نے جن خدشات کا اظہار کیا وہ سچ ثابت ہوئے ہیں۔ بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے قبل سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے تخریبکاری اور تصادم کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور بارہ مئی کو شاہراہ فیصل پر ہی سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی ہوئی جس نے چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور شہر میں کئی روز تک کشیدگی کا ماحول رہا۔ حکومت نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو آگاہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر تخریبکاری کے خدشات ہیں۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کو بتایا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خودکش اور راکٹ سے حملے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ائرپورٹ سے لیکر قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار تک تمام بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی تھی ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو فول پروف حفاظتی انتظام فراہم کیے جائیں۔ اس سے قبل بے نظیر بھٹو نے آمد سے پندرہ روز قبل اپنے انٹرویوز میں کہا تھا کہ القاعدہ ان پر حملہ کرواسکتی ہے کیونکہ القاعدہ عورت کی حکمرانی اور جمہوریت کی مخالف ہے۔ اس بار بھی خدشات پورے ہوئے اور انتظامات ایک مرتبہ پھر بھی اہورے ہی ثابت ہوئے۔ |
اسی بارے میں بینظیر کا جلوس، جیالوں کا جوش خروش18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ 18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا جلوس مزارِ قائد کی جانب رواں دواں18 October, 2007 | پاکستان بینظیر: دو بجے تک کراچی آمدمتوقع18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب18 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||