BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 19:42 GMT 00:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘

جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں انگریزی میں بھی بات کی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی صورت حال اور عبوری آئینی حکم جاری کرنے کے بعد سنیچر کو رات گئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جہوریت کی مرحلہ وار بحالی کے عمل کو جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔

جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ عبوری آئینی حکم کے تحت ملک میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں، منتخب اداروں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو برقرار رکھا جائے گا۔

صدر مشرف نے اپنی تقریر کا زیادہ تر حصہ اعلیٰ عدلیہ کے رویہ پر اعتراضات پر صرف کیا اور صدارتی الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے ملک میں شدید غیر یقینی کی صورت حال پائی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر یقینی کی صورت حال کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورت حال ہر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے اور ملک اقتصادی انحطاط کا شکار ہو رہا تھا۔

جنرل مشرف نے جمہوریت کی تین مرحلوں میں بحالی کے بارے میں کہا کہ اس تسلسل میں کوئی خلل نہیں آئے گا لیکن انہوں نے منتخب اداروں کی مدت پوری ہونے پر تحلیل اور ملک میں عام انتخابات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

جنرل مشرف نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ ملک بہت خطرناک موڑ پر ہے اور اس کو اندرونی خلفشار اور بحران درپیش ہے جس کی وجہ سے اس کی سلامتی خطرے میں ہے۔

جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں لال مسجد کا بھی ذکر کیا

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو تکیف دہ فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ اس کو درپیش اندرونی خطرات سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے قوم سے ایک مرتبہ پھر وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام فیصلے ’پاکستان سب سے پہلے‘ کے اصول کی بنیاد پر لیں گے۔

عدلیہ کے علاوہ جنرل مشرف کو غیر سرکاری یا نجی ٹی وی چینلوں سے بھی شکایت تھی کہ ان کے بقول جو منفی رجحان کو تقویت دینے میں شریک ہوئے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ نومارچ کو انہوں نے وزیر اعظم کے کہنے پر ایک ریفرنس قانونی اور آئینی تقاضوں کے عین مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس پر سماعت کے دوران ریفرنس کے مندرجات پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سیاسی عناصر بھی گھس گئے اور ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا گیا۔

جنرل مشرف نے مزید کہا کہ انہوں نے اس فیصلے کو خوش اسلوبی سے قبول کیا اور ملک میں افہام و تفہیم کی فضا بحال کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے رویہ کی وجہ سے حکومتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ حکومتی اہلکار عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے ان کی بے عزتی کی جارہی تھی اور ان کو سزائیں دی جا رہی تھیں۔

جنرل مشرف نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک سوسے زیادہ از خود نوٹس پر دائر کیئے جانے والے مقدمات چل رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں زیر التواء ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر یہ درخواستیں حکومتی اداروں کے خلاف ہیں اور سرکاری اہلکاروں اور حکام کو سزائیں دی جا رہیں ہیں۔

جنرل مشرف نے کہا پولیس کے دو انسپکٹر جنرلوں سمیت کئی حکام کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

جنرل مشرف نے لال مسجد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ملک کو اور انہیں ذاتی طور پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانیں بچانا چاہتے تھے لیکن انہیں کارروائی کرنی پڑی۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ
03 November, 2007 | پاکستان
عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد