عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئینِ پاکستان معطل کرتے ہوئے بطور آرمی چیف ایک عبوری آئینی حکم جاری کیا ہے۔ عبوری آئینی حکم مجریہ تین نومبر سن دو ہزار سات کہلائے گا اور پورے ملک میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ عبوری آئینی حکم کے تحت بیشتر بنیادی حقوق معطل کیے گئے ہیں۔ بنیادی حقوق معطل کیے جانے کے بعد کسی شہری کو وجہ بتائے بنا غیر معینہ مدت تک زیر حراست رکھا جاسکے گا، ملزم کو پسند کے وکیل سے مشاورت کا حق نہیں رہے گا، اور چوبیس گھنٹے میں زیر حراست شخص کو کسی میجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری نہیں ہوگا۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف اور دیگر ایسے سنگین جرائم میں پہلے گرفتار شخص کو تین مہینے میں وفاقی نظر ثانی بورڈ کے سامنے پیش کرنا ہوتا تھا لیکن اب حکومت پر اس کی پابندی نہیں ہوگی۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بنیادی حقوق معطل کیے جانے سے لاپتہ افراد کی بازیابی ممکن نہیں رہے گی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت سیکورٹی ایجنسیز کو کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ آئین کے آرٹیکل پندرہ کسی بھی شہری کو ملک کے اندر آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور کہیں بھی سکونت اختیار کرنے کا حق دیتا ہے لیکن اب یہ آرٹیکل بھی معطل کر دیا گیا۔ آرٹیکل سولہ کے تحت غیر مسلح افراد کو اکٹھا ہونے اور پرامن احتجاج کا حق ہے بھی معطل کیا گیا ہے اور مظاہرے وغیرہ نہیں کیے جاسکیں گے۔ آرٹیکل سترہ کے تحت کسی بھی شہری کو یونین اور تنظیم سازی کا حق بھی معطل کردیا گیا ہے۔ جبکہ آرٹیکل انیس کے تحت حاصل اظہار رائے اور تقریر وغیرہ کی آزادی بھی معطل رہے گی۔ عبوری آئینی حکم کے تحت سینیٹ، قومی و چاروں صوبائی اسمبلیاں برقرار رہیں گی۔ عبوری آئینی حکم کے تحت سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ برقرار تو رہیں گے لیکن انہیں ایمرجنسی کے نفاذ، صدر وزیراعظم یا کسی اور مجاز حکام کے کسی فیصلے کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ تمام لوگ جو اس حکم سے پہلے فوج یا پاکستان کی کسی بھی سروس میں تھے وہ اپنی ملازمت جاری رکھیں گے اور بدستور ان کو ملنے والے اعزازیے اور دیگر مراعات اس وقت ملتی رہیں گی جب تک بحکم صدر ان میں تبدیلی نہ لائی جائے۔ صدر وقتاً فوقتاً عبوری آئینی حکم کے تحت آئین یا کسی بھی قانون میں تبدیلی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ عبوری آئینی حکم کے باوجود بھی معطل شدہ آئین کی اسلامی شقیں برقرار رہیں گی لیکن ججوں کو حلف عبوری آئین کے تحت لینا ہوگا۔ | اسی بارے میں ’نظریں عدالت کے فیصلے پر‘03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ03 November, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاجی تحریک کا اعلان03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان ’ہرمسئلہ بےیقینی کی کھونٹی پر لٹکا ہے‘03 November, 2007 | پاکستان پی آئی اے انجینیئرز کی ہڑتال ختم03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||