جسٹس عبد الحمید ڈوگر کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان حلف لے لیا ہے اور یہ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں دوسرے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا ہے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر کو جن کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور سے ہے، پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر اپریل 2000 میں اس وقت سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت چھ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس ڈوگر سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل رہے جس نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کو نظریہ ضرورت کی بیناد پر جائز قرار دیا تھا اور جنرل پرویز مشرف کو قانون سازی کا اختیار تک دیا تھا۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر کا شمار سپریم کورٹ کے ان ججوں میں ہوتا ہے جن سے حکومت وقت کو کبھی پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رہے اور انہیں کے دور میں انتہائی متنازعہ بلدیاتی الیکشن منعقد کرائے گئے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر اس سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی ممبر تھے جس نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے جسٹس عبد الحمید ڈوگر پر الزام لگایا تھا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا جا چکا ہے۔ جسٹس عبد الحمید ڈوگر سپریم کورٹ کی سینارٹی لسٹ پر چوتھے نمبر پر تھے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس ، جسٹس اور جاوید اقبال کو سپریم کورٹ سے نکالے جانے کے بعد وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج بن گئے اور اس طرح پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں ایمرجنسی، پی سی او نافذ، عبدالحمید ڈوگر نئے چیف جسٹس03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||