عادت بدلنا ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی جمہوریت کے دلدادہ ترقی یافتہ معاشروں نے یہ راز بہت پہلے جان لیا تھا کہ جمہوریت کا سفر سڑک پر لاکھوں کا مجمع اکھٹا کر کے بےشمار شہریوں کے روزمرہ کو متاثر کیے بغیر، پروازیں منسوخ کرائے بغیر اور پورے شہر کو ہزاروں پولیس والوں اور پرجوش رضاکاروں کی مدد سے قلعہ بند کیے بغیر بھی جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان معاشروں میں کیلنڈر کے حساب سے انتخابات ہوتے ہیں۔ ووٹر چھٹی کیے بغیر کام سے آتے یا جاتے ہوئے ووٹ ڈال دیتا ہے اور حکومت بدل دیتا ہے۔ لیکن اگر یہ ان جمہوری معاشروں کی کامیابی ہے تو اس کامیابی کے پیچھے ایک پورا نظام موجود ہے۔ یعنی عدالتیں آزاد ہیں۔ بیورو کریسی برسرِاقتدار جماعت کی اندھی آلہ کار نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیوں سے روزمرہ کی زندگی میں خلل نہیں ڈالیں گی۔ اگر کسی کو کسی علاقے میں جلوس نکالنا ہے تو اس کا ٹھوس جواز اور تفصیل فراہم کرنی ہوگی۔ پیشگی منصوبہ بندی میں مقامی انتظامیہ سے پورا تعاون کرنا ہوگا اور جو کچھ قانونی دائرے میں باہمی رضامندی سے طے ہوگا اس پر حرف بحرف عمل بھی ہوگا۔ بصورتِ دیگر کوئی بھی عام آدمی یا سرکاری عملدار معمولات میں بے جا دخل اندازی کا مقدمہ دائر کرسکتا ہے۔ اسی طرح کوئی جلسہ کسی بھی جگہ ازخود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے بھی مخصوص کھلی جگہ، عمارت اور ضابطہ ہوتا ہے۔ ان قواعد و ضوابط کو نہ تو کوئی سیاسی یا سماجی یا مذہبی گروہ آزادی اظہار یا اجتماع کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے اور نہ ہی اس ضابطے کو قابلِ تنقید گردانتا ہے۔
لہذا بڑے بڑے مذہبی و سیاسی جلوس نہ صرف سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں اور عام آدمی کے براہ راست رابطے کا ایک روایتی ذریعہ ہیں بلکہ گھٹے اور پسے ہوئے عام آدمی کے دل کا غبار نکالنے کا بھی ایک بڑا نفسیاتی راستہ ہیں۔ پیغام رسانی، غصہ نکالنے کا عمل اور طاقت کا مظاہرہ جب تک سڑک پر نہ ہو تب تک نہ تو رہنما مطمئن ہوتے ہیں اور نہ ہی عام آدمی کو لطف آتا ہے۔ لیکن اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں جو کچھ ہوا ہے اسکے بعد کسی بھی سیاسی قوت کے لیے اپنی شان و شوکت کے اظہار کا روایتی طریقہ ناممکن نہیں تو کھٹن ضرور ہوگیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آنے والے کئی برسوں کے لئے ملین مارچ، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور تا حدِ نگاہ سروں کا سیلاب جیسی اصطلاحات اور ڈھول ڈھمکے، رقص اور تماشے کا کلچر حسین یادوں میں بدلنے والے ہیں۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے اسے عوام تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے خود کومخصوص ہالوں، میدانوں اور اکیس انچ کی ٹی وی سکرین تک محدود کرنا ہوگا۔ سیاستدانوں اور انکے حامیوں کو یہ بات سمجھنا پڑے گی کہ آمنے سامنے ہاتھ ملائے بغیر، گلدستے پیش کیے بغیر اور جلسوں اور جلوسوں میں گلا پھاڑے بغیر بھی جمہوریت کا سفر جاری و ساری رکھا جاسکتا ہے۔ جلسے جلوسوں کے عادی رہنماؤں اور انکے چاہنے والوں کو یقیناً یہ تبدیلی شروع شروع میں پریشان کرے گی اور وہ خود کو بے مزہ بھی محسوس کریں گے۔ لیکن بکھرے ہوئے انسانی اعضا چننے، چیختے چنگھاڑتے ایمبولینس سائرن سننے اور مردہ خانوں کے باہر بین کرتے ہوئے لاشیں شناخت کرنے والے ہجوم کا حصہ بننے کے مقابلے میں یہ قیمت کچھ بھی نہیں۔ یہ بات بھی خود کو سمجھانے کی ہے کہ کوئی خودکش بمبار انسانوں کو تو اڑا سکتا ہے، بیلٹ بکس تک پہنچنے کی خواہش کو نہیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر کا جلوس، جیالوں کا جوش خروش18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ 18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا جلوس مزارِ قائد کی جانب رواں دواں18 October, 2007 | پاکستان بینظیر: دو بجے تک کراچی آمدمتوقع18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب18 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||