BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان، ہوتا ہے شب و روز تماشہ

الیکشن کمیشن
کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے روز وکلاء نے الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا
پاکستان بازیچۂ اطفال ہے، اس لیے یہاں شب وروز’ تماشے ہوتے رہتے ہیں‘۔ وہی لوگ یہاں خوش رہ سکتے ہیں جو ان تماشوں میں شریک ہونے یا فریق بننے کی بجائے بس ایک ذرا فاصلے سے کھڑے ان کا نظارہ کرتے رہیں۔

ایک ایسا ہی تماشہ جمعرات کو دیکھنے میں آیا۔ مجھے ایبٹ آباد سے اسلام آباد جانا تھا۔ دونوں شہروں کے درمیان کوئی ایک سو بیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے، پہلے یہ فاصلہ کوئی دو سوا دو گھنٹے میں طے ہوجاتا تھا، اب گاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے تو اڑھائی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

چنانچہ میں نے نو بجے ٹیکسی منگوائی کہ ساڑھے گیارہ بجے تک پہنچ جاؤں گا، ٹیکسی آدھ گھنٹے دیر سے آئی، مجھے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا کہ مجھے کم از کم وقت سے آدھ گھنٹے پہلے بلانا چاہئے تھا۔ بہرحال میں نے ٹیکسی والے سے جب اپنی اس بیوقوفی کا اظہار اس انداز میں کیا جیسے یہ اس کی بیوقوفی ہو تو اس نے مجھے تسلی دی کہ وہ مجھے وقت پر اسلام آباد پہنچا دے گا، اس مقصد کی خاطر اس نے عام سڑک کی بجائے ہری پور سے ایک ایسی سڑک لی جو بقول اس کے مقابلتاً مختصر تھی اور ٹیکسلا پرتاریخی جی ٹی روڈ سے مل جاتی تھی۔

جب ہم لوگ ٹیکسلا کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ سڑک بند ہے اور آگے نہیں جاسکتے۔ کیوں بند ہے یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ واپس ہری پور آئے اور حسن ابدال کے راستے جی ٹی روڈ پر چڑھ گئے۔ ذرا دور ہی گئے تھے کہ ٹرکوں کی ایک طویل اور بلند دیوار سڑک کے ساتھ ساتھ کھڑی ہے اور گاڑیاں واپس جارہی ہیں، میں نے ایک ڈی ایس پی صاحب سے جو گاڑیوں کو آگے جانےسے روک رہے تھے اس کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ حکام نے راولپنڈی اور اسلام آباد کا راستہ بند کر دیا ہے۔

جناب احمد رضا قصوری ایک چینل پر نمودار ہوئے تو ان کے چہرے پر کالک لگی ہوئی تھی

پھر واپس ہوئے اور برہان سے موٹروے لی اور خدا خدا کر کے اسلام آباد پہنچے اس وقت تک ڈھائی بج چکے تھے، یعنی ڈھائی گھنٹے کا سفر کوئی پانچ گھنٹے میں طے ہوا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ اس روز صدارتی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر رہے تھے۔

دو عہدوں کا فیصلہ

جمعہ کے روز معلوم ہوا کہ صدر مشرف کے دو عہدوں کے خلاف درخواستوں کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ اپنا فیصلہ سنانے والا ہے۔ ہر ٹی وی چینل اس کی لمحہ بہ لمحہ خبریں دے رہا تھا۔ ’جج حضرات مشورے کے لیے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ اٹارنی جنرل عدالت کے کمرے سے باہر کہیں گئے ہیں۔ فیصلہ دو بجکر پندرہ منٹ پر سنایا جائے گا۔ قانون کی کچھ اور کتابیں جج حضرات نے طلب کر لی ہیں، فیصلے میں تاخیر ہوگئی ہے وغیرہ وغیرہ‘۔

ایک چینل نے بڑی ایکسکلوسیو خبر نشر کی ’غیر مصدقہ ذریعوں سے معلوم ہوا ہے کہ فیصلہ صدر کے حق میں آ رہا ہے، اس دھما چوکڑی کے بعد بالآخر کوئی تین پونے تین بجے فیصلہ آیا کہ صدر صاحب اپنے دونوں عہدے رکھتے ہوئے صدارتی امیدوار ہو سکتے ہیں۔ پھر ہر چینل نے دونوں طرف کے وکلاء اور رہنماؤں کے انٹرویو لینے شروع کیے، جنہیں اصل وکیل انٹرویو دیتا اور باقی اس کوشش میں لگ جاتے کہ کسی طرح ان کا چہرہ بھی کیمرے میں آجائے۔

حزب اختلاف کے وکلاء اپنے انٹرویو میں دھمکی دے رہے تھے کہ’ کل سے دما دم مست قلندر ہوگا‘ سرکاری وکلاء تسلی دے رہے تھے کہ ’ عدالت کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہئے‘۔ ادھر صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی نے یہ

صدر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں
انکشاف کیا کہ صدر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور جب جنرل قریشی کے اپنے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا’انصاف کی فتح ہوئی ہے‘۔

وکلاء وکلاء کے درمیان

اس سے پہلے پیر کے روز اچانک سرکار کے ایک وکیل جناب احمد رضا قصوری ایک چینل پر نمودار ہوئے، ان کے چہرے پر کالک لگی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا جب وہ سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہو رہے تھے تو صوبہ سرحد کے ایک سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے ان کے چہرے پر کالے رنگ کا اسپرے کر دیا۔

احمد رضا قصوری تو قانون دان ہیں کسی کے ساتھ بھی ایسا سلوک ناروا ہے، لیکن پاکستان میں ایسے تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ کسی نے کراچی میں خواجہ نوید احمد کی پٹائی لگا دی، کسی نے راولپنڈی میں نعیم بخاری کی ٹھکائی کردی ، کراچی میں دو وکلاء کو قتل کر دیا گیا۔ ان کا شمار حکومت کے مخالفین میں ہوتا تھا۔

اب اگر آپ ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کریں گے تو یقینی دکھ ہوگا لیکن اگر یہ سوچ لیں کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں یہ سب روا ہے تو آپ کو کوفت ہونے کی بجائے لطف آئے گا۔

کل پاکستان جمہوری تحریک کا تماشہ

ایک دن معلوم ہوا کہ کل پاکستان جمہوری تحریک نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اس میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی انتیس ستمبر کو صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور ہوتے ہی اپنی نشستوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

اگر مولانا پھسلے تو پوری تحریک پھسل جائے گی

پھر پتہ چلا کہ مولانا فضل الرحمٰن اس سے متفق نہیں ہیں۔ پوری تحریک ہل گئی کہ اگر مولانا پھسلے تو پوری تحریک پھسل جائے گی۔ پھر معلوم ہوا کہ مولانا استعفے کے لیے تیار ہیں لیکن تاریخ سے متفق نہیں۔

بڑی رد و کد کے بعد وہ دو اکتوبر پر رضا مند ہوگئے اور اعلان ہوگیا کہ تحریک کے اراکین دو اکتوبر کو مستعفی ہوجائیں گے۔ اب یہ چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ دو اکتوبر میں کیا راز ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ محض اپنی ضد پوری کرانے کے لیے مولانا نے تاریخ بڑھوائی ہے، کسی کا کہنا ہے کہ مولانا دونوں طرف سے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔

ہمارے ایک دوست نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ بش کے خلاف القاعدہ قائم ہوئی تھی اور جنرل مشرف کے خلاف الفائدہ قائم کردی گئی ہے۔ بہر حال تادم تحریر یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں اور ہرآدمی اپنی بساط کے مطابق دو اکتوبر کا راز معلوم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین ، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
پاکستان ڈائری
نواز کے برعکس بینظیر کو نہیں روکا جائےگا
پاکستان ڈائری
’سوات میں فوجی وردی پہنتے ہوئے ڈرتےہیں‘
پاکستان ڈائری
عدالتوں پر بوجھ، مشرف کی مصالحتی کوششیں
اسی بارے میں
وکلاء تحریک نہیں رکے گی: کرد
29 September, 2007 | پاکستان
وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد