BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 November, 2007, 20:32 GMT 01:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ایمرجنسی اور بوڑیشال بمباری

ایمرجنسی
ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بنگلہ دیش آتے ہوئے میرے اندر ایک کشمکش جاری تھی کہ میرا پاکستان تمام بری خبروں کے لیے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور میں ایک ایسے موضوع پرکام کرنے جا رہا ہوں جس کے بارے میں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ابھی آگہی کی ضرورت ہے۔ شدت پسند انسانی بموں کی مدد سے تاریخ کے پہیے کو الٹا چلانا چاہ رہے ہیں اور میں ان مسائل کو دیکھنے چلا ہوں جنہیں سمجھنے اور جن کے نمایاں اثرات مرتب ہونے میں شاید دہائیاں لگیں۔

بینظیر بھٹو کی ملک سے واپسی کی خبر نے آئندہ آنے والے دنوں کے حوالے سے اور بھی مایوس کردیا تھا۔ بی بی سی کے ڈھاکہ آفس میں بنگالی سروس کے دوستوں سے بات کرے ہوئے میں اپنی ذہنی کشمکش کے بارے میں ذکر کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں بھی سیاسی منظر ایسا ہی رہتا ہے۔ دکھ سانجھا لگا، لیکن میں نے انہیں کہا کہ فرق یہ ہے کہ بنگلہ دیش دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ نہیں ہے۔ ہمیں نائن الیون کے بعد امریکہ کے لیے ناگزیر جنرل مشرف اور خودکش بمبار ملے ہیں، دونوں کی پہنچ سے کوئی محفوظ نہیں۔

تین نومبر کو وہ خبر سننے کو مل گئی جس کا خدشہ تھا۔ جنرل مشرف نے بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا ہے، آئین معطل، چیف جسٹس برخاست اور پریس پابند۔

عملی طور پر یہ کمانڈو جنرل مشرف کی سویلین اداروں پر دوسری بڑی کارروائی ہے۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو متنازعہ حالات میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں نے منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں پابندِ سلاسل کردیا اور تین نومبر دوہزار سات کو انہوں نے ایک بار پھر اپنے عہدے کا فائدے اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک متحرک عدلیہ کو پا بہ زنجیر کر دیا ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ بتائی گئی ہے عدلیہ کی انتظامیہ سے ٹکراؤ کی روش اور شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ۔

News image
بنگلہ دیش فرنٹ لائن سٹیٹ نہیں
 بنگالی سروس کے دوستوں سے بات کرے ہوئے میں اپنی ذہنی کشمکش کے بارے میں ذکر کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں بھی سیاسی منظر ایسا ہی رہتا ہے۔ دکھ سانجھا لگا، لیکن میں نے انہیں کہا کہ فرق یہ ہے کہ بنگلہ دیش دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ نہیں ہے

نو مارچ کو آرمی ہاؤس راولپنڈی میں کئی جرنیلوں کے دباؤ کے باوجود جسٹس افتخار کے مستعفی ہونے سے انکار اور پھر وکلاء کی تحریک نے فوجی حکمرانوں سے ہر وقت تعاون پر آمادہ عدلیہ میں اپنے ماضی سے انحراف کی جرات پیدا کر دی تھی۔ ایمرجنسی کے نفاذ اور نئے پرویژنل کانسٹیٹیوشنل آرڈر کے بعد سپریم کورٹ اور چاروں صوبوں کی ہائیکورٹس کے سربراہوں میں سے صرف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ہی تابعداری کا مظاہرہ کیا ہے، ان کے ایک بھائی وفاقی وزیر ہیں۔

جسٹس افتخار پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے اور اب ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی اور تشریح نہیں کی جا سکتی سوائے اس کے کہ جنرل مشرف پر واضح تھا کہ اقتدار میں رہنے کے لیے انہیں غیر آئینی طریقۂ کار اختیار کرنا پڑے گا جس کی راہ میں ایک نسبتاً آزاد عدلیہ رکاوٹ ہے۔

جنرل مشرف کے آٹھ سالہ دورِ اقتدار کا اگر جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس دوران مذہبی انتہا پسند مضبوط ہوئے ہیں اور اس کی وجہ ان کا (جنرل مشرف) تیارکردہ وہ سیاسی نظام تھا جس میں بڑی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگایا گیا اور اس سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لیے مذہبی سیاسی جماعتوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان قائد حزب اختلاف نہیں بن سکتے تھے لیکن انہیں بنوایا گیا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ ’میں نہیں ہونگا تو طالبان نواز قوتیں اقتدار میں آ جائیں گی‘۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ حزب اختلاف کو اقتدار کی منتظر حکومت سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ کی طرف سے جنرل مشرف کے حالیہ اقدام پر جو پہلا ردعمل سامنے آیا ہے اس میں پریشانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بش انتطامیہ نے جنرل مشرف کو یہ احساس دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ وہ اس کے لیے کتنے ناگزیر ہیں۔ اس احساس کے بعد پاکستان جیسے ملکوں میں آمر وہی کچھ کرتے ہیں جو جنرل مشرف ’پہلے پاکستان‘ کے نعرے کے تحت ملک کے بمشکل سانس لیتے سویلین اداروں کے ساتھ کر رہے ہیں۔

بش انتظامیہ چاہ رہی تھی کہ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے اشتراک سے پاکستان میں ایک ایسا سیٹ اپ ترتیب دیا جائے جس سے اس کی دہشتگردی کے خلاف جنگ پر کوئی فرق نہ پڑے بلکہ اسے بینظیر بھٹو کی وجہ سے عوامی حمایت بھی حاصل ہوجائے۔

بینظیر بھٹو نے ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین معطل ہے تو مفاہمت کا عمل بھی معطل سمجھیں۔ جنرل مشرف سے شراکت اقتدار کے لیے بینظیر بھٹو جس حد تک آگے جاچکی تھیں اس پر انہیں پہلے ہی تنقید کا سامنا تھا اور موجود حالات میں تو ان کے لیے جنرل سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا ناممکن ہوگا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے فوراً بعد بینظیر کی وطن واپسی سے پاکستان کے جمہوریت پسند حلقوں کی ڈھارس یقیناً بندھی ہوگی اور میرے خیال میں ان کی

News image
وہ خبر جس کا خدشہ تھا
 تین نومبر کو وہ خبر سننے کو مل گئی جس کا خدشہ تھا۔ جنرل مشرف نے بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا ہے، آئین معطل، چیف جسٹس برخاست اور پریس پابند
یہ واپسی نو سالہ جلاوطنی ختم کر کے اٹھارہ اکتوبر کی وطن واپسی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ عوامی طاقت کے بل بوتے اور امریکی حمایت کی مدد سے وہی جرنیلوں کو پیچھے دھکیل سکتی ہیں، چاہے تھوڑا بہت ہی سہی۔

میں جس کشتی میں سوار ہوں وہ بنگلہ دیش کے شہر ’بوڑی شال‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بوڑی شال وہ مقام ہے جہاں تیس مارچ انیس سو اکہتر کو پاکستان ائرفورس کے طیاروں نے اس وقت کے مشرقی پاکستان پر بمباری کی تھی۔

 رانا بھگوان داس’آج بھی جج ہوں‘
’پیر کوعدالت جاؤں گا، پی سی آو غیر آئینی ہے‘
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
ایمرجنسی پر احتجاجایمرجنسی پر احتجاج
ہنگامی حالت کے نفاذ پر احتجاج اور گرفتاریاں
پولیس رکاوٹیںایمرجنسی کے بعد
ہنگامی حالت کے نفاد کے بعد پہلی صبح: تصاویر
اعتزاز احسن(فائل فوٹو)نظربندیاں وگرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریاں اور نظر بندیاں شروع
مائیکروفونخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
نظربندیاں گرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریوں اور نظربندیاں شروع
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد