BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 23:57 GMT 04:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمرجنسی نہیں، مارشل لاء ہے‘

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو جمعرات کو واپس دبئی چلی گئی تھیں

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نہیں مارشل لاء نافذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے آئین کو معطل کیا ہے اور جب آئین معطل ہوگیا تو مفاہمت کا عمل بھی معطل ہوگیا ہے۔

یہ بات انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد وطن واپسی پر بلاول ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بینظیر بھٹو نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں مارشل لاء فوری طور پر ختم کیا جائے اور آئین اور سپریم کورٹ کو بحال کر کے بروقت منصفانہ الیکشن کرائے جائیں ورنہ پاکستانی عوام یوکرین کے عوام کی طرح سڑکوں پر آئیں گے۔

’یہ ہمارے لیے بہت تاریک دن ہے کہ اس قسم کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ ہمیں پہلے خدشہ تھا کہ ایمرجنسی نافذ کی جائے گی لیکن یہ تو ایمرجنسی سے بھی بدترین صورتحال ہے کیونکہ یہ تو مارشل لاء ہے ایمرجنسی نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایمرجنسی لگانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عدالت جنرل صاحب کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ سنانے والی تھی اور کیونکہ ایک فرد واحد کو عدالت کا فیصلہ قبول نہیں تھا اس لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی جماعت یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے عوام کے خلاف ہے۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ مسلح افواج نے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو گرفتار کرکے عدلیہ کی دوبارہ توہین کی ہے۔’اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوجائے گی اور کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اگر قانون کی حکمرانی کمزور کی جائے ہماری تو کوشش ہے کہ سول اور سیاسی اداروں کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ سول ادارے ہماری انتظامیہ کی قوت ہے اور سیاسی ادارے عوام کی قوت کا مظہر ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ پر حملہ ہوتا ہے تو یہ کسی بھی قوم کے اہم مفادات پر حملہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کریں گی اور ان سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ ہم احتجاج کریں اور عوام کے پاس جائیں۔‘

بے نظیر بھٹو نے مقررہ وقت پر منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات اس وقت تک منصفانہ نہیں ہوسکتے جب تک ملک میں مارشل لاء ہے کیونکہ آمریت اور جمہوریت ایک اسپیکٹرم کی دو انتہائیں ہیں جو اکٹھے نہیں چل سکتے۔‘

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ وہ اس پر احتجاج کریں گے کیونکہ پاکستان کے عوام مارشل لاء کو قبول نہیں کریں گے۔ ’یہ عوامی میدان سے بھاگنے کی کوشش ہے کیونکہ انتخابات کا وقت آرہا تھا اور الیکشن کو اسی دسمبر یا جنوری میں ہونا تھا اسی لئے مارشل لاء لگایا گیا ہے تاکہ انتخابات نہ ہوں اور عوام کو طاقت نہ ملے کیونکہ منصفانہ انتخابات ہوں گے تو عوام کو طاقت ملتی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جنرل مشرف سے مفاہمت کی کوششوں کا کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا کہ ’ہماری مفاہمت جمہوریت کے لیے تھی اس وقت جمہوریت نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ جب آئین کو معطل کیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ مفاہمت کو بھی معطل کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے بقول فرد واحد کی پشت پناہی کرنے کے بجائے پاکستان کے عوام کی پشت پناہی کرے۔ بینظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے قوم سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کا ایک جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ عدلیہ کے کچھ ارکان انتظامیہ اور مقننہ کے ساتھ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے سلسلے میں تعاون نہیں کررہے ہیں۔ ’یہ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے عبدالعزیز کی فیملی کو لال مسجد واپس دے دی تھی مگر اب سپریم کورٹ پر یہ داغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انتہاپسندوں کے پیچھے جو لوگ کارفرما ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی انتہا پسندی کے خلاف ہے لیکن جمہوریت کی بحالی کے بغیر انتہاپسندی کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عوام ہی ملک کا دفاع کرسکتے ہیں۔ ’اس وقت تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھ میں دیئے گئے ہیں وہ آئین کو تبدیل کرسکتا ہے اور اب اس نے آئین کو معطل کردیا ہے۔‘

بینظیر بھٹو نے کہا کہ پہلے سے ملک کو بہت سے خطرات لاحق ہیں اور اس اقدام سے ان خطرات میں اضافہ ہوگا اور اب پاکستان کی یکجہتی کو بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں سے ملنے دوبئی گئی تھی کیونکہ وہ اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد پریشان تھے۔ مگر جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ پاکستان میں ٹی وی چینلز کو بند کیا جارہا ہے تو وہ فوری طور پر وطن واپس آئی ہیں۔ ’میں پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کی حوصلہ افزائی بھی کرنا چاہتی تھی اور ان کو بتانا چاہتی تھی کہ مشکل دنوں میں میں آپ کے ساتھ ہوں۔،‘

ایمرجنسی پر الطاف حسین کا ردعمل
ادھر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین نے ایمرجنسی کے نفاذ پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ’عدلیہ کے بعض ججوں، وکلاء کے ایک گروہ اور میڈیا کے بعض عناصر کو اپنے اختیارات اور آداب و روایات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

سنیچر کی شب جاری کردہ ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ کوئی بھی جمہوری جماعت ایمرجنسی کے نفاذ پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتی اور ان کی جماعت کو بھی اس فیصلے پر افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے جنرل مشرف سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو ایمرجنسی کا خاتمہ کر کے آئین کو بحال کیا جائے۔

لیکن انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام ان وجوہات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیں جو ایمرجنسی کے نفاذ کا سبب بنیں۔ ’عدلیہ کے بعض ججز کو، وکلاء کے ایک گروہ کو اور میڈیا کے بعض عناصر کو اپنے اختیارات اور آداب و روایات سے نہ تو تجاوز کرنا چاہیے تھا اور نہ ہی جانبدارانہ اور متعصبانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔‘

الطاف حسین نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے خواہ جمہوری دور حکومت ہو یا مارشل لاء حکومت کا دور ہو ہر دور حکومت میں آئین و قانون سے ماوراء فیصلے کرنے سے کوئی سربراہ حکمران جماعت یا فوجی حکمران خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔

انہوں نے ملک کی تمام خرابیوں اور آئین و قانون سے ماوراء اقدامات کا ذمہ دار فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو قرار دیا اور کہا کہ مذہبی انتہاپسندی اور خودکش حملوں کا ارتقاء اور عروج بھی اسی فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا شاخسانہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک ملک کے عوام ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور غریب و متوسط طبقے کی حکمرانی اور ملک میں صحیح جمہوریت کے قیام کے لئے جد و جہد نہیں کریں گے اس وقت تک ملک میں ذاتی مفادات کی سیاست کا دور چلتا رہے گا اور ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہوگا۔‘

اسی بارے میں
بینظیر بھٹو واپس دبئی روانہ
01 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد