BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 17:20 GMT 22:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج ہوں،عدالت جاؤں گا: بھگوان
رانا بھگوان داس
آئین اور قانون کی رو سے میں آج بھی جج ہوں اور کل عدالت جاؤں گا: رانا بھگوان داس
پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سپریم کورٹ سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے چکا ہے اور وہ آج بھی اپنےآپکو’آئینی اور قانونی‘ لحاظ سے جج تصور کرتے ہیں۔



جسٹس رانا بھگوان داس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آج بھی سپریم کورٹ کے جج ہیں اور پیر کے روز عدالت میں جانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں عدالت نہ جانےدیا گیا تووہ واپس آ جائیں گے کیونکہ بطور جج وہ سڑکوں پر مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور اس کا تعین حالات پرہوگا۔

رانا بھگوان داس نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے تھےکہ حکومت آئین معطل کر دے گی اور ملک میں پی سی او کا نفاذ کر دیا جائے گا۔

جنرل مشرف کی طرف عدلیہ کو ملک میں جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کے بارے میں کہا کہ جنرل مشرف کے الزامات ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ الزام درست نہیں ہے۔عدلیہ آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہی تھی۔‘

سپریم کورٹ کے کچھ ججوں کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف لینے کےبارے میں رانا بھگوان داس نے کہا کہ ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، ہرایک کا اپنا ضمیر ہے اور اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

’میں اپنے کردار اور عمل سے مطمئن اور اگر غیر آئینی اقدام ہوتے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ اقدام لینے والے ہوتے ہیں ، ججز نہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد