جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ اکتوبر سن ننانوے اور تین نومبر سن دو ہزار سات میں بظاہر یوں کوئی فرق نہیں ہے کہ دونوں مرتبہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کے آئین کو معطل کیا اور عدلیہ کو سجدہ ریز ہونے پر مجبور کیا۔ لیکن حقیقتاً دیکھا جائے تو دونوں مواقع میں زمین اور آسمان کا فرق ہے اور یہی فرق فی الوقت پاکستان کے لیے وہ تاریخی موڑ بھی دکھائی دیتا ہے جہاں سے ایک راستہ شاید کل کے روشن پاکستان کے بے شمار امکانات لیے ہوئے ہے۔ اور دوسرا راستہ فوج کے قبضے میں محصور ایک ایسے بے بس پاکستان کی جانب جاتی اندھی گلی لگتا ہے جس میں یہ ملک خداداد شاید امریکہ اور برطانیہ کے سگِ نگراں کے طور پر کچھ عرصے رینگ سکے لیکن سولہ کروڑ عوام کی امیدوں کا مرکز بہرحال بننے کا اہل نہیں ہوگا۔ آٹھ برس پہلے جنرل مشرف نے جب پہلی بار آئین اور عدلیہ پر شب خون مارا تو اس وقت لوگ ایک منتخب لیکن کوتاہ اندیش مطلق العنان حکومت سے سخت بیزار تھے، اتنے بیزار کہ جنرل مشرف کے لیے بعض جگہوں پر تو مٹھائیاں تک تقسیم ہوئی تھیں۔
یہ وہ وقت تھا جب فوج اور اس کے متعلقات نفرت کا ہدف بننا شروع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی خودکش حملوں کا نشانہ۔ آٹھ برس پہلے فوجی نہ تو خوف اور نہ ہی شرم سے وردی پہنتے گھبراتے تھے۔ تاہم آٹھ برس بعد یہ صورتحال بالکل تبدیل ہوچکی ہے۔ اب فوج اور اس کے ادارے نہ صرف اپنے پالے جنگجوؤں کا اولین ہدف ہیں بلکہ ملک و قوم کی آرزوؤں کو بھی ڈیفنس سوسائٹیوں اور ان ہی جیسے دیگر مفادات کی بھینٹ چڑھانے اور امریکی ٹھیکیدار کا کردار ادا کرنے پر عوامی نفرت کا کھلا نشانہ بھی ہیں۔ وزیرستان اور سوات میں فوجیوں اور نیم فوجی دستوں کے ہتھیار ڈالنے کا پس منظر بھی یہی آٹھ برس ہیں اور باجوڑ، وزیرستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں فوجی اور غیرفوجی بربریت کی تفصیل بھی انہی آٹھ برسوں میں پوشیدہ ہے۔ لیکن آٹھ برس بعد کردار بے شک پرانا ہو، تناظر بالکل نیا ہے۔ آج پورے پاکستان میں محمد علی درانی کے سوا شاید ہی کوئی دوسرا پاکستانی مل سکے جو جنرل مشرف کی حمایت کر رہا ہو۔ رہی فوج تو سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کے یہ الفاظ بلاشبہ وزن رکھتے ہیں کہ جس فوج کے افسر وردی پہن کر پنڈی اور اسلام آباد میں اپنے دفتروں کو جاتے ڈریں، وہ تین لاکھ اٹھاسی ہزار مربع میل کے پاکستان پر مارشل لاء کیسے نافذ کریں گے۔
عبوری آئین کا حکم تو جنرل مشرف نے جاری کر دیا لیکن جس چیف جسٹس سے انہوں نے نو مارچ کو پیچھا چھڑانا چاہا تھا، انہوں نے اس تمام شب خون کو کالعدم قرار دیکر مستقبل کے لیے ایک بڑی مشکل پیدا کردی ہے۔ پندرہ نومبر کو اسمبلیوں کی مدت ختم ہو رہی ہے اور آئین کی معطلی سے ان کی مدت میں اضافے کی راہ بھی مسدود ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹوں کے تین چوتھائی ججوں نے جنرل مشرف کی تابعداری سے انکار کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اگر اخباری خبریں غلط نہیں ہیں تو سپریم کورٹ کے جج راجہ فیاض کی توقع بلاجواز نہیں ہے کہ اگر لوگ ایک جج کے پیچھے سڑکوں پر آسکتے ہیں تو پندرہ کے پیچھے کیوں نہیں آئیں گے۔ جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں سپریم کورٹ پر جتنے الزامات عائد کیے، نہ جانے انہیں یہ معلوم ہے یا نہیں کہ عدالت عظمٰی کے وہی اقدامات تو عوام کے لیے بہتر مستقبل کی امید کی کرن بن رہے تھے۔
موجودہ اسمبلیوں کی میعاد پندرہ نومبر کو تمام ہو رہی ہے اور ان اسمبلیوں سے جنرل مشرف اپنے تمام ماورائے آئین اقدامات کی توثیق چاہتے ہیں تو ماضی کے مجلس عمل کے مشکل کشاؤں کی عدم موجودگی میں انہیں کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے بینظیر بھٹو کا سہارا لینا ہوگا۔ یہ درست ہے کہ بینظیر نے ابھی تک کھل جنرل مشرف کے آئینی شب خون کی مذمت اور اس کی مزاحمت کا اعلان نہیں کیا، لیکن اب تک مفاہمت کے ڈول ڈالتی اور مقدمات معاف کراتی بینظیر کے لیے بھی اب یہ مشکل ہوگا کہ وہ بھٹو کی بیٹی ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی تاریخ کے سب سے کمزور فوجی آمر کے لیے اس حد تک جائیں اور تمام ماورائے آئین اقدامات پر مہر توثیق ثبت کردیں۔ نئے انتخابات اور اس کے نتیجے میں فوج کی پس پردہ حکمرانی کا مستقل انتظام کرنے کی تدبیر بھی یوں شاید کارگر نہ ہوسکے کہ جو کام فوج تمام تر موافق حالات اور نسبتاً نیک نامی کے ساتھ گزشتہ پانچ برسوں میں نہ کر سکی، وہ موجود حالات میں کیسے ممکن ہوگا۔ آخری اور شاید واحد قابل عمل راستہ جنرل مشرف کے لیے یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ ماضی کی ہی مانند بندوق کے زور پر نہتے پاکستانیوں کو ڈرانے کا سلسلہ جہاں تک چل سکے، چلائے جائیں۔ لیکن دل کی بات تو یہ ہے کہ اس بار تو یہ بات بھی زیادہ دن چلتی لگتی نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||