عاصمہ جہانگیر کی صوبہ بدری چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی چئرپرسن اور سپریم کورٹ کی وکیل عاصمہ جہانگیر کی صوبہ بدری کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر ان وکلاء میں شامل ہیں جنہیں 12 مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ کراچی ائرپورٹ آمد کے کئی گھنٹوں بعد سندھ حکومت نے صوبہ بدر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کی جانب سے انسانی حقوق کمیشن کی وائس چئرپرسن برائے سندھ زہرہ یوسف نے عدالت عالیہ میں آئینی درخواست داخل کی ہے جس کی پیروی اقبال حیدر ایڈووکیٹ کررہے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بدری کا حکم بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے تحت جاری کیا گیا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے جمعہ کو صوبائی سیکرٹری داخلہ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کردیے ہیں اور درخواست کی آئندہ سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی ہے۔ | اسی بارے میں چیف جسٹس کے وکلاء ’صوبہ بدر‘12 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سائل18 April, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے ساتھ کب کیا ہوا؟18 April, 2007 | پاکستان جج چیف جسٹس کا ساتھ دیں:بار17 April, 2007 | پاکستان چیف جسٹس توہین، فرد جرم عائد 11 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||