BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 04:45 GMT 09:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری

اعتزاز گرفتار ہونے والے پہلے سیاسی رہنما تھے
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اتوار کو ملک بھر میں سیاسی شخصیات، وکلاء کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب سے پہلے گرفتار کیے جانے والے شخص سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق وزیر داخلہ اعتزاز احسن تھے جنہیں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیاگیا۔

اعتزاز احسن جو صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کے مخالف امیدوار وجیہہ الدین احمد کی سپریم کورٹ میں وکالت بھی کر رہے تھے اپنی رہائش گاہ میں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب تھے جب قانون نافذ کرنے والوں نے انہیں حراست میں لیا۔

اسلام آباد
اسلام آباد میں بی بی سی کے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق پولیس نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائمقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے۔ ایس ایس پی اسلام آباد نےگرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ نقص امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔گرفتاری کے وقت جاوید ہاشمی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنرل مشرف کے دن گن چکے ہیں اور فوج کے سیاسی کردار کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔

جاوید ہاشمی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے جنرل سیکرٹری اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق خواجہ آصف کو سیالکوٹ میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کو بھی اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ ان ججوں کو گلادستے پیش کرنےجا رہے تھے جنہوں نے عبوری آئینی آرڈر کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق حمید گل ججز کالونی میں جانا چاہتے تھے کہ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی اسلام آباد پولیس کے اہلکار انہیں گرفتار کرکے تھانے لے آئے۔

گرفتاری کے موقع پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حمید گل نے کہا ملک میں ایمرجنسی کے نام پر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ’جنرل پرویز مشرف پاکستان کا یہ حال کر سکتے ہیں تو وہ اپنے پرانے اُستاد کو گرفتار کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف ہر حد کراس کر رہے ہیں‘۔

اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ناکے لگاکر سڑکیں بند کردی ہیں جبکہ ججز کالونی کی طرف جانے والی سڑک کو بند کردیا گیا ہے اور کسی کو بھی ادھر جانے کی اجازت نہیں۔پولیس نے انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے دفاتر کے باہر پہرے لگا دیے ہیں۔

لاہور

پولیس نے انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کو پریس کانفرنس کے دوران گرفتار کیا
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ حقوق انسانی کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ان کے سّتر کے قریب اہم سرگرم کارکنوں کو جن میں ڈاکٹر مبشر حسن اور سلیمہ ہاشمی بھی شامل ہیں گرفتار کیا گیا ہے اور کمیشن کا دفتر سیل کر دیا گیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر خود بھی کل سے نظر بند ہیں۔ انہوں نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تین ماہ کےلیے نظربند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے اور وکلاء برادری کی آمریت کے خلاف بھرپور تحریک میں بھرپور حصہ لیں گی۔ان کے بقول حکومت کی طرف سے نظربندی کے احکامات ان کی جدوجہد میں رکاوٹ پید ا نہیں کرسکتے۔

دریں اثناء مسلم لیگ نواز کے عہدیداروں کہا کہنا ہے کہ پکڑ دھکڑ کی سب سے بڑی کارروائی ان کے خلاف ہورہی ہے اور اب صو بے کے مختلف حصوں میں اب تک ان کے تین سو سے زائد کارکن گرفتار ہو چکےہیں۔گرفتاریوں کے اس عمل کے دوران پولیس کی جانب سے مسلم لیگی کارکنوں اور ان کے اہلخانہ سے بدسلوکی کی شکایات ملی ہیں۔ تاہم ابھی تک مجلس عمل اور پیپلز پارٹی کے کسی اہم لیڈر یا کارکنوں کی بڑی تعداد کے حراست میں لیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔

جنرل مشرف ہر حد کراس کر رہے ہیں:حمید گل

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا گیا۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان سینچر کی شب زمان پارک میں واقع رہائش گاہ پر پہنچے تو ان کو پولیس نے نظربندی کے احکامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

کراچی
کراچی میں ہمارے نامہ نگار عباس نقوی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن کو پولیس نے اتوار کے روز کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں واقع اُن کے گھر سے گرفتار کرلیا ہے۔ ابرار حسن کی بہو مسز حماد نے اُن کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یہ اُن کے گھر پر پولیس کا تیسرا چھاپہ تھا۔ابرار حسن کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ پولیس نے اُنہیں سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے اور بتایا کہ ابرار حسن کو 90 دن جیل میں گزارنے ہوں گے۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر زبیر خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ وکلا رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارے تھے۔

تین ماہ کےلیے نظربند
 عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی نظربندی کے اطلاعات کی تصدیق کی اور کہا کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے اور وکلاء برادری کی آمریت کے خلاف بھرپور تحریک میں بھرپور حصہ لیں گی۔

سندھ سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبہ بھر میں اے پی ڈی ایم میں شامل قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے تھے۔ پولیس اور رینجرز نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں رینجرز کے اہلکاروں نے قوم پرست رہنما اور عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

کوئٹہ
بی بی سی اردو کے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق پاکستان بار کونسل کے نائب صدر علی احمد کرد کو اسلام آباد سے کوئٹہ آتے ہوئے رحیم یار خان سے اٹھایا گیا ہے جن کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی، عبدالرحیم مندوخیل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ اور اختر لانگو کے علاوہ بلوچستان کے وکلاء کو نظر بند اور گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر پشتون نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور محمود خان اچکزئی کی نظر بندی کے خلاف سوموار کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

نظربندیاں گرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریوں اور نظربندیاں شروع
جسٹس ڈوگرجسٹس ڈوگر کون؟
جسٹس ڈوگر پییپلز پارٹی کے دور میں جج بنے
رینجرزہر طرف خاکی وردی
ایمرجنسی کے بعد اسلام آباد کا حال
صدر مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی کی افواہ
’سب کی نظریں عدالت کے فیصلے پر ہیں‘
سپریم کورٹایمرجنسی کی حیثیت
ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان
اسی بارے میں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد