گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اتوار کو ملک بھر میں سیاسی شخصیات، وکلاء کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب سے پہلے گرفتار کیے جانے والے شخص سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق وزیر داخلہ اعتزاز احسن تھے جنہیں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیاگیا۔ اعتزاز احسن جو صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کے مخالف امیدوار وجیہہ الدین احمد کی سپریم کورٹ میں وکالت بھی کر رہے تھے اپنی رہائش گاہ میں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب تھے جب قانون نافذ کرنے والوں نے انہیں حراست میں لیا۔ اسلام آباد
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے جنرل سیکرٹری اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق خواجہ آصف کو سیالکوٹ میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کو بھی اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ ان ججوں کو گلادستے پیش کرنےجا رہے تھے جنہوں نے عبوری آئینی آرڈر کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق حمید گل ججز کالونی میں جانا چاہتے تھے کہ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی اسلام آباد پولیس کے اہلکار انہیں گرفتار کرکے تھانے لے آئے۔ گرفتاری کے موقع پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حمید گل نے کہا ملک میں ایمرجنسی کے نام پر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ’جنرل پرویز مشرف پاکستان کا یہ حال کر سکتے ہیں تو وہ اپنے پرانے اُستاد کو گرفتار کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف ہر حد کراس کر رہے ہیں‘۔ اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ناکے لگاکر سڑکیں بند کردی ہیں جبکہ ججز کالونی کی طرف جانے والی سڑک کو بند کردیا گیا ہے اور کسی کو بھی ادھر جانے کی اجازت نہیں۔پولیس نے انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے دفاتر کے باہر پہرے لگا دیے ہیں۔ لاہور
عاصمہ جہانگیر خود بھی کل سے نظر بند ہیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تین ماہ کےلیے نظربند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے اور وکلاء برادری کی آمریت کے خلاف بھرپور تحریک میں بھرپور حصہ لیں گی۔ان کے بقول حکومت کی طرف سے نظربندی کے احکامات ان کی جدوجہد میں رکاوٹ پید ا نہیں کرسکتے۔ دریں اثناء مسلم لیگ نواز کے عہدیداروں کہا کہنا ہے کہ پکڑ دھکڑ کی سب سے بڑی کارروائی ان کے خلاف ہورہی ہے اور اب صو بے کے مختلف حصوں میں اب تک ان کے تین سو سے زائد کارکن گرفتار ہو چکےہیں۔گرفتاریوں کے اس عمل کے دوران پولیس کی جانب سے مسلم لیگی کارکنوں اور ان کے اہلخانہ سے بدسلوکی کی شکایات ملی ہیں۔ تاہم ابھی تک مجلس عمل اور پیپلز پارٹی کے کسی اہم لیڈر یا کارکنوں کی بڑی تعداد کے حراست میں لیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا گیا۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان سینچر کی شب زمان پارک میں واقع رہائش گاہ پر پہنچے تو ان کو پولیس نے نظربندی کے احکامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ کراچی
سندھ سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبہ بھر میں اے پی ڈی ایم میں شامل قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے تھے۔ پولیس اور رینجرز نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں رینجرز کے اہلکاروں نے قوم پرست رہنما اور عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ کوئٹہ اس کے علاوہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی، عبدالرحیم مندوخیل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ اور اختر لانگو کے علاوہ بلوچستان کے وکلاء کو نظر بند اور گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر پشتون نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور محمود خان اچکزئی کی نظر بندی کے خلاف سوموار کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ |
اسی بارے میں میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||