BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 23:49 GMT 04:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عالمی برداری کو افسوس اور پریشانی
کس ملک کی طرف سے ایمرجنسی کی مذمت نہیں کی گئی
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ پر عالمی برداری کی طرف سے سامنے آنے والے رد عمل میں زیادہ ترممالک نے افسوس اور پریشانی کا اظہار کیا ہے اور ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر زور دیا ہے۔

امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزرائس نے جنرل مشرف کے اس اقدام کو افسوس ناک قرار دیا جبکہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اپنے رد عمل میں کہا کہ امریکی حکومت اس اقدام پر پریشان ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع نے کہا کہ جنرل مشرف کے اس اقدام سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اشتراک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

پینٹاگن کے ترجمان جیف مورل نے کہا کہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پاکستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ رابر گیٹس ان دنوں چین کے دورے پر ہیں اور جیف مورل ان کے ہمراہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو امریکہ کی طرف سے وزیر خارجہ کونڈولیزرائس دیکھ رہی ہیں اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا جنرل مشرف سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ان کا رابط کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس صورت حال پر شدید فکرمند ہیں۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس پر بھارت کو افسوس ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے جنرل مشرف کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نےبھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو جلد عوام کی حکمرانی اور جمہوریت کی طرف لوٹنا چاہیے۔

دولت مشترکہ ک سیکریٹری جنرل ڈون میکینن نے کہا ہے جنرل مشرف کا یہ اقدام غلط سمت میں ایک قدم ہے اور جمہوری عمل کا ایک شدید دھچکا ہے۔

سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلڈٹ نے خبردار کیا یہ اقدام ملک میں تشدد کو مزید ہوا دےگا۔ انہوں نے کہا کہ تشویش ناک ہے اور ایک پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

وائٹ ہاوس کے ایک ترجمان نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کو چاہیے کہ وہ ملک میں آزادانہ اور منصافہ انتخابات کرانے کے اپنے وعدے پر قائم رہیں۔

ترجمان نے جنرل مشرف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صدر کا حلف لینے سے قبل اپنی وردی اتار دینی چاہیے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے کہا کہ وہ پاکستان کی صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دریں اثناء بیرون ملک پاکستانی ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید اضطراب اور پریشانی کا شکار ہیں۔

امریکہ کے شہر نیویارک میں پاکستانیوں نے ایمرجنسی کی خبریں سنتے ہی ایک مظاہرہ کیا جس میں جنرل مشرف کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

اسی بارے میں
جسٹس عبد الحمید ڈوگر کون؟
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد