ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہفتے کو ملک میں ایمرجنسی کے حکم کا متن درجہ ذیل ہے۔ ’کیونکہ شدت پسندوں کی کارروائیوں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں واضح طور پر تیزی آئی ہے، بشمول خودکش حملوں، بارودی سرنگوں کے دھماکوں، بم دھماکوں، راکٹ فائرنگ اور کئی شدت پسند گروہوں کے یکجا ہونے سے یہ کارروائیاں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں اور ان سے پاکستان کے شہریوں کی زندگیوں اور املاک کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔‘ کیونکہ سرکاری ڈھانچے اور قانونی نافذ کرنے والوں پر حملے ہو رہے ہیں۔‘ کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے کچھ ارکان شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مقننہ اور انتظامیہ سے متضاد سمت میں کام کر رہے ہیں جس سے ملک اور قوم کمزور ہو رہے ہیں اور اس وجہ سے مقننہ اور انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی غیر موثر ہو گئے ہیں۔ کیونکہ عدلیہ کے کچھ ارکان کی طرف سے حکومتی پالیسیوں میں مداخلت ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ کیونکہ عدلیہ کے کچھ ارکان کی طرف سے حکومتی پالیسیوں میں مداخلت ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ کیونکہ کار سرکار میں مستقل مداخلت ہو رہی تھی، جو کہ صرف انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں تک محدود نہیں تھی اور ان میں اقتصادی پالیسیاں، قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے اقدامات ، کارپوریشنوں کے حجم میں تخفیف، شہری منصوبہ بندی جیسے امور بھی شامل تھے، اس سے حکومت کی اختیارِ اعلیٰ کمزور ہوگئی تھی، پولیس فورس کے حوصلہ پست ہوگئے تھے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا اثر کھو رہے تھے اور خفیہ اداروں کی کارروائیاں ناکام ہوگئی تھیں اور انہیں دہشت گردوں کے تعاقب کرنے سے روکا جا رہا تھا۔ کیونکہ کچھ شدت پسند، انتہا پسند، دہشت گرد اور خود کش حملہ آور، جن کو گرفتار کیا گیا اور ان سے تفتیش کر جاری رہی تھی ان کو رہا کر دیا گیا۔ ان افراد کو جنہیں رہا کیا گیا بعد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوئے جس کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا۔ ملک میں اس سے شدت پسندوں کے حوصلہ بلند ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مایوسی کا شکار ہوئے۔ کیونکہ کچھ جج اپنے عدالتی اختیارات سے تجاوز کر رہے تھے اور انہوں نے انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ کیونکہ حکومت عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بلادستی پر یقین رکھتی ہے اور اعلیٰ عدلیہ کی عزت کرتی ہے اس لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ارکان اپنے دائرہ اختیار میں رہیں اور انتظامیہ کے اختیارات اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ کیونکہ ایک اہم آئینی ادارہ، سپریم جوڈیشل کونسل ایک حالیہ حکم کی وجہ سے بلکل غیر متعلق اور غیر موثر ہو کر رہے گیا تھا اور ججوں نے اپنے آپ کو کسی انکوائری سے ماوورا بنا لیا ہے اور وہ احتساب سے مبرا ہو گئے تھے۔ کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے چند ارکان کی طرف سے سرکاری اہلکاروں سے مقدمات کی سماعت کے دوران مستقل انتہائی ہتک آمیز رویہ روا رکھا جا رہا تھا جس کی وجہ سے اعلی حکام اور نوکرشاہی کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور وہ عدلیہ کی طرف سے ہراساں ہونے کے خوف سے کوئی اقدام نہیں اٹھا رہے تھے۔ کیونکہ ملک میں امن و اماں اور اقصتادی صورت حال متاثر ہوئی ہے اور اقتدارِ اعلیٰ کی تکون کمزور ہوئی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جہاں پر حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی تھی جیسا کہ آئین اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے کوئی حل پیش نہیں کرتا لہذا اس سے نکلنے کے لیے انتہائی اور ہنگامی اقدامات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ اور جیسا کہ اس صورت حال پر وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے گورنروں اور چیئر مین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمڈ فورسز، چیف آف آرمی اسٹاف اور پاک فوج کے کور کمانڈروں کے ساتھ اجلاسوں میں غور کیا گیا۔ اب اس غور خوص اور ان اجلاسوں میں لیے جانے فیصلوں کے تحت میں جنرل پرویز مشرف، چیف آف آرمی اسٹاف ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرتا ہوں۔ میں حکم جاری کرتا ہوں کہ پاکستان کا آئین معطل رہے گا۔ اور یہ حکم ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ | اسی بارے میں ’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ایمرجنسی، پی سی او نافذ، عبدالحمید ڈوگر نئے چیف جسٹس03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ03 November, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاجی تحریک کا اعلان03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||