ملک میں گرفتاریاں نظر بندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنرل مشرف کی طرف سے ہنگامی حالات کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں سیاسی شخصیات، وکلاء کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب سے پہلے گرفتار کئے جانے والے شخص سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق وزیر داخلہ اعتزاز احسن تھے جنہیں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیاگیا۔ اعتزاز احسن جو صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کے مخالف امیدوار وجیہہ الدین احمد کی سپریم کورٹ میں وکالت بھی کر رہے تھے اپنی رہائش گاہ میں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب تھے جب قانون نافذ کرنے والوں نے انہیں حراست میں لیا۔ لاہور سے ہمارے نامہ نگار عباد الحق نے اطلاع دی ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو رات گئے ان کی رہائش گاہوں پر نظربند کردیا گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی نظربندی کے اطلاعات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کو نوے دن یعنی تین ماہ کےلیے نظربند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے اور وکلاء برادری کی آمریت کے خلاف بھرپور تحریک میں بھرپور حصہ لیں گی۔ ان کے بقول حکومت کی طرف سے نظربندی کے احکامات ان کی جدوجہد میں رکاوٹ پید ا نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی عمران خان کو ان کے گھر پر نظربند کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول عمران خان سینچر کی شب زمان پارک میں واقع رہائش گاہ پر پہنچے تو ان کو پولیس نے نظربندی کے احکامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ دریں اثناء حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے رہمناؤں اور کارکن کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمل کرلیں ۔ لاہور پولیس کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاسی کارکنوں کے ناموں کی فہرستیں تیار کرلیں گئی ہیں اور باضابطہ احکامات کے منتظر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان اور آئین کی معطلی کے بعد اپنی گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظر روپوش ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد لاہور کی مختلف سڑکوں پر حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے بینرز کو اتار دیا گیا ہے۔ سندھ سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبہ بھرمیں اے پی ڈی ایم میں شامل قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے تھے ۔ پولیس اور رینجرز نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں رینجرز کے اہلکاروں نے قوم پرست رہنما اور عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی مگر وہ گھر پر موجود نہیں تھے لاہور گئے ہوئے تھے ۔ کراچی کے علاقے گلشن جدید میں جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کے گھر پر بھی پولیس نے چھاپا مارا مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ پولیس نے شہر سے تحریک انصاف کے صوبائی صدر زبیر خان کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ وکلا رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارے تھے۔ پاکستان بار کے رہنما نور ناز آغا اور ملیر ڈسٹرکٹ بار کے رہنما ظہور حسن کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گلستان جوہر، بھٹائی آباد کے علاقوں میں مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا، اس سے قبل لیاری میں فائرنگ کی گئی۔ | اسی بارے میں میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||