ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عدالت یہ دیکھ سکتی ہے کہ ایمر جنسی کے نفاذ کا جواز تھا یا نہیں اور اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ انیس سو اٹھانوے کو جب ایٹمی دھماکہ کیا گیا اور ایمرجنسی نافذ کی گئی تو یہ معاملا سپریم کورٹ میں آیا اور میرے سمیت گیارہ ججوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا تو جواز موجود ہے مگر بنیادی حقوق معطل کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے اور بنیادی حقوق بحال کردیئے گئے تھے۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے اس اعلان کہ پیر کو آرمی چیف نے ایمرجنسی نافذ کردی ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ آرمی چیف کو ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے، وہ ایک عام آدمی ہیں اور آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وہ وفاقی حکومت کے ملازم ہیں البتہ صدر کو آئین میں اختیار حاصل ہے کہ وہ ایمرجنسی نافذ کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے لیے دو شرائط ہیں، ایک تو ملک پر بیرونی حملے کا خطرہ ہو یا کسی صوبے میں ایسے حالات پیدا ہوجائیں جو صوبائی حکومت کا اختیار نہ رہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کے تحت صوبوں کے اختیارات وفاق کے پاس منتقل ہوجاتے ہیں، جو صوبائی قانون سازی ہوتی ہے وہ وفاق کرنا شروع کردیتا ہے سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کا اگر عدلیہ کے ساتھ کوئی تنازعہ ہے تو یہ کوئی جواز نہیں ہے کہ ایمرجنسی نافذ کردی جائے ۔ | اسی بارے میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری چیلنج 28 September, 2007 | پاکستان آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج08 October, 2007 | پاکستان جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج24 September, 2007 | پاکستان بینچ وکلاء کیلیے چیلنج: منیر ملک01 June, 2007 | پاکستان عاصمہ جہانگیر کی صوبہ بدری چیلنج 18 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||